9 مئی کیسز: عمران خان کی اڈیالہ جیل روبکار سے حاضری لگائی گئی
اشاعت کی تاریخ: 13th, December 2025 GMT
انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت کے جج امجد علی شاہ نے سانحہ 9 مئی کے 11 مقدمات کی سماعت نئے سال آغاز 3 جنوری تک ملتوی کر دی بانی چیئرمین تحریک انصاف کی اڈیالہ جیل روبکار سے حاضری لگائی گئی۔
انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت راولپنڈی میں آج سانحہ 9 مئی کے 11 مقدمات کی سماعت ہوئی۔
آج بھی ان کیسوں میں مقدمات کے چالان نقول تقسیم کرنے کا پراسس مکمل نا ہوسکا، ملزمان کی کم تعداد عدالت پیش ہوئی۔
سابق وزیر داخلہ شیخ رشید احمد پیش ہوئے حاضری لگوائی اور چلے گئے ان 11 مقدمات میں جی ایچ کیو گیٹ 4 حملہ کیس، آرمی میوزیم حملہ، صدر میں حساس ادارہ کی بلڈنگ جلنے، میٹرو بس اسٹیشن حملہ کیس بھی شامل ہیں۔
عدالت نے آئندہ تاریخ پر ان کیسوں میں آئیندہ تاریخ چالان نقول تقسیم کا مرحلہ مکمل کرنے اور فرد جرم عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
تمام متعلقہ تھانوں کے تفتیشی افسران کو ریکارڈ سمیت پیش ہونے کی ہدایت کی گئی جبکہ سابق وزیر اعظم عمران خان اور سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی بھی جیل روبکار پر حاضری لگائی گئی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔