راولپنڈی: ٹک ٹاکر لڑکی کے بال کاٹنے کے مقدمے میں اہم پیش رفت سامنے آ گئی
اشاعت کی تاریخ: 13th, December 2025 GMT
راولپنڈی:
ٹک ٹاکر لڑکی کے بال کاٹنے کے مقدمے میں اہم پیش رفت سامنے آ گئی۔ عدالت نے دو ملزمان ثناء بی بی اور جبران خان کی عبوری ضمانت میں 18 دسمبر تک توسیع کردی۔
ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج اکرام الحق چوہدری نے تھانہ نصیر آباد میں درج مقدمے کی سماعت کے دوران تفتیشی افسر کو تین روز میں تفتیش مکمل کرنے کا حکم دے دیا۔
عدالت کو آگاہ کیا گیا کہ مبینہ طور پر بال کاٹے جانے کا شکار ٹک ٹاکر غائب ہے، فون بند ہے اور گھر میں کوئی موجود نہیں، جس کے باعث تفتیش رک گئی ہے۔
تفتیشی افسر کے مطابق ٹک ٹاکر ایمان فاطمہ نے تھانے آنے سے انکار کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ اس کیس سے ان کا کوئی تعلق نہیں اور نہ ہی وہ مدعیہ ہیں۔
دوسری جانب ملزمہ ثناء بی بی نے بھی عدالت میں بیان دیا کہ ان کا اس مقدمے سے کوئی تعلق نہیں، نہ وہ کبھی ٹک ٹاکر سے ملی ہیں اور نہ ہی کسی ملزم سے۔
ٹک ٹاکر کے بال کاٹنے کے مقدمے میں تفتیش بند گلی میں داخل ہو چکی ہے اور پولیس مدعی بن کر خود پھنس گئی ہے۔ ایک اور ملزم نظار خان ارمان بھی ضمانت منظور کرا کے غائب ہو گیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ٹک ٹاکر
پڑھیں:
خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔
فیصلے کے مطابق نیب خیبرپختونخوا اپرکوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔
احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔
فیصلے میں مزید بتایا گیا کہ عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے ضبط شدہ رقم چیئرمین نیب کے نیشنل بینک آف پاکستان، پی ایم سیکریٹریٹ برانچ اسلام آباد کے اکاؤنٹ میں منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق ضبط شدہ رقم ملزم کی پلی بارگین کے تحت واجب الادا رقم میں ایڈجسٹ کی جائے گی۔