متحدہ عرب امارات کے قومی دن پر دیوان فخر الدین کی مبارکباد
اشاعت کی تاریخ: 2nd, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (کامرس رپورٹر) متحدہ عرب امارات کے قومی دن کے بابرکت موقع پر فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آی) کی پاکستان،یو اے ای بزنس کونسل (پی یو بی سی) یو اے ای کی قیادت، حکومت اور بہادر عوام کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتی ہے۔ یہ دن ’’روحِ اتحاد‘‘ کی غیرمعمولی ترقی کی علامت ہے۔ ایک ایسا سفر جو دور اندیش حکمتِ عملی، معاشی تبدیلی اور سفارتی مہارت کا شاہکار ہے۔ ایف پی سی سی آئی پاکستان۔یو اے ای بزنس کونسل کے چیئرمین دیوان فخر الدین نے پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان گہرے اور کثیر جہتی تعلقات پر زور دیا۔ انہوں نے کہادونوں ممالک کا رشتہ تاریخی بھائی چارے سے آگے بڑھ چکا ہے اور اب ایک جدید، باہمی مفادات پر مبنی معاشی شراکت داری کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ یو اے ای کا عالمی مالیاتی، تجارتی اور اختراعی مرکز کے طور پر ابھرنا جو اس قومی دن پر جشن منایا جا رہا ہے۔ پورے خطے کے لیے ایک ترغیب اور ماڈل ہے۔دیوان فخر الدین نے اجاگر کیا کہ یو اے ای پاکستان کا تیسرا بڑا تجارتی شراکت دار ہے اور دوطرفہ تجارت نئی بلندیوں کو چھو رہی ہے۔ انہوں نے اس رشتے کے مکمل امکانات کو حقیقت کا روپ دینے کے لیے پائیدار پالیسی رفتار برقرار رکھنے کی اہمیت پر زور دیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: یو اے ای
پڑھیں:
محبوبہ مفتی کا نئی دلی سے مذاکرات کیلئے متحدہ سیاسی محاذ بنانے پر زور
انہوں نے لداخ کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہاں لہہ اور کارگل کے رہنمائوں نے علاقائی اور مذہبی اختلافات کے باوجود مشترکہ طور پر اپنے حقوق اور آئینی تحفظات کے لیے آواز بلند کی۔ اسلام ٹائمز۔ غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر محبوبہ مفتی نے سیاسی جماعتوں پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے اختلافات کو پسِ پشت ڈال کر ایک مشترکہ پلیٹ فارم تشکیل دیں تاکہ نئی دہلی کے ساتھ سیاسی مذاکرات کے لیے سازگار فضا قائم ہو سکے۔ذرائع کے مطابق سرینگر میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے محبوبہ مفتی نے کہا کہ جموں و کشمیر کے سیاسی مسائل کے حل کا واحد راستہ بامعنی سیاسی مذاکرات اور مسلسل رابطہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کو مشترکہ حکمتِ عملی اپناتے ہوئے ایک متحد موقف اختیار کرنا چاہیے۔ انہوں نے لداخ کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہاں لہہ اور کارگل کے رہنمائوں نے علاقائی اور مذہبی اختلافات کے باوجود مشترکہ طور پر اپنے حقوق اور آئینی تحفظات کے لیے آواز بلند کی۔ انہوں نے کہا کہ اسی طرز پر جموں و کشمیر میں بھی ایک اجتماعی سیاسی نقطہ نظر اپنانے کی ضرورت ہے۔
محبوبہ مفتی نے کہا کہ پیپلز الائنس فار گپکار ڈیکلریشن جیسے پلیٹ فارمز کی طرز پر دوبارہ سیاسی اتحاد قائم کیا جانا چاہیے تاکہ مودی حکومت کے ساتھ مذاکرات شروع کئے جا سکیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ مشکل اور کشیدہ حالات میں بھی سیاسی رابطے اور بات چیت کے دروازے کھلے رکھنے کی کوششیں جاری رہنی چاہیں۔ کشمیری عوام چاہتے ہیں کہ منتخب عوامی نمائندے ان کے سیاسی حقوق اور وقار کی بحالی کے لیے بھی کردار ادا کریں۔ محبوبہ مفتی نے کشمیری نوجوانوں میں بڑھتی ہوئی مایوسی اور بیگانگی پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور اعتماد سازی کے اقدامات پر زور دیا۔ انہوں نے شہری علاقوں میں تعینات قابض بھارتی فورسز کی تعداد کم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کشمیری نظربندوں کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ریلیف فراہم کرنے کی بھی اپیل کی۔