این ایف سی ایوارڈ بھیک نہیں حق، آزاد کشمیر، جی بی کو فنڈز دیئے جائیں: نوازشریف
اشاعت کی تاریخ: 13th, December 2025 GMT
لاہور (نوائے وقت رپورٹ) مسلم لیگ (ن) کے صدر نواز شریف نے کہا ہے کہ این ایف سی ایوارڈ بھیک نہیں ہے یہ تو حق ہے۔ وزیراعظم سے کہوں گا کہ جی بی، آزاد کشمیر کو این ایف سی ایوارڈ کے تحت فنڈز دیے جائیں۔ لاہور میں آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے پارٹی رہنماؤں سے خطاب میں نواز شریف کا کہنا تھا کہ انتخابی ٹکٹوں کی تقسیم کیلئے میرٹ کا نفاذ بہت ضروری ہے۔ میرٹ ہی ہمیشہ ہمارا نصب العین رہا ہے، اس فیصلے کی خلاف ورزی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے کہاکہ ہمارا پارلیمانی بورڈ تمام امیدواروں کو سننے کے بعد ٹکٹ کا فیصلہ کرتا ہے اور ہمارا ہمیشہ دستور یہی رہا ہے کہ پارٹی ٹکٹ میرٹ پر دیا جائے۔ پاکستان کے قومی الیکشن ہوں یا کسی صوبے کے ہم نے میرٹ پر کبھی سمجھوتا نہیں کیا۔ پرانے ساتھیوں کو میرٹ پر ٹکٹ دیا جائے۔ ہر امیدوار کو سنا جائے گا۔ میرٹ پرفیصلہ ہوگا۔ پارٹی کے اصولوں پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا جائے گا۔ بہت سے لوگ ٹکٹ کیلئے آئیں گے، ہمیں پہچان رکھنی ہے کون اپنا ہے اور کون پرایا ہے۔ امیدواروں کی جیت کیلئے سب کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ ہم نے صوبوں میں جو سرمایہ کاری کی ہے اس کے مقابلے میں این ایف سی ایوارڈ بھی پیچھے رہ جائے گا۔ این ایف سی ایوارڈ بجائے صوبوں کے مطالبہ وفاقی حکومت کو خود کرنا چاہیے۔ این ایف سی ایوارڈ سے جتنا پیسہ آئے گا ، اس سے زیادہ تو ہم پہلے ہی خرچ کر چکے ہیں۔ آزاد کشمیر، گلگت بلتستان میں وفاق پیسے دے بھی تو ٹھیک طریقے سے خرچ نہیں ہوتے۔ این ایف سی ایوارڈ کے پیسوں کے استعمال کا ادراک بھی ہونا چاہیے۔ این ایف سی ایوارڈ بھیک نہیں ہے یہ تو حق ہے۔ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کو این ایف سی ایوارڈ کے تحت فنڈز ملنے چاہیے۔ وزیراعظم سے کہوں گا کہ جی بی، آزاد کشمیر کو این ایف سی ایوارڈ کے تحت فنڈز دیے جائیں۔ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں رائے عامہ بہتر لگتی ہے، فضا اچھی ہے اس لیے انتخابات میں نتیجہ بھی اچھا آنا چاہیے۔ ترقیاتی منصوبوں میں شفافیت یقینی بنائی جائے۔ قبضہ مافیا، تجاوزات کا خاتمہ کیا جارہا ہے۔ ستھرا پنجاب منصوبے نے پنجاب کو ترقی یافتہ صوبہ بنا دیا ہے۔ پنجاب میں امن و امان کا معاملہ بھی بہت بہتر ہے۔ پنجاب بھر میں ہسپتالوں کا جال بچھایا جا رہا ہے۔ خیبر پی کے اور دیگر صوبوں کے مریض پنجاب میں علاج کیلئے آ رہے ہیں۔ خواہش تو ہے کہ الیکشن جیت کر عوام کی خدمت کریں۔ سابق وزیراعظم نے اعلان کیا کہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے پارٹی رہنما معاملات مزید بہتر بنائیں، خود متعدد علاقوں کا دورہ کروں گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: ا زاد کشمیر اور گلگت بلتستان ایف سی ایوارڈ بھی ایف سی ایوارڈ کے
پڑھیں:
لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز
لاہور(آئی پی ایس )لاہور ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں واضح کیا ہے کہ ہاسنگ سوسائٹیوں میں اسکول، پارک، مسجد، ہسپتال اور دیگر عوامی سہولیات (Amenity Sites) کے لیے مختص زمین عوام کی امانت ہے۔ اگرچہ ایسی زمین کا قانونی ٹائٹل بعض حالات میں لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (LDA) کے پاس منتقل ہو سکتا ہے، لیکن LDA اسے اپنی ملکیت سمجھ کر کمرشل مقاصد کے لیے فروخت یا نیلام نہیں کر سکتی۔
مقدمہ AGRICS Cooperative Housing Society اور LDA کے درمیان تھا۔ سوسائٹی نے مقف اختیار کیا کہ وہ Cooperative Societies Act, 1925 کے تحت قائم ہوئی ہے، اس لیے LDA کے بعض قوانین اس پر لاگو نہیں ہوتے، جبکہ LDA کا مقف تھا کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین اس کے نام منتقل کیے بغیر اسکول کا بلڈنگ پلان منظور نہیں کیا جا سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ Cooperative Societies Act سوسائٹی کے اندرونی معاملات سے متعلق ہے، جبکہ LDA Act لاہور میں شہری منصوبہ بندی (Urban Planning) اور ہاسنگ اسکیموں کو منظم کرنے والا خصوصی قانون ہے، اس لیے پلاننگ اور ترقیاتی معاملات میں LDA کے قوانین پر عمل کرنا تمام ہاسنگ سوسائٹیوں کے لیے لازم ہے۔
عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ 1990 کی Mortgage Deed اور سوسائٹی کے اپنے سابقہ ریکارڈ سے ثابت ہوتا ہے کہ متعلقہ عوامی سہولیات کی زمین LDA کے نام منتقل ہو چکی تھی، لہذا سوسائٹی کئی دہائیوں بعد اس مقف سے انکار نہیں کر سکتی۔
فیصلے کا سب سے اہم حصہ Doctrine of Public Trust (پبلک ٹرسٹ ڈاکٹرائن) سے متعلق ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ اگرچہ زمین کا قانونی ٹائٹل LDA کے پاس ہے، لیکن وہ اس کا مطلق مالک نہیں بلکہ صرف Trustee (امین) ہے۔ اس لیے اسکول، پارک، مسجد یا دیگر عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کو کسی اور مقصد، خصوصا تجارتی استعمال یا فروخت کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ ایسی زمین صرف اسی مقصد کے لیے استعمال ہوگی جس کے لیے اسے مختص کیا گیا تھا۔
عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ 30 سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود اسکول کے لیے مختص پلاٹ پر اسکول تعمیر نہیں کیا گیا، جس سے علاقے کے رہائشیوں کے بنیادی حقوق متاثر ہوئے۔ اسی بنیاد پر لاہور ہائی کورٹ نے LDA کو تین ماہ کے اندر قانونی طریقہ کار کے مطابق اس پلاٹ کو ایسے ادارے یا فریق کے حوالے کرنے کا حکم دیا جو وہاں اسکول تعمیر کرے، اور مقررہ مدت میں تعمیر نہ ہونے کی صورت میں متعلقہ قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
یہ فیصلہ ہاسنگ سوسائٹیوں کے رہائشیوں کے لیے ایک اہم نظیر ہے، جو اس اصول کو مضبوط کرتا ہے کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کسی بھی سرکاری یا نجی ادارے کی تجارتی ملکیت نہیں بلکہ عوام کی امانت ہے، اور اسے صرف عوامی مفاد کے اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے جس کے لیے وہ مختص کی گئی ہو۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookX پچھلی خبروزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال اگلی خبرمقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکیCopyright © 2026, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم