قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا کراچی میں اجلاس، منشیات، لینڈ مافیا، سائبر کرائم اور کچہ آپریشنز پر تفصیلی بریفنگ
اشاعت کی تاریخ: 25th, November 2025 GMT
چیئرپرسن فریال تالپور نے اجلاس سے خطاب میں کہا کہ منشیات ایک لعنت ہے، ہمارے بچوں کو تباہ کر رہی ہے، منشیات فروشوں کے خلاف سخت ترین کریک ڈاؤن کیا جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس معاملے پر زیرو ٹالرنس پالیسی پر عمل کیا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا اہم اجلاس چیئرپرسن میڈم فریال تالپور کی صدارت میں کراچی میں منعقد ہوا، جس میں چھ ایجنڈا موضوعات پر آئی جی سندھ، ڈی آئی جی ہیڈ کوارٹرز اور متعلقہ ڈی آئی جیز نے پوائنٹ ٹو پوائنٹ بریفنگ دی۔ اجلاس کے ایجنڈاز میں گرفتار منشیات مافیا کے کیسز، فارنزک لیب، کیمیکل زدہ دودھ کی تفتیش، لینڈ مافیا کیسز، صوبائی سائبر کرائم یونٹ اور کچہ ایریاز میں جاری آپریشنز شامل تھے۔ آئی جی سندھ نے بتایا کہ منشیات فروشوں کے خلاف کارروائیوں میں 9810 ایف آئی آرز کے تحت 12,623 ملزمان گرفتار کیے جاچکے ہیں۔
چیئرپرسن فریال تالپور نے اجلاس سے خطاب میں کہا کہ منشیات ایک لعنت ہے، ہمارے بچوں کو تباہ کر رہی ہے، منشیات فروشوں کے خلاف سخت ترین کریک ڈاؤن کیا جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس معاملے پر زیرو ٹالرنس پالیسی پر عمل کیا جائے۔ وزیر داخلہ سندھ ضیا الحسن لنجار نے بتایا کہ سندھ میں پولیس، ایکسائز اور اے این ایف کے اشتراک سے ڈرگ مافیا کے خلاف مشترکہ آپریشن جاری ہے، جب کہ داخلی و خارجی پوائنٹس پر تینوں اداروں پر مشتمل جوائنٹ چیکنگ بھی کی جا رہی ہے۔ آئی جی سندھ نے کہا کہ حکومت سندھ کی ہدایات کے مطابق ڈرگ مافیاز کے خلاف بھرپور کارروائیاں جاری ہیں۔
چیئرپرسن فریال تالپور نے کہا کہ سندھ میں قبضہ مافیا کسی صورت قابل قبول نہیں۔ وزیر داخلہ سندھ نے بتایا کہ لینڈ گریبنگ کے خلاف قائم کمیٹی کی سربراہی وہ خود کر رہے ہیں، جس میں آئی جی سندھ، ایڈیشنل آئی جی کراچی، کمشنر کراچی اور آباد کے نمائندے شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کمیٹی کے فیصلوں میں صرف میرٹ کو ترجیح دی جاتی ہے۔ اجلاس میں آئی جی سندھ نے صوبائی سطح پر سائبر کرائم یونٹ کے قیام کی تجویز پیش کی۔
فریال تالپور نے اس حوالے سے متعلقہ خط و کتابت کی رپورٹ طلب کرتے ہوئے کہا کہ اس ضمن میں وفاقی حکومت سے بات کی جائے گی۔ آئی جی سندھ نے بتایا کہ کچہ ایریاز میں آپریشنز جاری ہیں، سندھ کی تمام شاہراہوں سے کانوائے سسٹم ختم کردیا گیا ہے، اغواء برائے تاوان کی شرح زیرو ہے جبکہ ہنی ٹریپ کے 4 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ وزیر داخلہ سندھ نے بتایا کہ سرینڈر پالیسی کے تحت اب تک 71 ڈاکو خود کو قانون کے حوالے کر چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گھوٹکی کی طرف آپریشن جاری ہے، جو سرینڈر کرے گا اسے قانون کے مطابق دیکھا جائے گا، بصورت دیگر سخت کارروائی کی جائے گی۔
چیئرپرسن فریال تالپور اور وزیر داخلہ سندھ نے ڈی آئی جیز لاڑکانہ اور سکھر کو بہترین کارکردگی پر شاباش دی، جبکہ بدنام زمانہ ڈاکو ساتھی جتوئی کی ہلاکت پر ایس ایس پی لاڑکانہ کو بھی سراہا گیا۔ ڈی آئی جی لاڑکانہ نے درکار وسائل اور ضروریات سے متعلق سفارشات بھی پیش کیں۔ اجلاس میں ارکان صوبائی اسمبلی، کمیٹی ممبران، ایڈیشنل چیف سیکریٹری، سیکریٹری ایکسائز و قانون، آئی جی سندھ، ایڈیشنل آئی جیز اور تمام ڈی آئی جیز نے شرکت کی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: سندھ نے بتایا کہ فریال تالپور نے وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ ڈی آئی جی انہوں نے کیا جائے کے خلاف
پڑھیں:
پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ
اسلام آباد:پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024ء میں 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026ء میں 72 فیصد ہوگیا، وزیراعظم نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر مزید بہتر بنانے کی ہدایت کردی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق وزیراعظم کی زیر صدارت وفاقی وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام کی کارکردگی پر اجلاس ہوا جس میں ادارے کی کارکردگی پر بریفنگ دی گئی۔
اجلاس میں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ ، وزیر اقتصادی امور احد چیمہ ، وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ، وزیر تعلیم خالد مقبول، وزیر مملکت خزانہ بلال اظہر کیانی، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی۔
وزیراعظم کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ موبائل اسپیکٹرم کی دستیابی جون 2025ء میں 274 میگا ہرٹز سے بڑھ کر جون 2026ء میں 880 میگا ہرٹز ہوگئی، موبائل اسپیکٹرم میں اضافے سے انٹرنیٹ کی رفتار اور کنیکٹیویٹی میں نمایاں بہتری آئے گی۔
وزیراعظم کو "کنیکٹ پاکستان وژن 2030ء " کے اجراء کی تیاریوں پر بریفنگ دی گئی، بتایا گیا ہے کہ باغ، آزاد جموں و کشمیر میں سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارک مکمل ہو چکا ہے، پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024ء میں 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026ء میں 72 فیصد ہوگیا، جون 2026ء تک 5.1 ملین گھروں میں فکسڈ براڈ بینڈ /فائبر کنکشن دئیے گئے، حکومتی اقدامات کی بدولت پچھلے مالی سال آئی ٹی کے شعبے میں ہوئی برآمدات میں فری لانسرز کا حصہ 1164.7 ملین ڈالر رہا۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ ڈیجیٹل نیشن پاکستان کے تحت حکومت پاکستان کی 130 سروسز کو ڈیجیٹائز کیا جا چکا ہے، پچھلے مالی سال آئی ٹی کے شعبے میں 942,646 تربیتی سرٹیفکیٹس دیئے گئے جن میں 5053 ہائے اینڈ تربیتی پروگرام منعقد ہوئے ؛ لیڈرشپ اور سافٹ اسکلز کی 2700 ٹرینینگز کا انعقاد ہوا، ویمن انوویشن اینڈ اسٹارٹ اپ ایمپاورمنٹ لیب کے منصوبہ کا افتتاح جلد ہی ہوگا۔
وزیراعظم کو بتایا گیا کہ چینی کمپنی علی بابا کے ساتھ مفاہمتی یادداشت کے تحت وفاقی حکومت کی کئی وزارتوں اور اداروں میں مصنوعی ذہانت کی نفاذ اور اس حوالے سے کئی منصوبے اور تربیتی سیشنز منعقد کئے جا رہے ہیں۔
بتایا گیا کہ سیکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن، وزارت ریلوے، اسٹیٹ بینک آف پاکستان، فیڈرل بورڈ آف ریونیو، آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی، وزارت قومی غذائی تحفظ ، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز ڈویلپمنٹ اتھارٹی، پاکستان سنگل ونڈو، وزارت قومی غذائی تحفظ، ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان، پاکستان پوسٹ، وفاقی ترقیاتی ادارہ، وزارت بحری امور اور ہائیر ایجوکیشن کمیشن میں علی بابا مصنوعی ذہانت کے کئی منصوبوں پر کام کر رہی ہے۔
وزیراعظم نے پاکستان کی سالانہ آئی ٹی برآمدات 21 فیصد اضافے کے ساتھ 4.6 ارب امریکی ڈالر تک پہنچنے پر وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی اور تمام ٹیم کی پذیرائی کی۔
وزیراعظم نے کہا کہ آئی ٹی برآمدات میں نمایاں اضافہ حکومت کی ڈیجیٹل معیشت کی ترقی کے لیے لئے جانے والے اقدامات پالیسیوں کا ثمر ہے، ملک میں آئی ٹی کے شعبے کا فروغ اور آئی ٹی سے متعلق برآمدات میں اضافہ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، آئی ٹی کے شعبے میں دیئے جانے والے تربیتی کورسز کی معتبر تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن یقینی بنائی جائے، آئی ٹی کے شعبے میں تربیت کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔
وزیراعظم نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر مزید بہتر بنانے کی ہدایت کی۔