گراما کی عظمت: ایک کچھوے کو الوداع، اور ایک گرم ہوتی دنیا کے لیے بیداری کا پیغام
اشاعت کی تاریخ: 13th, December 2025 GMT
گراما کی عظمت: ایک کچھوے کو الوداع، اور ایک گرم ہوتی دنیا کے لیے بیداری کا پیغام WhatsAppFacebookTwitter 0 13 December, 2025 سب نیوز
ایسل الہام
موسمیاتی گورننس تجزیہ کار
ایک ایسی دنیا میں جہاں ہر چیز تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے، گراما نامی کچھوا اپنی ہی رفتار سے چلتی رہی آہستہ، پُرسکون، اور وقار کے ساتھ۔ 1884 میں پیدا ہونے والی گراما نے 2025 میں وفات پائی، اور یوں تین صدیوں پر محیط زندگی گزار کر وہ نہ صرف ایک جاندار بلکہ ایک زندہ تاریخ بن گئی۔ اس نے سلطنتوں کے عروج و زوال، ہوائی جہاز اور انٹرنیٹ کی ایجاد، اور زمین کے بدلتے موسموں کو خاموشی سے دیکھا۔ اس کی زندگی صرف طویل نہیں تھی، بلکہ زمین کے بدلتے ہوئے مزاج کی ایک خاموش گواہی بھی تھی۔
جب سان ڈیاگو چڑیا گھر نے اپنی سب سے معمر رہائشی کو الوداع کہا، تو دنیا نے ایک لمحے کو رک کر سوچا۔ گراما صرف ایک کچھوا نہیں تھی وہ استقامت، پُرامن بڑھاپے، اور اس خاموش حکمت کی علامت تھی جو صرف وقت کے ساتھ آتی ہے۔ اس کی موت صرف ماہرینِ حیوانات یا جانوروں سے محبت کرنے والوں کے لیے نقصان نہیں، بلکہ ہم سب کے لیے ایک اجتماعی لمحۂ فکریہ ہے جو اس نازک سیارے پر سانس لیتے ہیں۔
گراما کا تعلق گیلاپیگوس کچھووں کی نسل سے تھا، جو کبھی ہزاروں کی تعداد میں ایکواڈور کے آتش فشانی جزیروں پر پائے جاتے تھے۔ مگر انسانی مداخلت، غیر ملکی انواع، اور موسمیاتی تبدیلی نے ان کے وجود کو خطرے میں ڈال دیا۔ بڑھتے ہوئے درجہ حرارت، بارشوں کے غیر متوقع پیٹرن، اور سمندر کی سطح میں اضافہ اب ان نازک ماحولیاتی نظاموں کو متاثر کر رہے ہیں جنہوں نے گراما جیسے جانداروں کو صدیوں تک پناہ دی۔ اس کی موت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ حتیٰ کہ سب سے زیادہ پائیدار مخلوقات بھی ایک ایسی دنیا میں غیر محفوظ ہو سکتی ہیں جو توازن کھو چکی ہو۔
پاکستان میں بھی ہم اسی بحران کا سامنا کر رہے ہیں۔ 2022 کے تباہ کن سیلاب ہوں یا حالیہ برسوں کی شدید گرمی کی لہریں موسمیاتی تبدیلی اب کوئی دور کا خطرہ نہیں بلکہ ایک روزمرہ حقیقت بن چکی ہے۔ ہمارے گلیشیئرز پگھل رہے ہیں، دریا سکڑ رہے ہیں، اور حیاتیاتی تنوع خطرے میں ہے۔ سندھ ڈیلٹا، جو کبھی زندگی کا گہوارہ تھا، اب سمندر کی چڑھتی سطح اور اوپر کی سطح پر پانی کی غیر منصفانہ تقسیم کے باعث پیچھے ہٹ رہا ہے۔ کئی بستیاں صرف جنگ یا سیاست نہیں بلکہ پانی کی زیادتی یا قلت کے باعث اجڑ رہی ہیں۔ ایسے میں گراما کی یاد ہمیں ایک اور سبق دیتی ہے: کہ بقا کی کنجی تیز رفتاری میں نہیں بلکہ ہم آہنگی میں ہے۔
گراما کی زندگی ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ ہمیں بھی اپنے فیصلوں میں ٹھہراؤ اور دور اندیشی اپنانی ہوگی۔ ایک ایسے ملک میں جہاں ترقی اکثر پائیداری سے آگے نکل جاتی ہے، ہمیں سست روی میں حکمت تلاش کرنی ہوگی۔ ہمیں اگلے انتخابات نہیں بلکہ اگلی صدی کے لیے منصوبہ بندی کرنی ہوگی۔ پاکستان نے کچھ اہم اقدامات کیے ہیں جیسے بلین ٹری سونامی، لیونگ انڈس انیشی ایٹو، اور موسمیاتی لحاظ سے مضبوط انفراسٹرکچر کی کوششیں۔ یہ صرف پالیسی نہیں بلکہ امید کے بیج ہیں۔ مگر ہمیں مزید آگے بڑھنا ہوگا۔
ہمیں ہر شہر میں شہری جنگلات اور سبز راہداریاں درکار ہیں صرف خوبصورتی کے لیے نہیں بلکہ ماحولیاتی تحفظ کے لیے۔ ہمیں قدرتی حل اپنانے ہوں گے جیسے دلدلی علاقوں کی بحالی، بارش کے پانی کو محفوظ کرنا، اور ایسے جنگلی حیات کے راستے بنانا جو بدلتے موسموں میں جانوروں کو نقل مکانی کی سہولت دیں۔ ہمیں ایسی ماحولیاتی تعلیم کی ضرورت ہے جو صرف سائنسی معلومات نہ دے بلکہ فطرت کے لیے احترام بھی سکھائے خاص طور پر ان جانداروں کے لیے جو آہستہ چلتے ہیں، طویل جیتے ہیں، اور خاموشی سے ہمیں زندگی کے گہرے سبق سکھاتے ہیں۔
گراما کی موت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ سب سے طاقتور وجود ہمیشہ شور مچانے والے نہیں ہوتے۔ اس کی خاموشی میں ایک ٹھنڈی، پُرسکون زمین کی یاد تھی۔ اس کی مضبوطی میں یہ پیغام تھا کہ اصل طاقت غلبے میں نہیں بلکہ بقائے باہمی میں ہے۔ اس کی زندگی صدیوں کو جوڑنے والا ایک پل تھی زمین کی برداشت کی زندہ علامت اور ایک انتباہ کہ اگر ہم نے احتیاط نہ کی تو یہ طویل زندگیاں بھی وقت سے پہلے ختم ہو سکتی ہیں۔
آئیے ہم اسے صرف الفاظ سے نہیں بلکہ عمل سے خراجِ تحسین پیش کریں۔ آئیے ایسا پاکستان بنائیں جہاں آنے والی نسلیں انسان ہوں یا دیگر مخلوقات سکون، حکمت، اور ہم آہنگی سے جی سکیں۔ آئیے یاد رکھیں کہ موسمیاتی تبدیلی کی دوڑ میں شاید جیت اب بھی کچھوے کی ہو۔ گراما کی یاد میں، ہمیں چاہیے کہ ہم رکیں، سنیں، اور عمل کریں نہ کہ جلد بازی میں، بلکہ اس دانائی کے ساتھ جو صرف وقت اور زمین سے محبت کے ذریعے حاصل ہوتی ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرانتہا پسندانہ نظریات اور تقسیم پسند قوتوں سے نمٹنے کےلیے مکمل تیار ہیں، فیلڈ مارشل میدان کے ہیرو میاں جی اور موبائل فون بھارتی طیاروں کا بحران: جنگ سے ایئر شو تک بت شکنوں کا بت پرستوں سے سودا نظام بدلنا ہوگا۔ صدارتی استثنیٰ: اختیار اور جواب دہی کے درمیان نازک توازنCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
پڑھیں:
’ابھی ہو گیا، بس‘، سونو نگم نے نیٹ احتجاج پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا
معروف بھارتی گلوکار سونو نگم نے نیٹ احتجاج پر تبصرہ کرنے سے انکار کرتے ہوئے میڈیا نمائندوں سے کہا کہ اس معاملے پر ان سے مزید سوال نہ کیے جائیں۔
سونو نگم سے ایک حالیہ میڈیا گفتگو کے دوران مبینہ نیٹ پرچہ لیک اور تعلیمی اصلاحات کے مطالبے پر جاری احتجاج کے حوالے سے سوال کیا گیا، تاہم انہوں نے اس موضوع پر اپنی رائے دینے سے گریز کیا۔
رپورٹرز کی جانب سے مسلسل سوالات کیے جانے پر سونو نگم نے واضح کیا کہ وہ اس معاملے پر بات نہیں کرنا چاہتے۔ بار بار سوالات کیے جانے پر وہ کچھ برہم دکھائی دیے اور مختصراً کہا، ’’ابھی ہو گیا، بس۔‘‘ اس جملے کے ذریعے انہوں نے اشارہ دیا کہ وہ اس موضوع پر مزید گفتگو نہیں کرنا چاہتے۔
رپورٹس کے مطابق، یہ میڈیا گفتگو کہاں اور کس موقع پر ہوئی، اس حوالے سے کوئی تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔
View this post on Instagram
نیٹ احتجاج پر متعدد شوبز شخصیات کا ردِعمل
سونو نگم کی خاموشی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب بھارتی فلم انڈسٹری کی کئی معروف شخصیات نیٹ احتجاج پر اپنے خیالات کا اظہار کر رہی ہیں۔
اداکار سلمان خان، عالیہ بھٹ، دُلکر سلمان، وجے ورما، نصیرالدین شاہ، انوپم کھیر، ہیما مالنی، پریتی زنٹا اور عمران خان سمیت متعدد فنکار اس معاملے پر مختلف رائے کا اظہار کر چکے ہیں۔ بعض نے طلبہ کی حمایت کرتے ہوئے مذاکرات اور تعلیمی اصلاحات کا مطالبہ کیا جبکہ دیگر نے مختلف مؤقف اختیار کیا۔
واضح رہے کہ نیٹ امتحان میں مبینہ پرچہ لیک کے بعد ملک بھر میں طلبہ کی جانب سے احتجاج جاری ہے۔ مظاہرین امتحانی نظام میں شفافیت، ذمہ دار عناصر کے خلاف کارروائی اور احتساب کا مطالبہ کر رہے ہیں۔