سپہ سالار کیخلاف ہرزہ سرائی ناقابلِ برداشت: سپیکر پنجاب اسمبلی
اشاعت کی تاریخ: 10th, December 2025 GMT
لاہور (خصوصی نامہ نگار) سپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان نے ملکی سیاسی حالات، عدالتی معاملات، پارلیمانی رویّوں اور 9 مئی کے واقعات پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ملک اس وقت شدید اضطراب اور داخلی دبائو کا شکار ہے۔ حکومت نے ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس پر تفصیلی جواب دیا اور واضح دکھائی دیتا ہے کہ ملک کے داخلی معاملات پر شدید شورش جنم لے رہی ہے۔ سپہ سالار کے خلاف ہرزہ سرائی ناقابلِ برداشت ہے، پوری قوم پاک فوج کے ساتھ کھڑی ہے۔ پورا نظام کسی وجہ سے پیچھے دھکیلا جا رہا ہے۔ سپریم کورٹ میں گروہ بندی کے شواہد موجود رہے ہیں۔ پانچ مخصوص ججز کے سامنے گزشتہ تین برسوں کے دوران ایک ہی نوعیت کے 31 مقدمات پیش کیے گئے۔ چاہے وہ نواز شریف، حنیف عباسی یا حمزہ شہباز کے فیصلوں سے متعلق ہوں۔ پنجاب اسمبلی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان کا مزید کہنا تھا کہ 2018ء کے بعد سے یہ طے کر دیا گیا کہ پارلیمان میں صرف شور شرابہ ہوگا، بجٹ سیشن سے لے کر عام قانون سازی تک کسی معاملے پر سنجیدہ گفتگو نہیں ہونے دی گئی۔ اسمبلی میں ڈائس پر چڑھ کر ہنگامہ آرائی کی گئی۔ گریبان پکڑے گئے، عوامی مسائل پر کوئی بات نہیں ہوئی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: پنجاب اسمبلی
پڑھیں:
نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائیگا۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت میں برسراقتدار مخلوط حکومت کی اتحادی جماعت بی جے پی کے لیڈر اور راجیہ سبھا کے رکنِ پارلیمان انجینیئر غلام علی کھٹانہ نے الزام عائد کیا کہ جموں و کشمیر میں نیشنل کانفرنس کی قیادت والی حکومت عوامی مسائل کے حل میں ہر محاذ پر ناکام ثابت ہوئی ہے، جس کے باعث عوام میں بے چینی اور ناراضگی بڑھ رہی ہے۔ ضلع رامبن کے سب ڈویژن بنیہال میں منعقدہ ایک عوامی دربار سے خطاب کرتے ہوئے جس میں مقامی باشندوں اور سرکاری افسران نے شرکت کی، غلام علی کھٹانہ نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران تعلیم، صحت، پینے کے صاف پانی اور بجلی کے شعبوں کی حالت مزید خراب ہوئی ہے۔ انہوں نے وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت پر عوام سے دور ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے زیادہ جوابدہی کا مطالبہ کیا۔
بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائے گا۔ انہوں نے مرکز کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر کی انتظامیہ کی کارکردگی پر وائٹ پیپر جاری کرنے کا مطالبہ بھی کیا اور گوجر-بکروال برادریوں اور بے گھر کشمیری پنڈتوں کے لئے مزید حفاظتی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔ عوامی ملاقات کے دوران مختلف عوامی مسائل اور ترقیاتی امور پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا، جس میں مقامی حکام، بی جے پی رہنماؤں اور علاقے کے باشندوں نے شرکت کی۔