لاہور (رفیعہ ناہید اکرام) لاہور چڑیا گھر کے ڈائریکٹر عاصم چیمہ نے کہا ہے کہ اب پھر سے چڑیا گھر پہ سیاحوں کے اعتماد میں اضافہ ہورہا ہے۔ شکایات کے فوری ازالے اور ٹکٹ کے سلسلے میں مسائل کو کافی حد تک حل کردینے سے لوگ مطمئن اور خوش ہیں۔ لاہور چڑیا گھر کا وزٹ کرنے والوں میں ہر طبقے کے بچے شامل ہوتے ہیں اس لئے ٹکٹ یا کینٹین وغیرہ کے سلسلے میں ان کی قوت خرید کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار گزشتہ روز نوائے وقت سے خصوصی انٹرویو میں کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ نومبر میں نیلا آسمان لاہور کے شہریوں ہی نہیں لاہور چڑیا گھر کے باسیوں کیلئے بھی انتہائی خوشگوار بات رہی، جس سے ہمیں گزشتہ برسوں کے مقابلے میں جانوروں کیلئے سموگ کے مضر اثرات سے بچاؤ کیلئے زیادہ اقدامات نہیں کرنا پڑے، تاہم موسم سرما کے سلسلے میں انکی خوراک اور رہائشی سہولتوں میں ضروری تبدیلیاں کر دی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جانور ہوں یا انسان توجہ اور محبت سے انکی طبیعت پر خوشگوار اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ ہماری کوشش ہے کہ ناصرف لاہور چڑیا گھر کا رخ کرنے والے سیاحوں کیلئے اچھے اقدامات کریں بلکہ یہاں مقیم جنگلی جانوروں اور پرندوں کو بھی بہترین ماحول فراہم کیا جائے تاکہ وہ اپنے قدرتی ماحول سے دور رہنے کے باوجود یہاں صحتمند اور خوش و خرم رہیں۔ عاصم چیمہ نے بتایا کہ سیاحوں کیلئے مسجد کی مرمت اور تزئین و آرائش اور ٹوائلٹس کے علاوہ لارنس روڈ والی دیوار اور راشن ایریا زیر تعمیر ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس وقت ہمارے پاس 700 سے زیادہ اقسام کے جانور موجود ہیں، ان میں سے 90 فیصد جانور نئے ہیں اور زیادہ تر غیر ملکی ہیں۔ ان میں ہرنوں اور بندروں کی مختلف اقسام شامل ہیں جبکہ پاکستان میں سب سے اچھا ’’ منکی ہاؤس‘‘ لاہور چڑیا گھر میں بنایا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ چڑیا گھر میں اب زندہ جنگلی جانوروں اور پرندوں کے ساتھ ساتھ نایاب قسم کے جانوروں کے 14 نئے مجسمے بھی نصب کر دئیے گئے ہیں۔ یہ مجسمے شہریوں کو تفریح کے ساتھ ساتھ جنگلی حیات سے آگاہی دینے کے مقصد سے بنائے گئے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: لاہور چڑیا گھر انہوں نے

پڑھیں:

بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی

اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔

علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔

علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ، شہری پھٹ پڑے
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • بارشوں سے پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، پی ڈی ایم اے
  • مزہ کرکرا: اے آئی سے بنے جعلی جانوروں نے اصلی ویڈیوز بھی مشکوک بنادیں
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • حکومت مساجد و مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان بنائے، شاہ عبدالحق قادری
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • رائیونڈ کا ایک شہری اب آزاد کشمیر کا وزیراعظم بننا چاہتا ہے، بلاول بھٹو