سانحہ کراچی کی بدحالی اور بلدیاتی اداروں کی نااہلی کا کھلا ثبوت ہے
اشاعت کی تاریخ: 2nd, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
حیدرآباد(اسٹاف رپورٹر)پاکستان مسلم لیگ فنکشنل مرکزی نائب صدر پیر یاسر سائیں نے کراچی گلشن اقبال نیپا چورنگی کے قریب پیش آنے والے دلخراش واقعے پر شدید ردِعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ اتوار کی شام ایک ماں اپنے چار سالہ بچے کے ساتھ ڈپارٹمنٹل اسٹور میں شاپنگ کے لیے آئی تھی، مگر باہر نکلتے ہی تو اس کا معصوم بچہ کھلے گٹر میں گر کر جاں بحق ہوگیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ سانحہ کراچی کی بدحالی اور بلدیاتی اداروں کی نااہلی کا کھلا ثبوت ہے_ پیر یاسر سائیں نے کہا کہ اس ماں کی آہ شاید آسمان تک پہنچ جائے مگر افسوس کہ اقتدار کے ایوانوں تک نہیں پہنچے گی۔ پیپلز پارٹی کی حکومت سترہ سال سے سندھ پر حکمرانی کر رہی ہے لیکن کراچی میں گٹروں کے ڈھکن تک نہیں لگوا سکی۔ انہوں نے کہا کہ شہر میں ترقیاتی کاموں کے لیے اربوں روپے کے بجٹ دیے جاتے ہیں، مگر نہ نالوں کی صفائی ہوتی ہے اور نہ ہی کھلے مین ہولز بند کیے جاتے ہیں۔ انسانی جانیں گٹروں میں گر کر ضائع ہو رہی ہیں اور حکمران خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کراچی کو مسلسل لوٹا جا رہا ہے، عوام کو سہولیات دینے کے بجائے سرکاری خزانہ دونوں ہاتھوں سے نوچا جا رہا ہے۔ پیر یاسر سائیں نے مطالبہ کیا کہ سانحے کے ذمہ دار اداروں کے خلاف کارروائی کی جائے، شہر بھر میں ہنگامی بنیادوں پر کھلے مین ہولز بند کیے جائیں اور نالوں کی مناسب صفائی کا فوری بندوبست کیا جائے تاکہ مزید معصوم جانیں ضائع ہونے سے بچ سکیں
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: نے کہا کہ
پڑھیں:
حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء) حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا ، مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے ۔ تازہ ترین حکومتی اعداد و شمار کے مطابق ایف بی آر کی ٹیکس وصولیاں نظرثانی شدہ اہداف کے مطابق جاری ہیں۔ مشیر وزیر خزانہ خرم شہزاد کے مطابق 864 ارب روپے کے ٹیکس شارٹ فال کا تاثر ابتدائی 14 ہزار 130 ارب روپے کے ہدف کی بنیاد پر دیا جا رہا ہے جو گمراہ کن ہے۔معاشی حالات میں تبدیلی کے بعد آئی ایم ایف کی مشاورت سے ریونیو ہدف تقریباً 13 ہزار ارب روپے تک ایڈجسٹ کیا گیا۔ مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مہنگائی،درآمدات اور عالمی صورتحال میں تبدیلی کے باعث اہداف پر نظرثانی معمول کا مالی عمل ہے، نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کیتحت ایف بی آر کی کارکردگی مضبوط،11 ماہ کا تقریباً مکمل ہدف حاصل کیا گیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا جبکہ مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے۔(جاری ہے)
مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مئی میں ایف بی آر نے ماہانہ ہدف کا 97 فیصد جبکہ 11 ماہ کے ہدفکا 99.8 فیصد حاصل کیا، موجودہ کارکردگی ریونیو بحران یا بڑے ٹیکس شارٹ فال کے دعوؤں کی نفی کرتی ہے، جون 2026 کا 1 ہزار 727 ارب ریونیو ہدف 15 فیصد اضافے کے ساتھ نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کے مطابق قابل حصول ہے، کاروباری طبقے اور سرمایہ کار غیر معمولی ٹیکس اقدامات سے متعلق قیاس آرائیوں پر توجہ نہ دیں، مالی معاملات پر تبصرہ پرانے اہداف کے بجائے موجودہ معاشی حقائق اور درست اعداد و شمار پر ہونا چاہیے۔