لکس اسٹائل ایوارڈز: نامزد امیدواروں نے ایوارڈ کی شفافیت پر سوال اٹھادیا
اشاعت کی تاریخ: 13th, December 2025 GMT
لکس اسٹائل ایوارڈز میں نامزد دو شخصیات نے ایوارڈ شو کے انتخابی عمل پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔
معروف فوٹوگرافر محمد حسنین محمود اور ماڈل سلیمان حسین نے شو کے ججز کی طرف سے منتخب کیے جانے کے طریقہ کار پر تنقید کی ہے۔
بہترین فیشن فوٹوگرافی کے ایوارڈ کے لیے نامزد محمد حسنین محمود نے انسٹاگرام پر اپنی مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ کئی سالوں سے سخت محنت کر رہے ہیں، لیکن ہر بار ایوارڈ سے محروم رہنا افسوسناک ہے۔
انہوں نے ایوارڈز کے انتخابی عمل کو واضح کرنے کی درخواست کی اور کہا کہ اب وہ مزید پورٹ فولیوز جمع کرانے میں دلچسپی نہیں رکھتے۔
ماڈل سلیمان حسین نے بھی ایوارڈز پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے پورٹ فولیوز فراہم کیے، لیکن اس کے باوجود ایوارڈ ایک ایسے شخص کو دیا گیا جو پارٹ ٹائم ماڈل ہے۔
حسین نے کہا کہ اگر ایوارڈز میں انصاف نہیں ہو سکتا تو پورٹ فولیوز مانگنا بند کر دینا چاہیے۔
یہ تنازع اس سال کے لکس اسٹائل ایوارڈز کی تقریب کے بعد سامنے آیا، جو کراچی میں منعقد ہوئی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کہا کہ
پڑھیں:
ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا
سیالکوٹ(نیوز ڈیسک) ٹک ٹاکر حکیم بابر سے متعلق مبینہ زہر خوری کیس میں نامزد ملزم صفدر کے بھائی ملک سلیم کھوکھر کا ویڈیو بیان منظر عام پر آگیا جس میں انہوں نے تمام الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔
ویڈیو بیان میں ملک سلیم کھوکھر نے دعویٰ کیا کہ محمد افضل عرف حکیم بابر نے سوشل میڈیا پر ویوز حاصل کرنے کیلئے خود کو زہر خورانی کا شکار ظاہر کرنے کا ڈرامہ رچایا، اسپتال کی رپورٹ میں بھی یہ بات سامنے آئی ہے کہ حکیم بابر کو کسی قسم کا زہر نہیں دیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ حکیم بابر نشے کے عادی ہیں اور کسی مبینہ اوور ڈوز کے واقعے کو ان کے خاندان پر ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے، ان کے خاندان کا حکیم بابر کے ساتھ کسی قسم کا کوئی ذاتی تنازع یا دشمنی موجود نہیں۔
ملک سلیم کھوکھر انکشاف کیا کہ حکیم بابر کا اصل نام افضل ہے اور وہ کوئی مستند حکیم نہیں بلکہ تعلیمی طور پر بھی میٹرک پاس نہیں ہیں، جھوٹے مقدمے کی وجہ سے میرا خاندان شدید ذہنی دباؤ اور پریشانی کا شکار ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ رات کے وقت پولیس کی جانب سے دو بار گھر پر چھاپے مارے گئے، کو ہراساں مت کیا جائے۔
انہوں نے ڈی پی او سیالکوٹ اور آئی جی پنجاب سے اپیل کی کہ کیس کی شفاف اور میرٹ پر انکوائری کی جائے اور حقائق کی روشنی میں فیصلہ کیا جائے۔
مزید پڑھیں۔مشرق وسطیٰ کی صورتحال، خام تیل کی قیمتوں میں 2 فیصد اضافہ