ربیکا اور حسین کو کتنی سلامی ملی؟ جان کر حیران رہ جائیں گے
اشاعت کی تاریخ: 13th, December 2025 GMT
پاکستان کے معروف سوشل میڈیا اسٹارز ربیکا خان اور حسین ترین اپنی روزمرہ وی لاگز اور مزاحیہ ویڈیوز کی بدولت بے حد مقبول ہیں۔
ربیکا خان انسٹاگرام پر تقریباً 63 لاکھ فالوورز، یوٹیوب پر 30 لاکھ سبسکرائبرز اور ٹک ٹاک پر 1 کروڑ 13 لاکھ سے زائد فالوورز رکھتی ہیں۔
جبکہ حسین ترین بھی انسٹاگرام پر 19 لاکھ اور یوٹیوب پر 12 لاکھ سبسکرائبرز کے ساتھ بڑی فین فالوونگ رکھتے ہیں۔
حال ہی میں دونوں نے کراچی میں ایک شاندار تقریب میں شادی کی، جس میں قریبی رشتہ داروں اور دوست احباب نے شرکت کی۔
شادی میں نہ صرف مشہور سوشل میڈیا شخصیات اور اداکاروں نے شرکت کی بلکہ دل کھول کر سلامی بھی دی۔
اس فہرست میں دانش تیمور، اقراء کنول، عریب پرویز، معاذ صفدر، صبا معاذ، ڈاکٹر مدیحہ، شہیر، وریشہ، اذلان اور دیگر شامل ہیں۔
حال ہی میں اپلوڈ کیے گئے ایک وی لاگ میں ربیکا اور حسین نے شادی میں ملنے والی سلامیوں کے لفافے کھول کر رقم گنی۔
دونوں کے مطابق مجموعی طور پر انہیں نقد سلامی کی رقم تقریباً 5 لاکھ 18 ہزار روپے ملی۔
اقراء کنول اور عریب پرویز نے ایک ایک لاکھ روپے دیے، معاز صفدر نے 300 ڈالر (پاکستانی تقریباً 84 ہزار روپے)، جبکہ دانش تیمور، شہیر، ڈاکٹر مدیحہ اور ایم جے احسن نے 25 ہزار سے زائد رقم بطور سلامی دی۔
یہ وی لاگ سوشل میڈیا پر خوب وائرل ہو رہا ہے اور مداح جوڑے کو مبارکباد دے رہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
لندن کے میئر سر صادق خان(sadiq khan) نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو آن لائن دنیا میں درپیش خطرات اور نقصانات سے بچانے کے لیے یہ ایک ضروری اقدام ہے۔
منگل کو لندن میں انجینئرز، کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں سے خطاب کے دوران صادق خان نے کہا کہ جس طرح خوراک اور ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی حفاظت ثابت کرنا پڑتی ہے، اسی طرح سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی اپنے پلیٹ فارمز کے بچوں کے لیے محفوظ ہونے کا ثبوت دینا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک سوشل میڈیا کمپنیاں اپنے پلیٹ فارمز کی حفاظت ثابت نہیں کرتیں، اس وقت تک کم عمر بچوں کے لیے ان پر پابندی عائد کرنا ہی نقصانات کو روکنے کا مؤثر طریقہ ہے۔
میئر نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ آن لائن مینوسفیئر نامی رجحان نوجوان لڑکوں اور مردوں پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے، جس سے ایک کھوئی ہوئی نسل پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔
یہ مؤقف برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر کے مؤقف سے زیادہ سخت سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ وزیر اعظم نے بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے اہم اقدامات کا وعدہ کیا ہے، تاہم انہوں نے ابھی تک سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی حمایت نہیں کی۔
برطانوی حکومت نے حال ہی میں بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق ایک مشاورتی عمل مکمل کیا ہے، جس میں سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر مقرر کرنے، ایپس کے استعمال کے اوقات محدود کرنے، لا محدود اسکرولنگ اور آٹو پلے جیسی عادت ساز خصوصیات پر پابندی لگانے اور عمر کی تصدیق کے سخت نظام متعارف کرانے جیسے اقدامات پر رائے طلب کی گئی تھی۔
مزید پڑھیں:نیشنل ہیلتھ سروسز کیلئے 22 ارب روپے کا بجٹ مختص، اہم تفصیلات سامنے آگئیں
مشاورت کے نتائج کی بنیاد پر حکومت بچوں کے تحفظ کے لیے آئندہ پالیسی اور قانون سازی کے حوالے سے فیصلے کرے گی۔