برطانیہ پاکستان کے مجرموں کی حوالگی کے کسی انفرادی کیس پر تبصرہ نہیں کر سکتا: ہمیش فالکنر
اشاعت کی تاریخ: 13th, December 2025 GMT
برطانوی پارلیمانی انڈر سیکریٹری آف اسٹیٹ برائے مشرقِ وسطیٰ، افغانستان اور پاکستان ہمیش فالکنر کا کہنا ہے کہ برطانیہ پاکستان کے مجرموں کی حوالگی کے بارے میں کسی انفرادی کیس پر تبصرہ نہیں کر سکتا۔
ہمیش فالکنر نے کہا کہ کریمنل ججمنٹ سیریس ایشو پر قانون توڑنے والوں کے خلاف پاکستان اور برطانیہ حکومتی سطح پر مل کر حل نکال سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ برطانوی حکومت مڈل ایسٹ کے لیے امدادی رقم کو پاؤنڈ ٹو پاؤنڈ میچ کرے گی، فلسطین کو ملک تسلیم کرنا بہت ضروری تھا، لندن میں فلسطینی سفارت خانے میں فلسطینی پرچم لہرانا اعزاز ہے۔
ہمیش فالکنز نے کہا کہ غزہ میں امدادی سامان پہنچانے میں اسرائیل سمیت کوئی بھی رکاوٹ نہیں بن سکتا، برطانیہ غزہ میں مکمل اور ہمیشہ کے لیے جنگ بندی کا حامی ہے۔
ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ برطانیہ پاکستان اور بھارت کے ساتھ تمام معاملات اور ایشو پر مکمل رابطے میں رہے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
ایرانی پاسداران انقلاب نے برطانیہ کو دھکمی دی ہے کہ اگر ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں ملوث ہوئے تو جارحیت کے استعمال ہونے والے کسی بھی بیس پر ہمارے حملے جائز ہوں گے اور برطانیہ کو اپنے ماضی کو مزید خراب نہ کرے۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق پاسداران انقلاب نے بیان میں کہا کہ برطانیہ نے ایران پر حالیہ امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں بڑا کردار ادا کیا ہے لہٰذا ہم برطانوی حکومت جو ہمارے خطے کے لوگوں کی تقدیر خراب کرنے کی بنیادی وجہ ہے، کو تنبیہ کر رہے ہیں کہ وہ اپنے ماضی پر مزید بوجھ مت ڈالیں۔
پاسداران انقلاب نے کہا کہ امریکی بحری فورسز بحیریہ ہند میں فعال ہے مگر ان کے کروز میزائل کا ذخیرہ ختم ہوگیا ہے اور اسی لیے وہ انگلینڈ آر اے ایف فیئرفورڈ سے بی ون بمبار استعمال کرنا شروع کردیا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ حملہ آور امریکی فوج جنگ کے آغاز کے بعد بحر ہند میں موجود اپنے بحری جہازوں سے کروز میزائل داغنے پر انحصار کر رہی تھی مگر ان جہازوں کے میزائلوں کا ذخیرہ ختم ہونے کے بعد کل برطانیہ کے فیرفورڈ فضائی اڈے سے پرواز کرنے والے بی ون طیاروں کے استعمال پر مجبور ہو گئی ہے۔
پاسداران انقلاب نے زور دیتے ہوئے کہا کہ جیسا کہ وزارت خارجہ کے عہدیداروں نے بھی واضح کیا ہے کہ ایرانی سرزمین کے خلاف استعمال ہونے والا کوئی بھی بیس ہمارے لیے نشانہ بنانے کے جائز ہدف ہوگا۔
مزید کہا گیا کہ برطانیہ کا اسلامی ممالک کی تقسیم، ان ممالک میں بڑے پیمانے پر قتل عام، آمرانہ حکومتوں کے قیام اور سب سے بڑھ کر فلسطین پر قبضے کو منظم کرنے اور اس کی سرپرستی کرتے ہوئے اسرائیل کے قیام جیسے سانحے کو جنم دینے کا ایک سیاہ ریکارڈ ہے۔
خیال رہے کہ پاسداران انقلاب کی جانب سے برطانیہ کو دھمکی ایک ایسے وقت میں دی گئی ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان لڑائی اپنے عروج پر ہے دونوں اطراف سے ایک دوسرے کی تنصیبات پر حملے کیے جا رہے ہیں۔
برطانیہ پہلے ہی نئے قانون کے تحت پاسداران انقلاب کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے چکا ہے جبکہ ایران نے اس اقدام کو جارحانہ قرار دیتے ہوئے جواب میں اسی طرح کا اقدام کرنے کا عزم ظاہر کر دیا ہے۔