متحدہ عرب امارات کے قومی دن پر دیوان فخر الدین کی مبارکباد
اشاعت کی تاریخ: 2nd, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (کامرس رپورٹر) متحدہ عرب امارات کے قومی دن کے بابرکت موقع پر فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آی) کی پاکستان،یو اے ای بزنس کونسل (پی یو بی سی) یو اے ای کی قیادت، حکومت اور بہادر عوام کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتی ہے۔ یہ دن ’’روحِ اتحاد‘‘ کی غیرمعمولی ترقی کی علامت ہے۔ ایک ایسا سفر جو دور اندیش حکمتِ عملی، معاشی تبدیلی اور سفارتی مہارت کا شاہکار ہے۔ ایف پی سی سی آئی پاکستان۔یو اے ای بزنس کونسل کے چیئرمین دیوان فخر الدین نے پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان گہرے اور کثیر جہتی تعلقات پر زور دیا۔ انہوں نے کہادونوں ممالک کا رشتہ تاریخی بھائی چارے سے آگے بڑھ چکا ہے اور اب ایک جدید، باہمی مفادات پر مبنی معاشی شراکت داری کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ یو اے ای کا عالمی مالیاتی، تجارتی اور اختراعی مرکز کے طور پر ابھرنا جو اس قومی دن پر جشن منایا جا رہا ہے۔ پورے خطے کے لیے ایک ترغیب اور ماڈل ہے۔دیوان فخر الدین نے اجاگر کیا کہ یو اے ای پاکستان کا تیسرا بڑا تجارتی شراکت دار ہے اور دوطرفہ تجارت نئی بلندیوں کو چھو رہی ہے۔ انہوں نے اس رشتے کے مکمل امکانات کو حقیقت کا روپ دینے کے لیے پائیدار پالیسی رفتار برقرار رکھنے کی اہمیت پر زور دیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: یو اے ای
پڑھیں:
مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
نیویارک:اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے خبردار کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی صورتحال تیزی سے قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے اور پورا خطہ ایک ایسے خطرناک موڑ پر پہنچ چکا ہے جس کے نتائج ناقابلِ تصور ہو سکتے ہیں۔
سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انتونیو گوتریس نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ ناقابلِ تصور تباہی کے کنارے پر کھڑا ہے اور خطہ مسلسل وسیع ہوتے ہوئے تصادم کے دائرے میں کھنچتا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہو رہی ہے ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے جبکہ ہر روز نئی کشیدگی مزید خطرناک حالات پیدا کر رہی ہے۔
اقوامِ متحدہ کے سربراہ کے مطابق جیسے جیسے تنازع پھیل رہا ہے ویسے ویسے سیاسی مقاصد پس منظر میں چلے جا رہے ہیں اور تصادم خود ہی ایک مستقل بحران کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے۔
انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ مزید کشیدگی کو روکنے اور خطے میں امن و استحکام کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں کیونکہ موجودہ حالات نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی امن کے لیے بھی سنگین خطرہ بن سکتے ہیں۔