انقلاب منچہ کے کنوینیئر پر حملہ: بنگلہ دیشی حکومت کا ملزم کی گرفتاری پر 50 لاکھ ٹکا انعام
اشاعت کی تاریخ: 13th, December 2025 GMT
بنگلہ دیش کی عبوری حکومت نے سیاسی پلیٹ فارم انقلاب منچہ کے کنوینیئر شریف عثمان بن ہادی پر حملے کے مرکزی ملزم فیصل کی گرفتاری میں مدد پر 50 لاکھ ٹکا انعام کا اعلان کر دیا۔
یہ اعلان داخلہ امور کے مشیر لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) محمد جہانگیر عالم چوہدری نے ہفتے کے روز سیکریٹریٹ میں امن و امان کی کور کمیٹی کے ہنگامی اجلاس کے بعد کیا۔
مزید پڑھیں: بنگلہ دیش پولیس نے انتخابی امیدوار پر حملہ آور شخص کی تصویر جاری کر دی
صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ حکومت شریف عثمان بن ہادی پر ہونے والے حملے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتی ہے اور اس واقعے کو انتہائی ترجیحی بنیادوں پر دیکھا جا رہا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہدایت دی گئی ہے کہ حملے میں ملوث تمام افراد کو فوری طور پر گرفتار کر کے انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔
جہانگیر عالم چوہدری نے کہاکہ ہمیں امید ہے کہ حملہ آوروں کو بہت جلد گرفتار کر لیا جائے گا۔ اس واقعے میں ملوث کسی بھی شخص کو بخشا نہیں جائے گا۔ انہوں نے عوام سے مکمل تعاون کی بھی اپیل کی۔
داخلہ امور کے مشیر نے اس حملے کو آئندہ قومی پارلیمانی انتخابات کو متاثر کرنے کی کوشش قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ انتخابی عمل میں رکاوٹ ڈالنے یا سبوتاژ کرنے کی کسی بھی کوشش کو حکومت سختی سے کچل دے گی۔
انہوں نے یہ بھی کہاکہ عبوری حکومت جولائی کی عوامی تحریک میں نمایاں کردار ادا کرنے والے فرنٹ لائن کارکنوں کی خصوصی سیکیورٹی یقینی بنانے کے لیے پُرعزم ہے، اور ان افراد کے لیے پہلے ہی خصوصی حفاظتی اقدامات نافذ کیے جا چکے ہیں۔
جہانگیر عالم چوہدری کے مطابق لوٹے گئے اور غیر قانونی اسلحے کی بازیابی کے لیے کارروائیاں جاری ہیں، جبکہ حکومت نے ملک بھر میں سیکیورٹی آپریشن فوری طور پر شروع کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔
مزید پڑھیں: بنگلہ دیش: جمہوریت دشمن کوششوں کیخلاف سیاسی جماعتوں کا اظہار یکجہتی
انہوں نے انعام کے اعلان کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ 50 لاکھ ٹکا کا یہ انعام خاص طور پر فیصل کی گرفتاری میں مدد فراہم کرنے والی معلومات کے لیے رکھا گیا ہے، جو عثمان ہادی پر حملے کا ملزم ہے۔
اس واقعے کے بعد بنگلہ دیش میں سیاسی حلقوں میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے، مختلف جماعتوں اور رہنماؤں نے اس حملے کو انتخابات سے قبل جمہوریت اور عوامی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews انعام کا اعلان انقلاب منچہ بنگلہ دیش ملزم گرفتاری وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: انعام کا اعلان انقلاب منچہ بنگلہ دیش ملزم گرفتاری وی نیوز بنگلہ دیش انہوں نے کے لیے
پڑھیں:
لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
کانگریس لیڈر نے کہا کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جسکی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو مبینہ طور پر پھٹکار لگائے جانے کے متعلق خبروں پر انڈین نیشنل کانگریس کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی حملے کی ہر کوئی مذمت کر رہا ہے، لیکن وزیر اعظم مودی اس پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ مغربی ایشیا میں جنگ کو روکنے کے لئے امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ ایسے کسی معاہدہ کا فوری اثر آبنائے ہرمز کے پھر سے کھلنے اور تیل کی قیمتوں پر دباؤ کم ہونے کے طور پر سامنے آئے گا اور ان دونوں معاملوں سے ہندوستان کے بڑے مفادات جڑے ہوئے ہیں۔
جے رام رمیش اپنی ایکس پوسٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جس کی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ خود صدر ٹرمپ نے بنجامن نیتن یاہو کو لے کر بے حد ناراضگی اور غصہ ظاہر کیا ہے، یہاں تک کہ نازیبا الفاظ کا بھی استعمال کیا ہے۔ کانگریس کے راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش کے مطابق دنیا کے کئی دیگر ممالک نے بھی لبنان میں اسرائیل کے حملے کی مذمت کی ہے۔
حیرانی کی بات نہیں کہ جس ایک حکومت کے سربراہ نے اسرائیل کے ذریعہ لبنان کو تباہ کرنے اور امریکہ-ایران معاہدے کو پٹری سے اتارنے کی کوششوں پر مکمل طور سے خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں، وہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ کیا نام نہاد فادر لینڈ ان کے لئے ان کے اصل مدر لینڈ سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔