مشعال ملک کا ریاست پاکستان سے بھارت میں قید یاسین ملک کا مقدمہ اقوام متحدہ میں اٹھانے کا مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 11th, December 2025 GMT
کراچی:
کشمیری رہنما مشعال ملک نے ریاست پاکستان سے بھارت میں قید یاسین ملک کی رہائی کے لیے مقدمہ اقوام متحدہ میں اٹھانے کا مطالبہ کردیا اور کہا کہ بھارت ہر صورت کشمیری لیڈر کو جھوٹے مقدمات میں پھنسا کر سولی پر چڑانا چاہتا ہے۔
کراچی میں پاکستان ہندو کونسل کے دفتر میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کشمیری و سماجی رہنما مشعال ملک نے بھارت کی قید میں کشمیری رہنما یاسین ملک کی رہائی کے لیے مقدمہ اقوام متحدہ کی عدالت میں پیش کرنے کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ ریاست پاکستان سمیت پوری قوم و دوست ممالک کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ کشمیری رہنما یاسین ملک کے لیے اپنی آواز بلند کرے، ان کی رہائی کے لیے میں عالمی سطح پر مہم کا آغاز کر رہی ہوں۔
حریت رہنما یاسین ملک کی اہلیہ نے کہا پاکستان میں مختلف مذاہب کے لوگ ہمیشہ یک جہتی کے ساتھ کھڑے رہے ہیں، اور یہ وہ رشتہ ہے جو ملک کو جوڑے رکھتا ہے۔
انہوں نے کہا جس وقت اپنے شوہر کے لیے دعا کی اپیل کی تھی، لوگ نہ صرف مساجد بلکہ مندروں اور چرچوں میں بھی دعائیں کرتے رہے، یاسین ملک کا پورا سیاسی سفر امن، مذاکرات اور انسانی حقوق کی جدوجہد پر مبنی ہے، انتہائی مشکل حالات میں بھی امن کا پیغام دیا، پلوامہ صورت حال کے باوجود وہ مذاکرات کے حامی رہے لیکن امن کا راستہ اختیار کرنے والوں کو دشمنوں سے بھی ملنا پڑتا ہے۔
مشعال ملک نے کہا کہ یاسین ملک کی تحریک مذہب، نسل اور برادری سے بالاتر ہےجس میں سکھ، پنڈت اور دیگر اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے افراد بھی شامل ہیں، تاریخ گواہ ہے کہ برصغیر میں تحریک آزادی کے دوران مختلف برادریوں نے اہم کردار ادا کیا۔
یاسین ملک کی اہلیہ نے اعلان کیا کہ جلد ہی ایک ڈیجیٹل ریفرنڈم کرایا جائے گا تاکہ دنیا کو دکھایا جا سکے کہ مقبوضہ کشمیر میں حقیقتاً کیا ہو رہا ہے اور کشمیری عوام کی اصل رائے کیا ہے، یہ مہم محض ایک کمپین نہیں بلکہ انسانی جدوجہد ہے۔
مشعال ملک نے کہا کہ “سیو یاسین ملک” مہم میں شامل تمام افراد کی شکرگزار ہوں، مگر اب یہ آواز گھر گھر پہنچانے کی ضرورت ہے، آنے والے دنوں میں ایک بڑا عوامی رابطہ مہم شروع کی جا رہی ہے جس میں گھر گھر جا کر آگاہی مہم، یونیورسٹی طلبہ تک رسائی، گراس روٹ لیول پر والنٹیئر نیٹ ورک، ملین لوگوں تک ڈیجیٹل آگاہی اور عالمی سطح پر رابطے بڑھانا شامل ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ ایک خصوصی ویب سائٹ بھی لانچ کی جا رہی ہے جہاں لوگ اپنے آئیڈیاز، تجاویز اور عملی منصوبے جمع کرا سکیں گے تاکہ عالمی کمپین کو مزید مضبوط بنایا جا سکے، یاسین ملک کی جان بچانے کے لیے اب ہر شخص کو عملی کردار ادا کرنا ہوگا، میں اپنی طرف سے ہر قربانی دے چکی ہوں اور اب عوام اور عالمی برادری کا امتحان ہے۔
اس موقع پر پیٹرن ان چیف رمیش کمار نے کہا مسئلہ کشمیر آج کا نہیں 78 برسوں سے یہ مسئلہ چل رہا ہے، مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے مشعال ملک اور یاسین ملک کی جدوجہد رائیگاں نہیں جائے گی اور یہ جدوجہد ایک دن روشن باب دکھائے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: مشعال ملک نے یاسین ملک کی نے کہا کہ کے لیے
پڑھیں:
کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ کی تلاش جاری، بھارتی سرپرستی اور اور ریاست مخالف پروپیگنڈے کے شواہد برآمد
بھارتی سرپرستی میں کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) سے منسلک ملک دشمن خاتون شاعرہ حبیبہ پیرجان کی تلاش کے لیے کارروائیاں جاری ہیں۔ حبیبہ پیرجان نوجوانوں کو نہ صرف ملک دشمنی پر ورغلاتی ہیں، بلکہ اپنی نفرت انگیز پروپیگنڈا شاعری کے ذریعے ریاست مخالف بیانیے کو فروغ دیکر معصوم ذہنوں کو دہشتگردی پر اکساتی ہیں۔
مزید پڑھیں: بی ایل اے بلوچوں کے حقوق کی قاتل، حکام نے کوئٹہ تفتان شاہراہ پر کنٹرول کا دعویٰ مسترد کردیا
ذرائع کا کہنا ہے کہ حبیبہ پیرجان، زوجہ حنیف اور ضلع کیچ کے علاقے دشت کی رہائشی ہیں، جنہیں 25 مئی 2026 کو کراچی کے علاقے گلشنِ مزدور میں ایک مشترکہ انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن (آئی بی او) کے دوران ٹریس کیا گیا، تاہم وہ علاقے کا محاصرہ مکمل ہونے سے قبل فرار ہونے میں کامیاب ہوگئیں۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق کارروائی کے دوران ان کی رہائش گاہ کی تلاشی لی گئی جہاں سے ڈائریاں، ہلاک شدہ بی ایل اے عسکریت پسندوں سے متعلق تحریری ریکارڈ اور دیگر مواد برآمد ہوا جبکہ بھارتی فنڈنگ کے کچھ اہم ثبوت بھی سامنے آئے ہیں۔
ذرائع کا دعویٰ ہے کہ برآمد شدہ مواد اور انٹیلیجنس معلومات سے یہ اشارے ملے ہیں کہ حبیبہ پیرجان کے کالعدم بی ایل اے کے متعدد اہم کمانڈروں، خصوصاً رستم پیرجان، سے قریبی روابط رہے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق انہوں نے دشت کے جنگلات میں رستم پیرجان سے کم از کم 2 مرتبہ ملاقات کی، جن میں سے ایک ملاقات رواں برس 14 فروری کو ہوئی تھی۔
سیکیورٹی اداروں کے مطابق دستیاب ریکارڈ سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ مبینہ طور پر وہ اسلحہ اور دیگر سامان کی ترسیل میں سہولت کاری، بعض بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) شخصیات سے رابطوں اور سوشل میڈیا پر بی ایل اے سے منسلک پلیٹ فارمز کے ذریعے بھارتی سرپرستی میں ریاست مخالف زہریلے اور شر انگیز مواد کی تشہیر میں کردار ادا کرتی رہی ہیں۔
مزید پڑھیں: بی ایل اے کی محدود کارروائیاں اور سوشل میڈیا پر بڑا تاثر دینے کی ناکام حکمت عملی
ذرائع کا کہنا ہے کہ حبیبہ پیرجان اپنی شاعری کے ذریعے نوجوانوں کو ورغلانے اور ریاست مخالف بیانیے کو فروغ دینے پر مامور ہیں، جبکہ اس حوالے سے ملنے والے مزید شواہد کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
سیکیورٹی اداروں نے کہا ہے کہ ملک دشمن مطلوب خاتون کی گرفتاری کے لیے مختلف علاقوں میں کارروائیاں جاری ہیں اور تفتیش کو آگے بڑھایا جا رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بھارتی سرپرستی بی ایل اے خاتون شاعرہ حبیبہ پیرجان رستم پیرجان