برطانیہ: تمام خفیہ ایجنسیوں کو ایک پلیٹ فارم پر یکجا کرنے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 13th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251213-06-15
لندن (انٹرنیشنل ڈیسک) برطانوی افواج میں بڑی تبدیلی کرتے ہوئے تمام انٹیلی جنس سروسز کوایک ہی پلیٹ کے تحت متحد کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق برطانوی وزارتِ دفاع نے ملک کی تمام انٹیلی جنس سروسز کو ایک پلیٹ فارم پر متحد کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے ملٹری انٹیلی جنس سروسز ایم آئی ایس کی تشکیل کا اعلان کردیا۔ اس نئے سسٹم کا مقصد برطانیہ کے مخالفین کی جانب سے بڑھتے خطرات سے نمٹنے کے لیے بہتر حکمت عملی بنانا ہے۔ وزارت دفاع نے بتایا کہ نیوی، آرمی، ائر فورس، اسپیس کمانڈ اور پرمننٹ جوائنٹ ہیڈکوارٹرز اس نئے یونٹ کا حصہ ہوں گے۔ایم آئی ایس کا آغاز اسٹریٹجک ڈیفنس ریویو کی سفارشات پرکیا جارہا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
مظفرآباد: مہاجرین کی نشستیں آزاد جموں و کشمیر کی سیاست میں ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہیں، جہاں ان نشستوں کے مستقبل سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے اس معاملے پر نرم رویہ اختیار کرتے ہوئے مکمل خاتمے کے بجائے نشستوں کی تعداد میں کمی کی تجویز پر غور شروع کر دیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کی چھ نشستیں کم کرنے کی ابتدائی تجویز زیر غور ہے۔ اس پیش رفت کو انتخابی اصلاحات کے حوالے سے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس سے طویل عرصے سے جاری سیاسی بحث کو کسی نتیجے تک پہنچانے میں مدد مل سکتی ہے۔
اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت جلد آزاد کشمیر کی قیادت کو اپنے مؤقف سے آگاہ کرے گی۔ اس سلسلے میں وزیراعظم آزاد کشمیر کی جانب سے جوائنٹ پبلک ایکشن کمیٹی سے رابطے کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے تاکہ مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں کو اعتماد میں لیا جا سکے۔
دوسری جانب آزاد کشمیر میں انتخابی اصلاحات کے موضوع پر کل ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مہاجرین کی نشستیں کم کرنے کی تجویز پر اتفاق رائے پیدا ہونے سے انتخابی نظام میں اصلاحات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس معاملے پر مختلف سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مشاورت جاری ہے، جبکہ وفاقی حکومت بھی ایسا حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو تمام فریقوں کے لیے قابل قبول ہو۔
سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر اس معاملے پر اتفاق رائے پیدا ہو جاتا ہے تو یہ آزاد کشمیر کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔