کوٹلی، حریت کانفرنس کے زیر اہتمام عظیم الشان ریلی
اشاعت کی تاریخ: 11th, December 2025 GMT
غلام محمد صفی نے اپنے خطاب میں کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کو زور زبردستی اور فوجی طاقت کے ذریعے ہرگز محکوم نہیں رکھا جا سکتا۔ اسلام ٹائمز۔ انسانی حقوق کے عالمی دن کے موقع پر کل جماعتی حریت کانفرنس آزاد کشمیر شاخ کے زیر اہتمام کوٹلی آزاد کشمیر میں عظیم الشان ریلی نکالی گئی۔ ذرائع کے مطابق ریلی میں کوٹلی کے عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کر کے اقوامِ عالم کو واضح پیغام دیا کہ بھارت فوجی طاقت کے بل پر کشمیری قوم کو زیادہ عرصے تک محکوم نہیں رکھ سکتا۔ ریلی کی قیادت کل جماعتی حریت کانفرنس کے کنوینئر غلام محمد صفی نے کی جبکہ کشمیری حریت رہنما پرویز احمد شاہ، شیخ عبدالماجد، راجہ خادم حسین شاہین، سید اعجاز رحمانی، محمد اشرف ڈار، زاہد صفی اور زائد اشرف بھی ان کے ہمراہ تھے۔ مقررین نے مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی قابض افواج کے ظلم و تشدد، انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزیوں، ماورائے عدالت قتل، جبری گمشدگیوں، دوران حراست تشدد، گھروں کی مسماری، حریت رہنمائوں اور سیاسی کارکنوں کی گرفتاریوں کی مذمت کی۔
غلام محمد صفی نے اپنے خطاب میں کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کو زور زبردستی اور فوجی طاقت کے ذریعے ہرگز محکوم نہیں رکھا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے اسے بار بار ناکام فوجی کارروائیوں، عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی تنہائی اور انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزیوں کے باعث رسوائی کا سامنا ہے۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ کشمیری قوم کی قربانیاں اور مزاحمت اس بات کا ثبوت ہیں کہ آزادی کی منزل قریب ہے اور بھارت ظلم و جبر سے تحریک آزادی کشمیر کو دبا نہیں سکتا۔ دیگر مقررین نے انسانی حقوق کے عالمی دن کے موقع پر عالمی برادری کو یاد دلایا کہ مقبوضہ کشمیر میں زندہ رہنے، اظہارِ رائے کی آزادی اور منصفانہ ٹرائل جیسے بنیادی حقوق مسلسل پامال کئے جا رہے ہیں۔ انہوں نے عالمی برادری، اقوامِ متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے مطالبہ کیا کہ وہ کشمیری عوام کو ان کا پیدائشی حق، حقِ خودارادیت دلوانے کے لئے عملی اقدامات کریں۔
مقررین نے واضح کیا کہ کشمیر ایک سلگتا ہوا عالمی تنازعہ ہے جسے مزید زیادہ عرصے تک نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ بھارتی مظالم کا نوٹس لے اور کشمیری عوام کے ساتھ استصوابِ رائے سے متعلق کئے گئے وعدے کو پورا کیا جائے۔ ریلی میں شریک لوگوں کی بڑی تعداد نے بھارت مخالف نعرے لگائے اور مظلوم کشمیری عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے اعلان کیا کہ کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کو طاقت کے بل پر دبایا نہیں جا سکتا اور انہوں نے بھارتی تسلط سے مکمل آزادی تک تحریک آزادی کو ہر قیمت پر جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ ریلی میں کوٹلی کی سیاسی، سماجی اور مذہبی قیادت کے ساتھ ساتھ مختلف شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والی اہم شخصیات نے شرکت کی۔ ریلی سے صدر بار ایسوسی ایشن سردار آفتاب انجم، یونیورسٹی آف کوٹلی کے ڈین پروفیسر ڈاکٹر غلام نبی، پیپلز پارٹی کے رہنما چوہدری عامر یاسین، خالصہ تحریک کے رہنما پورن سنگھ اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: انہوں نے کہ کشمیر طاقت کے جا سکتا کیا کہ
پڑھیں:
سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو
راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) علیمہ خان کا سہیل آفریدی کو مشورہ، کہا سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔(جاری ہے)
علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔ علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔