Jasarat News:
2026-07-24@05:07:24 GMT

کراچی کا کھلا مین ہول — یا نظام کی کھلی قبر؟

اشاعت کی تاریخ: 4th, December 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

نیپا چورنگی۔ ایک کھلا گٹر۔ تین سالہ معصوم ابراہیم۔ اور پھر ایک ایسی موت جو صرف ایک خاندان کا غم نہیں رہی، یہ پورے شہر کے اجتماعی شعور پر ہتھوڑا بن کر گری۔ یہ حادثہ نہیں تھا، یہ قتل تھا۔ اور اس قتل کا مجرم کوئی ایک فرد نہیں، بلکہ وہ پورا سیاسی، بلدیاتی اور انتظامی نظام ہے جو گزشتہ دو دہائیوں سے کراچی پر قابض ہے۔ وہ نظام جس نے اس شہر کو کھنڈر، قبرستان اور تجربہ گاہ بنائے رکھا۔ وہ نظام جس نے تین سالہ ابراہیم کی جان نہیں لی بلکہ کراچی کے مستقبل کا گلا گھونٹ دیا۔

یہ موت اچانک نہیں ہوئی یہ نظام کا منطقی انجام تھا۔ روزانہ کوئی نہ کوئی بچہ، نوجوان یا بزرگ ٹوٹے ڈھکن، کھلے مین ہول، اُبلتے گٹروں یا ٹوٹی سڑکوں کے سبب موت کے منہ میں جاتا ہے۔ کراچی حادثات سے نہیں حکمرانوں کی نااہلی سے مرتا ہے۔ وہ گٹر کھلا کیوں تھا؟ یہ سوال ابراہیم کے جسم کے ساتھ گہرائی میں دفن نہیں ہونا چاہیے۔ یہ واحد کھلا مین ہول نہیں۔ شہر میں ہزاروں گٹر موت کے دہانے بن کر کھلے پڑے ہیں۔ اربوں روپے ترقیاتی فنڈز کے نام پر کھائے جاتے ہیں، مگر ایک ڈھکن وقت پر نہیں لگایا جاتا۔

کراچی کے ٹیکس سے سندھ کا بجٹ بنتا ہے، مگر کراچی کے بچوں کی قیمت ایک ڈھکن سے بھی کم ہے۔ جن اداروں کی ذمے داری ہے ڈھکن لگانا وہ اختیارات نہ ہونے کا بہانہ بناتے ہیں۔ جن کے پاس اختیار ہے وہ نااہلی اور کرپشن کا ڈھکن اپنے چہروں پر ڈال کر خوابِ غفلت میں سوئے ہوئے ہیں۔ یہ کھلا گٹر لوہے کا ڈھکن غائب نہیں تھا یہ پورے نظام کی کھلی قبر تھی۔ پیپلز پارٹی گزشتہ 17 سال سے کراچی کے وسائل پر قابض ہے۔ ان کے نزدیک کراچی شہر نہیں، صرف ایک کیش مشین ہے۔

سڑکیں ٹوٹ جائیں؟ کوئی مسئلہ نہیں۔ بچے گٹروں میں گر کر مر جائیں؟ معمول کی بات ہے۔ پانی ٹینکر مافیا بیچے؟ سسٹم کو اسی پر چلنا ہے۔ ہر حادثے کے بعد ایک ’’انکوائری کمیٹی‘‘ بنا کر وقت گزار دیا جاتا ہے۔ کسی کے گھر کا چراغ گل ہو جائے، مگر حکومت کی آنکھ نہیں کھلتی۔ لیکن ابراہیم کا خون ایسا دھبا ہے جو دھوئے نہیں دھل سکتا۔ ابراہیم کی موت کے بعد بھی میئر کراچی کے چہرے پر درد نہیں صرف کیمروں کے لیے پرفارمنس نظر آئی۔ موصوف کا فرمان ہے کہ جہاں ڈھکن لگے وہ ان کی وجہ سے، اور جہاں نہ لگے وہاں قصور ٹاؤنز کا ہے کیونکہ ’’پیسہ ہم دیتے ہیں‘‘۔ یعنی جو کام ہو جائے وہ میئر صاحب کا کارنامہ، اور جو نہ ہو وہ دوسروں کا جرم۔

سوال یہ ہے: جس شہر کا میئر ڈھکن کو اپنی کارکردگی کا معیار سمجھتا ہو، وہ شہر کیسے چلائے گا؟ جو میئر شہر کے گٹر اور اپنے ذہن کے گٹر میں فرق نہ کر سکے، وہ کراچی کے مسائل کیا سمجھے گا؟ ایم کیو ایم کی تاریخ بھی سب کے سامنے ہے۔ اختیارات بھی لیے، وزارتیں بھی لیں، ہر حکومت کا حصہ بھی بنے۔ آج میڈیا پر رونا کیوں؟ کراچی والے اس منافقت کو اچھی طرح پہچانتے ہیں۔ ابراہیم کو کس نے مارا؟ یہ سوال ہر گھر میں گونج رہا ہے۔ اور اس کا جواب ایک نہیں پورا گٹھ جوڑ ہے۔

1۔ وہ سیاسی نظام جو کراچی کو کبھی اپنا شہر سمجھ ہی نہیں پایا۔ 2۔ وہ پیپلز پارٹی جو کراچی کے وسائل چوس کر اندرون سندھ میں سیاسی سرمایہ کاری کرتی رہی۔ 3۔ وہ ایم کیو ایم جو ہر حکومت میں کراچی کا سودا کرتی رہی۔ 4۔ وہ بی آر ٹی مافیا جس نے سڑکوں کو کھود کر شہر کو برباد کیا۔ 5۔ وہ لینڈ مافیا جس نے گلیوں، پارکوں اور نکاسی ِ آب کا قتل کیا۔ 6۔ وہ ٹینکر مافیا جو پانی بیچتا ہے مگر سیوریج لائنیں مرمت نہیں ہونے دیتا۔ 7۔ وہ پولیس جو قانون نہیں، مافیاؤں کی وفادار بن چکی ہے۔ یہ سب ایک ہی صف میں کھڑے ہیں۔ اسی صف کے آخر میں وہ کھلا مین ہول تھا جس نے ابراہیم کی جان لی۔

کیا کراچی کی اولاد کی قیمت ایک ڈھکن ہے؟ کراچی آج سوال بن کر کھڑا ہے: کیا ہر ماں اپنے بچے کو خوف کے سائے میں گھر سے نکالے گی؟ کیا ہماری نسلیں یوں ہی مرتی رہیں گی؟ کیا شہری ٹیکس اس لیے دیتے ہیں کہ ان کے اپنے بچے گٹروں میں گر کر مر جائیں؟ اگر اس حادثے کے بعد بھی کراچی کی روح نہ جاگی، تو ہم مجموعی طور پر مردہ قوم ہیں۔ یہ المیہ نہیں، یہ اعلان ہے۔ اس فاسد، کرپٹ اور نااہل نظام کے خلاف بغاوت کی گھنٹی ہے۔ کراچی اب خاموش نہیں رہ سکتا۔ اب وہ نظام بدلنا ہوگا جو بچوں کے خون سے چلتا ہے۔

کراچی کے مطالبات واضح ہیں: 1۔ وزیراعلیٰ سندھ، میئر کراچی اور وزیر بلدیات فوراً مستعفی ہوں۔ 2۔ ابراہیم کی موت کی آزاد عدالتی تحقیقات ہوں۔ 3۔ ذمے داران کو عبرتناک سزا دی جائے، صرف معطلی نہ ہو۔ 4۔ کراچی کو مالی و انتظامی خودمختاری دی جائے۔ 5۔ بی آر ٹی، لینڈ اور ٹینکر مافیاؤں کے خلاف فوری کارروائی ہو۔ 6۔ شہر بھر میں مین ہول کور لگانے کی ایمرجنسی نافذ کی جائے۔

آخر میں ایک سوال: میئر کراچی کی ’’دماغی کارکردگی‘‘ بھی ایک الگ ہی سانحہ ہے میئر صاحب کی گفتگو کا مفہوم یہ نکلتا ہے کہ: جو پارک، سڑکیں اور ترقیاتی کام جماعت اسلامی کے ٹاؤنز کر رہے ہیں، اس کا کریڈٹ میئر صاحب کا بنتا ہے کیونکہ ’’پیسہ ہم دیتے ہیں‘‘۔ اور جہاں سٹی کارپوریشن کے تحت ڈھکن نہیں لگے، وہ بھی ٹاؤن کی غلطی ہے کیونکہ ’’پیسہ سٹی دیتا ہے‘‘۔ یعنی کام ہو تو کریڈٹ میئر کا کام نہ ہو تو ذمے داری دوسروں کی! اس پوری رام کہانی کے بعد ایک سوال کراچی والوں کے ذہن میں کھڑا ہے: زیادہ خطرناک کون ہے؟ سڑک کا کھلا گٹر، یا میئر صاحب کے دماغ کا کھلا گٹر؟ ڈھکن کی سب سے زیادہ ضرورت کسے ہے؟ ابراہیم کا سوال باقی ہے۔

ابراہیم چلا گیا۔ ننھے قدم، چھوٹے ہاتھ، ایک مسکراہٹ سب ختم ہو گئی۔ مگر ایک سوال آج بھی زندہ ہے: ’’تم کو میرا بدلہ کب لینا ہے؟‘‘ کراچی والو! اگر آج بھی نہ اُٹھے تو آنے والی نسلیں ہمیں معاف نہیں کریں گی۔ یہ شہر اٹھنے والا ہے اور جب کراچی اٹھا، تو اس سارے فاسد نظام کو بہا کر لے جائے گا۔

میر بابر مشتاق سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ابراہیم کی کراچی کے کراچی ا مین ہول کے بعد

پڑھیں:

تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟

پاکستان تحریک انصاف (PTI) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔

پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔

دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔

بڑی احتجاجی کال پر تحفظات

پارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔

ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔

پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔

9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکا

پارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔

26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔

مزیدپڑھیں:بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران چل بسی

اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔

عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل

عمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔

پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔

5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟

گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔

ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔

متعلقہ مضامین

  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • پیٹرول کی قیمتیں روزانہ بدلنے کا نظام، عوام خوش یا پریشان؟
  • قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • کراچی میں کھلے مین ہول میں گر کر 7 سالہ بچہ جاں بحق
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف