عمران خان کی قید تنہائی اور غیر انسانی سلوک ختم ہونا چاہیے، اقوام متحدہ کا مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 13th, December 2025 GMT
اقوام متحدہ کی ویب سائٹ پر جاری بیان کے مطابق ایڈورڈز نے واضح کیا کہ عمران خان کی حراست کے تمام پہلو بین الاقوامی معیار کے مطابق ہونے چاہئیں۔ رپورٹوں کے مطابق ستمبر 2023 میں اڈیالہ جیل منتقل کیے جانے کے بعد انہیں طویل عرصے تک تنہائی میں رکھا گیا ہے، روزانہ تقریباً 23 گھنٹے ان کی بیرک بند رہتی ہے اور بیرونی دنیا تک رسائی انتہائی محدود ہے۔ اسلام ٹائمز۔ اقوامِ متحدہ کی خصوصی ماہر برائے انسدادِ تشدد، ایلس جِل ایڈورڈز نے مطالبہ کیا ہے کہ پاکستان حکومت فوراً اور مؤثر اقدامات کرے تاکہ سابق وزیرِ اعظم عمران خان کی حراست کے حوالے سے سامنے آنیوالی غیرانسانی اور غیر شائستہ صورتحال کو ختم کیا جا سکے۔ ان کے مطابق یہ حالات بین الاقوامی انسانی حقوق کے بنیادی اصولوں کی خلاف ورزی اور ذہنی و جسمانی اذیت کے زمرے میں آ سکتے ہیں۔
اقوام متحدہ کی ویب سائٹ پر جاری بیان کے مطابق ایڈورڈز نے واضح کیا کہ عمران خان کی حراست کے تمام پہلو بین الاقوامی معیار کے مطابق ہونے چاہئیں۔ رپورٹوں کے مطابق ستمبر 2023 میں اڈیالہ جیل منتقل کیے جانے کے بعد انہیں طویل عرصے تک تنہائی میں رکھا گیا ہے، روزانہ تقریباً 23 گھنٹے ان کی بیرک بند رہتی ہے اور بیرونی دنیا تک رسائی انتہائی محدود ہے۔ اطلاعات یہ بھی ہیں کہ ان کے سیل میں مسلسل کیمرے کی نگرانی موجود ہے، جس سے نجی زندگی کا حق شدید متاثر ہوتا ہے۔ اقوامِ متحدہ کی ماہر کے مطابق طویل یا غیر معینہ مدت کی تنہائی بین الاقوامی قانون کے تحت ممنوع ہے، اور 15 دن سے زیادہ جاری رہے تو اسے ذہنی تشدد کے برابر سمجھا جاتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کی تنہائی فوری طور پر ختم ہونی چاہیے کیونکہ یہ نہ صرف غیر قانونی ہے بلکہ اس سے صحت پر سنگین منفی اثرات پڑ سکتے ہیں۔
رپورٹس میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ عمران خان کو نہ تو باہر وقت گزارنے کی اجازت ہے اور نہ ہی دوسرے قیدیوں کیساتھ کسی قسم کا میل جول۔ وہ اجتماعی عبادات میں شرکت نہیں کر سکتے اور وکلا، اہلِخانہ اور عدالتی طور پر مجاز افراد سے ملاقاتیں اکثر درمیان میں روک دی جاتی ہیں۔
ان کی بیرک چھوٹی، بغیر قدرتی روشنی کے اور ناکافی ہوا داری کے ساتھ بیان کی گئی ہے۔ موسمِ گرما اور سرما میں شدید درجہ حرارت، خراب ہوا کے باعث بدبو، اور کیڑوں کی افزائش جیسے مسائل بھی درج ہیں۔ اسی وجہ سے ان کی طبی حالت متاثر ہوئی ہے، جن میں متلی، الٹیاں اور نمایاں وزن میں کمی شامل ہے۔ اقوامِ متحدہ کی ماہر نے اس بات پر زور دیا کہ ہر شخص جسے حراست میں رکھا جائے، اس کے ساتھ انسانی وقار کے مطابق برتاؤ ضروری ہے۔ قیدی کی عمر، صحت اور جسمانی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے اسے مناسب آرام، موسم سے تحفظ، جگہ، روشنی، گرمی اور ہوا داری مہیا کی جانی چاہیے۔
عمران خان کی عمر 72 برس ہے اور انہیں پہلے سے سنگین طبی مسائل لاحق رہے ہیں، جن میں 2013 کے حادثے میں ہونیوالی ریڑھ کی ہڈی کی چوٹ اور 2022 میں قاتلانہ حملے میں لگنے والے زخم شامل ہیں۔ اطلاعات کے مطابق انہیں مناسب طبی سہولت بھی فراہم نہیں کی جا رہیں، جس پر ایڈورڈز نے مطالبہ کیا کہ ان کے ذاتی ڈاکٹرز کو فوری رسائی دی جائے۔ اقوامِ متحدہ کی نمائندہ نے پاکستانی حکام کے ساتھ یہ معاملہ اٹھایا ہے اور کہا ہے کہ وہ عمران خان کی صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: بین الاقوامی عمران خان کی کہ عمران خان ایڈورڈز نے کے مطابق متحدہ کی ہے اور
پڑھیں:
جاپان نے شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے ‘انسانی ریفریجریٹر’ تیار کرلیا
جاپان نے شدید گرمی میں کام کرنے والے افراد کے لیے ایک منفرد ٹھنڈا کرنے والا کیبن متعارف کرا دیا ہے جسے ‘انسانی ریفریجریٹر’ کہا جا رہا ہے۔
یہ آلہ چند منٹ میں جسم کا درجہ حرارت کم کرنے میں مدد دیتا ہے اور خاص طور پر تعمیراتی شعبے، فیکٹریوں اور کھلے مقامات پر کام کرنے والے افراد کے لیے تیار کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: موسمیاتی تبدیلی کے نتیجے میں بڑھتی گرمی انسانی دماغ پر کیا اثر ڈال رہی ہے؟
جاپانی کمپنیوں کی تیار کردہ اس مشین کو ‘دو ہائیمون باکس’ کا نام دیا گیا ہے۔ یہ ایک چھوٹے کمرے یا کیبن کی طرح ہے جس میں ایک شخص داخل ہوکر گرمی سے فوری راحت حاصل کرسکتا ہے۔ اس کے اندر درجہ حرارت تقریباً 15 ڈگری سینٹی گریڈ رکھا جاتا ہے جبکہ ٹھنڈی ہوا سر، گردن، کندھوں اور کمر کی جانب پھینکی جاتی ہے۔
کمپنی کے مطابق چند منٹ کے استعمال سے جسم کو ٹھنڈک کا احساس ہونا شروع ہوجاتا ہے، جبکہ تقریباً 10 منٹ تک اس میں رہنے سے شدید گرمی کے اثرات کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ یہ نظام پورے کمرے کو ٹھنڈا کرنے کے بجائے صرف انسان کے جسم کو ٹھنڈا کرنے پر توجہ دیتا ہے، جس سے توانائی کی بچت بھی ہوتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ریفریجریٹر سے پہلے پانی ٹھنڈا کرنے کی سعودی صحرائی ایجاد کیا تھی؟
یہ ایجاد ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب جاپان سمیت دنیا کے کئی ممالک میں شدید گرمی کی لہریں بڑھ رہی ہیں اور بیرونی کام کرنے والے افراد کو گرمی سے متعلق مسائل کا سامنا ہے۔
‘دو ہائیمون باکس’ کو کاروباری اداروں کے لیے فروخت کیا جا رہا ہے اور اسے فیکٹریوں، تعمیراتی مقامات اور دیگر گرم ماحول والی جگہوں پر استعمال کے لیے تیار کیا گیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news انسانی فریج جاپان گرمی