آئینی ترمیم: پاکستان کا اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن کا بیان مسترد
اشاعت کی تاریخ: 30th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد : پاکستان نے اقوام متحدہ کے ادارہ برائے انسانی حقوق کی جانب سے 27ویں آئینی ترمیم پر جاری کیے گئے بیان کو مسترد کرتے ہوئے اسے بے بنیاد بلاجواز اور پاکستان کے داخلی معاملات میں غیر ضروری مداخلت قرار دیا ہے۔
دفتر خارجہ کے مطابق عالمی ادارے کے بیان میں نہ صرف زمینی حقائق کو نظرانداز کیا گیا بلکہ پاکستان کے مؤقف کی درست ترجمانی بھی نہیں کی گئی، پاکستانی پارلیمنٹ نے دو تہائی اکثریت سے 27ویں آئینی ترمیم منظور کی، جو مکمل طور پر آئین میں درج طریقہ کار کے مطابق کی گئی۔
ان کا کہنا تھا کہ جس طرح دنیا کے تمام جمہوری ممالک میں آئینی ترامیم اور قانون سازی منتخب عوامی نمائندوں کا استحقاق ہوتی ہے، اسی طرح پاکستان کی منتخب پارلیمنٹ بھی اپنے فیصلوں میں مکمل خودمختار ہے اور کسی بھی بیرونی ادارے کو اس پر اعتراض کا حق نہیں ہونا چاہیے۔
ترجمان نے مزید کہا کہ انسانی حقوق، شہری آزادیوں اور بنیادی حقوق کا تحفظ پاکستان کے آئین کا مرکزی حصہ ہے اور ریاست ان کی پاسداری کے لیے پرعزم ہے، اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کو چاہیے کہ وہ پاکستان کے پارلیمانی فیصلوں کا احترام کریں اور ایسے بیانات سے گریز کریں جن میں سیاسی تعصب یا غلط معلومات جھلکتی ہوں۔
دفتر خارجہ نے واضح کیا کہ نئی آئینی ترامیم نے آئین میں درج تمام تقاضوں اور مقررہ قانونی مراحل کی مکمل پیروی کی ہے، اس لیے کسی بیرونی تبصرے کی کوئی گنجائش نہیں بنتی۔ ترجمان نے کہا کہ پاکستان ہمیشہ مثبت اور تعمیری روابط کا خواہاں ہے، داخلی آئینی معاملات پر بلاجواز تنقید کو قبول نہیں کیا جاسکتا۔
حکومتی ذرائع کے مطابق پاکستان آئندہ بھی انسانی حقوق سے متعلق بین الاقوامی فورمز پر اپنا مؤقف پیش کرتا رہے گا اور اس بات پر زور دیتا رہے گا کہ ہر ملک کو اپنی آئینی و قانونی اصلاحات کا حق حاصل ہے، جس کا احترام عالمی سطح پر ضروری ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: پاکستان کے
پڑھیں:
وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی
وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی، وفاقی آئینی عدالت نے غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو فیڈ سپلائی کرنے سے متعلق اہم فیصلہ جاری کر دیا.عدالت نے قرار دیا ہے کہ ٹیکس قانون کے سیکشن 31اے میں ابہام ہے۔
جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے فیصلہ جاری کر دیا. وفاقی آئینی عدالت نے فیصلے میں کہا حکومت نے غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو فیڈسپلائی کرنے پر مل مالکان پر اضافی ٹیکس عائد کیا۔
اضافی ٹیکس سال 2024 کے فنانس ایکٹ کی مد میں وصول کیا جا رہا تھا،قانون کے مطابق پولٹری فارمز کو ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے،قانون کے مطابق استثنی ملنے پر پولٹری فارمز رجسٹریشن کے پابند نہیں ہیں۔
قانون غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو مکمل تحفظ فراہم کرتا ہے،رجسٹریشن کی قانونی پابندی نہ ہونے پر پولٹری فارمز اور فیڈ ملز کو سزا نہیں دی جا سکتی،وفاقی آئینی عدالت نے لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔
لاہور ہائیکورٹ نے پولٹری فیڈ ملز سے 4% اضافی ٹیکس کی وصولی کو درست قرار دیا تھا.پولٹری فیڈ ملز مالکان نے اضافی ٹیکس کی وصولی کیخلاف عدالت سے رجوع کیا تھا۔