حکومت کا عمران خان کو اڈیالہ جیل سے منتقل کرنے پر غور
اشاعت کی تاریخ: 10th, December 2025 GMT
وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر برائے اطلاعات و امور خیبر پختونخوا اختیار ولی خان نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی ملک کو عدم استحکام کا شکار کرنے کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہے اور احتجاج کے نام پر فتنہ و فساد پھیلانے کی کوشش کی جا رہی ہے، حکومت نے قیدی نمبر 804 (عمران خان) کو اڈیالہ جیل سے منتقل کرنے پر سنجیدگی سے غور شروع کردیا ہے۔
اسلام آباد میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے اختیار ولی خان نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کے ساتھ مذاکرات کے تمام دروازے بند ہو چکے ہیں اور ملک میں عشق پاکستان اور عشق عمران میں واضح لکیر کھینچ دی گئی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی اس فوج پر حملہ آور ہوئی جس نے پوری دنیا میں پاکستان کا سر فخر سے بلند کیا، بانی پی ٹی آئی نے جو ٹویٹ کیا نہ پی ٹی آئی اسے نگل سکتی ہے نہ اگل سکتی ہے، پی ٹی آئی پشاور جلسے میں پورے ملک سے لوگ بلا کر بھی چند لوگ اکٹھے نہ کر سکی ، پی ٹی آئی کے لوگ مذہب کو سیاست کیلئے استعمال کرتے ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ پی ٹی آئی اپنی سیاست کو دہشت گردی کیلئے استعمال کر رہی ہے ، ٹی ٹی پی اور پی ٹی آئی میں کوئی فرق نہیں کیونکہ آئے روز پی ٹی آئی فوج اور عدلیہ پر حملہ آور ہوتی ہے اور ان کی خواہش ہے کہ پی ٹی آئی کو آج بھی پاناما بنچ والی عدلیہ چاہئے۔
اختیار ولی خان نے سوال اٹھایا کہ پی ٹی آئی نے اپنے دور حکومت میں کون سا پراجیکٹ بنایا؟ انہوں نے الزام عائد کیا کہ پی ٹی آئی نے ہماری نوجوان نسل کو اپنی نفرت کی سیاست کی بھینٹ چڑھایا جس کی مثال ہے کہ خیبرپختونخوا میں 13 سالوں میں ایک ہسپتال، ایک یونیورسٹی نہیں بنا سکی۔
انہوں نے بتایا کہ بانی پی ٹی آئی کے ٹویٹ کو ان کی اپنی ہی قیادت ری ٹویٹ نہیں کر رہی، پی ٹی آئی نے ہمیشہ ملک کو نقصان پہنچایا، 9 مئی اور 26 نومبر جیسے واقعات کئے۔
انہوں نے ماضی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ 2013 میں ان کو روشناس کرایا گیا اور 2018 میں انہیں ملک پر مسلط کر دیا گیا۔
اختیار ولی خان کے مطابق خیبرپختونخوا میں بلے کا نشان لینے کیلئے کوئی تیار نہیں تھا۔ گورنر راج کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ گورنر راج کو جمہوری قوتیں پسند نہیں کرتیں اور اگر ہم نے گورنر راج لگانا ہوتا تو تب لگاتے جب آپ نے 26 نومبر والا واقعہ کیا تھا۔
انہوں نے الزام لگایا کہ پی ٹی آئی لاشوں کی سیاست کرتی ہے، پی ٹی آئی کو خون چاہئے اور ہمیشہ پی ٹی آئی کی جانب سے انتشار اور تشدد کا راستہ اپنایا گیا جبکہ حکومت کبھی بھی تشدد کا راستہ نہیں اختیار کرتی۔
انہوں نے غیر ملکی مداخلت کا اشارہ دیتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس بھارت اور اسرائیل سے آپریٹ کئے جا رہے ہیں اور بھارتی میڈیا بانی پی ٹی آئی کی بہنوں کے جھوٹے بیانیے کو بڑھ چڑھ کر پیش کر رہا ہے۔
انہوں نے دو ٹوک اعلان کیا کہ بانی پی ٹی آئی کے ساتھ مذاکرات کیلئے تمام دروازے بند ہو چکے ہیں اور ملک میں عشق پاکستان اور عشق عمران میں واضح لکیر کھینچ دی گئی ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ ہم کسی کو غدار یا کسی جماعت پر پابندی لگانے کی بات نہیں کرتے اور اپنے عزم کا اعادہ کیا کہ میرا انتخاب پاکستان ہے، پاکستان ہمیشہ زندہ باد رہے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ احتجاج تو ہم نے سنا تھا کہ چند منٹوں یا گھنٹوں کا ہوتا ہے، یہ کونسا طریقہ ہے کہ آپ نے پنڈی اور اڈیالہ روڈ پر بسنے والے لوگوں کی زندگی ہر ہفتے اجیرن بنادیں، جن بچوں نے اسکول جانا ہے، جنہیں واپس گھر آنا ہوتا ہے، ان کی زندگی محال ہوجاتی ہے۔
اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’تو میرے خیال میں پی ٹی آئی اس بات پر مصر ہے وہ چاہتی ہے کہ یہاں سے قیدی نمبر ’اٹھ سو چوڑ‘ کو کسی دوسرے صوبے کی جیل میں منتقل کردیا جائے، حکومت نے اس پر سنجیدگی سے غور شروع کردیا ہے، کیونکہ لوگوں کی زندگی میں زخنے ڈالنے سے محفوظ بنانے کے لیے جو بھی اقدامات اٹھانے پڑیں گے، وہ ہم اٹھائیں گے‘۔
https://www.facebook.com/expressnewspk/videos/no-mercy%D9%BE%DB%8C-%D9%B9%DB%8C-%D8%A7%D9%93%D8%A6%DB%8C-%DA%A9%D9%88-%D9%84%D8%A7%D8%B4%DB%8C%DA%BA-%DA%86%D8%A7%DB%81%D8%A6%DB%8C%DA%BA-%D8%A7%D8%AE%D8%AA%DB%8C%D8%A7%D8%B1-%D9%88%D9%84%DB%8C-%D9%86%DB%92-%D8%B9%D9%85%D8%B1%D8%A7%D9%86-%D8%AE%D8%A7%D9%86-%DA%A9%DB%8C-%D8%A8%DB%81%D9%86%D9%88%DA%BA-%DA%A9%D9%88-%D9%86%D8%B4%D8%A7%D9%86%DB%92-%D9%BE%D8%B1-/25311933425083539/
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: اختیار ولی خان بانی پی ٹی آئی پی ٹی آئی کے کہ پی ٹی آئی پی ٹی آئی نے انہوں نے کہا کہ کیا کہ تھا کہ
پڑھیں:
حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔
قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔
آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔
چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔
رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔
سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔
چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔
شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔