عمران خان کی سابقہ اہلیہ جمائمہ کا ایلون مسک کو خط
اشاعت کی تاریخ: 13th, December 2025 GMT
ویب ڈیسک :پاکستان تحریکِ انصاف کے بانی عمران خان کی سابقہ اہلیہ، جمائمہ گولڈسمتھ نے جمعہ کو عوامی سطح پر ایکس (سابقہ ٹوئٹر) کے سربراہ ایلون مسک سے اپیل کی ہے کہ عمران خان کے حوالے سے ان کی پوسٹس کو محدود کیا جارہا اور چھپایا جا رہا ہے, گولڈ اسمتھ نے کہا کہ عمران خان کے ساتھ روا سلوک اور قانونی مشکلات کے بارے میں ان کی معلومات ”عوام تک نہیں پہنچ رہیں“۔ انہوں نے مسک سے درخواست کی کہ ان کے اکاؤنٹ پر جو رکاوٹیں ہیں، انہیں ختم کیا جائے۔
ملک کے مختلف علاقوں میں بارش اور برفباری کی پیشگوئی
اپنی پوسٹ میں جمائمہ نے بتایا کہ ان کے دونوں بیٹوں کو اپنے والد عمران خان سے ملاقات یا بات کرنے کی اجازت نہیں دی گئی، جو کہ اقوامِ متحدہ کے مطابق 22 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ”ایکس“ ہی وہ واحد پلیٹ فارم ہے جہاں وہ دنیا کو بتا سکتی ہیں کہ عمران خان ایک سیاسی قیدی ہیں، مگر ہر پوسٹ کی پہنچ پاکستان اور عالمی سطح پر تقریباً صفر تک محدود کر دی جاتی ہے۔
شدید دھند کے باعث موٹرویز ہرقسم کی ٹریفک کے لئے بند
جمائمہ نے لکھا، آپ نے آزادانہ اظہار رائے کا وعدہ کیا تھا، نہ کہ ’بولیں لیکن کوئی نہ سنے۔
اس سے قبل بھی جمائمہ گولڈ سمتھ نے پاکستانی حکام پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ ان کے بیٹوں کو والد سے بات کرنے سے روک رہے ہیں اور اگر وہ ملک میں ملاقات کی کوشش کریں تو ان کے خلاف قانونی کارروائی کی دھمکی دی گئی ہے۔
جمائمہ گولڈ سمتھ کے بیانات ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب عمران خان کی صحت اور حالات کے بارے میں مسلسل غیر یقینی صورتحال پر بات ہورہی ہے، اور خاندان کے افراد کے ساتھ ساتھ پی ٹی آئی کے حامی بھی ان کے حالات کے بارے میں شواہد اور وضاحت کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مشہور مصنفہ گھر میں انتقال کرگئیں
حال ہی میں عمران خان کی بہن، عالیہ خان نے بھی ان کے علاج اور قید کے حالات پر تشویش ظاہر کی ہے۔ بدھ کے روز اڈیالا جیل کے باہر بیان دیتے ہوئے انہوں نے کہا، ”ہم پچھلے آٹھ ماہ سے یہاں آ رہے ہیں، ہر منگل ہم یہاں بیٹھتے ہیں لیکن عمران خان سے ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ انہیں غیر قانونی قیدِ تنہائی میں رکھا گیا ہے اور ان کے ساتھ ظلم کیا جا رہا ہے۔
ان کے بیانات نے خاندان اور پی ٹی آئی کے حامیوں میں عمران خان کے حالات کے حوالے سے بڑھتی ہوئی تشویش کو ظاہر کیا ہے۔
ایم4موٹروے پرخوفناک حادثہ،بس ہوسٹس جاں بحق،14 مسافرزخمی
یاد رہے کہ گزشتہ سال جولائی میں اقوامِ متحدہ کے ماہرین کی ایک کمیٹی نے پاکستان کی جانب سے عمران خان کی من مانی گرفتاری پر شدید تنقید کی اور کہا کہ ان کی قید بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے۔ ماہرین نے مزید بتایا کہ ان کی حراست بظاہر اس مقصد کے لیے ہے کہ وہ سیاسی انتخاب میں حصہ نہ لے سکیں۔
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: عمران خان کی
پڑھیں:
پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل عرفان سومرو نے کہا ہے کہ تجارتی ڈپلومیسی حکومت پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے اور پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ محض تجارتی حجم بڑھانے کا خواہاں نہیں بلکہ مضبوط اور پائیدار معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے۔
فیڈریشن ہاؤس کراچی میں فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے زیر اہتمام ڈی ایٹ چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (D-8 CCI) کی پاکستان نیشنل کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے دائریکٹر جنرل وزارت خارجہ عرفان سومرو نے کہا کہ ڈی ایٹ کے قیام کو تین دہائیاں گزر چکی ہیں، اب وقت آ گیا ہے کہ اس وژن کو عملی اقدامات میں تبدیل کیا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ ڈی ایٹ ممالک کی مشترکہ معیشت تقریباً 5 ہزار ارب ڈالر پر مشتمل ہے اور ایک ارب سے زائد آبادی مشرق بعید سے افریقہ تک پھیلی ہوئی ہے، جو باہمی تجارت اور سرمایہ کاری کے بے شمار مواقع فراہم کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ زراعت، معدنیات، سیاحت اور نوجوان افرادی قوت ڈی ایٹ ممالک کے اہم اثاثے ہیں، تاہم مختلف مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) پر مؤثر عمل درآمد نہ ہونے کے باعث رکن ممالک اپنی حقیقی معاشی صلاحیت سے بھرپور فائدہ نہیں اٹھا پا رہے۔
ڈی جی وزارت خارجہ کے مطابق پاکستان کی ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ سالانہ تجارت تقریباً 11 ارب ڈالر ہے، جس میں 8 ارب ڈالر درآمدات جبکہ 2.8 ارب ڈالر برآمدات شامل ہیں، اس عدم توازن کو کم کرنے اور برآمدات میں اضافے کی ضرورت پر زور دیا۔
عرفان سومرو نے کہا کہ پاکستان کی بندرگاہیں اور نوجوان آبادی ملکی معیشت کے لیے قیمتی اثاثہ ہیں، کاروباری برادری پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ پاکستانی سفارت خانوں کے ساتھ روابط بڑھائے تاکہ نئی منڈیوں تک رسائی اور سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت بین الاقوامی معاہدے اور سازگار پالیسی فریم ورک فراہم کر سکتی ہے، تاہم تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینا نجی شعبے کی ذمہ داری ہے، اس سلسلے میں ایف پی سی سی آئی کا کردار انتہائی اہم ہے۔
ڈائریکٹر جنرل وزارت خارجہ نے خواتین اور نوجوان کاروباری افراد پر زور دیا کہ وہ علاقائی تجارت اور اقتصادی سرگرمیوں میں بھرپور کردار ادا کریں، پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
اس موقع پر ایف پی سی سی آئی کے صدر عاطف اکرام شیخ نے قاہرہ میں منعقدہ چوتھی ڈی ایٹ ٹریڈ منسٹر کونسل کے فیصلوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے استنبول میں ترکیہ کی تنظیم TOBB کی سرپرستی میں ڈی ایٹ چیمبرز کے مستقل سیکرٹریٹ کے قیام کو اہم پیش رفت قرار دیا۔
ڈی ایٹ سیکریٹری جنرل سہیل محمود نے اپنے خصوصی پیغام میں رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ حلال معیشت، مالیاتی انضمام اور علاقائی تجارت کے مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔
ایف پی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگوں نے کہا کہ ڈی ایٹ ممالک کے درمیان اندرونی تجارت میں نمایاں اضافہ وقت کی اہم ضرورت ہے اور فیڈریشن پریفرینشل ٹریڈ ایگریمنٹ (پی ٹی اے) کو ناگزیر سمجھتی ہے۔
اجلاس میں انڈونیشیا، ترکیہ، ایران، مصر، ملائیشیا، نائجیریا، آذربائیجان اور بنگلہ دیش کے قونصل جنرلز، سینئر سفارت کاروں، ایف پی سی سی آئی کے نائب صدور امان پراچہ، آصف سخی، سابق صدر زبیر طفیل، سابق نائب صدور خالد تواب، حنیف گوہر، شبیر منشا، ناہید مسعود، نازلی عابد، ماہین خان اور دیگر کاروباری رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔