کراچی: ای چالان کے خلاف دائر درخواستوں پر فوری حکم امتناع کی استدعا مسترد
اشاعت کی تاریخ: 25th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی: سندھ ہائیکورٹ نے شہر قائد میں نافذ کیے گئے ای چالان سسٹم کے خلاف دائر سیاسی جماعتوں، ٹرانسپورٹ مالکان اور شہریوں کی درخواستوں پر فوری حکم امتناع کی استدعا مسترد کر دی۔
عدالت نے ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ اور دیگر متعلقہ حکام سے تحریری جواب طلب کرتے ہوئے سماعت 11 دسمبر تک ملتوی کر دی ہے۔
سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ کراچی میں ٹریفک خلاف ورزیوں پر جرمانے دیگر بڑے شہروں، خصوصاً لاہور کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہیں، جس سے شہریوں کے ساتھ امتیازی سلوک ہو رہا ہے۔ عدالت نے اس دلیل کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ مختلف شہروں کے حالات، ٹریفک کی کثافت اور شہری ضروریات مختلف ہوتی ہیں، لہٰذا سادہ موازنہ مناسب نہیں۔
وکیل نے یہ بھی کہا کہ بس مالکان کو مسافروں کو اسٹینڈز سے پہلے بٹھانے کی اجازت نہیں دی جاتی، جس پر عدالت نے واضح کیا کہ بسیں صرف اسٹینڈز پر ہی روکی جا سکتی ہیں۔ وکیل کے اعتراض پر عدالت نے ریمارکس دیے کہ شہری مسائل سے وہ خود بخوبی آگاہ ہیں اور تمام متعلقہ فریقین کے جوابات موصول ہونے کے بعد کیس کو جامع طور پر سنا جائے گا۔
درخواستوں میں چیف سیکرٹری سندھ، صوبائی حکومت، آئی جی سندھ، ڈی آئی جی ٹریفک پولیس، نادرا، ایکسائز اور دیگر اداروں کو فریق بنایا گیا ہے۔
درخواست گزاروں کا مؤقف ہے کہ بھاری جرمانے صرف آمدن بڑھانے کا ذریعہ بن چکے ہیں اور شہریوں پر غیر ضروری بوجھ ڈال رہے ہیں۔
واضح رہے کہ سندھ حکومت نے 27 اکتوبر کو مصنوعی ذہانت سے چلنے والے ٹریفک ریگولیشن اینڈ سائٹیشن سسٹم (ٹریکس) کا افتتاح کیا تھا۔ اس نظام کے تحت صرف ایک ہفتے میں سیٹ بیلٹ، ہیلمٹ اور شیشوں سے متعلق خلاف ورزیوں پر تقریباً 30 ہزار چالان جاری کیے گئے، جن کی مجموعی رقم کروڑوں روپے بنتی ہے۔
اگرچہ شہریوں اور سیاسی حلقوں نے ای چالان سسٹم پر تنقید کی ہے، بعض ماہرین اور شہری اسے ٹریفک نظم و ضبط میں بہتری کا سبب بھی قرار دے رہے ہیں۔ رپورٹوں کے مطابق، اس نظام کے بعد ٹریفک سگنلز پر گاڑیاں مقررہ لائن پر رکنے لگی ہیں اور موٹر سائیکل سواروں میں ہیلمٹ کے استعمال میں بھی واضح اضافہ ہوا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: عدالت نے
پڑھیں:
حکومت مساجد و مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان بنائے، شاہ عبدالحق قادری
صوبائی وزیر مذہبی امور و اوقاف سید ریاض شاہ شیرازی نے وفد کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ حکومت سندھ دینی اداروں، مساجد، مدارس اور مزارات کے مسائل کے حل کو اہمیت دیتی ہے اور اس حوالے سے تمام ممکنہ اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے وفد کی جانب سے پیش کی گئی تجاویز کو قابلِ قدر قرار دیتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ ترجیحی بنیادوں پر مسائل کے حل کیلئے کام کیا جائے گا۔ اسلام ٹائمز۔ جماعت اہلِ سنت پاکستان کراچی کے وفد نے حضرت علامہ سید شاہ عبد الحق قادری کی قیادت میں سندھ کے صوبائی وزیر مذہبی امور و اوقاف سید ریاض شاہ شیرازی سے ان کے دفتر میں ملاقات کی۔ ملاقات میں دینی امور، مساجد، مدارس، محکمہ اوقاف کے زیر انتظام مزاراتِ اولیائے کرام کی دیکھ بھال زائرین کو سہولیات کی فراہمی سے متعلق تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ وفد میں سید رفیق شاہ، مفتی بلال قادری، مولانا جمیل احمد امینی، عبداللہ میمن اور شفیع رانا قادری بھی شامل تھے۔ وفد نے صوبائی وزیر کو کراچی سمیت سندھ بھر میں مساجد، مدارس اور مزارات کو درپیش مسائل سے آگاہ کیا اور مختلف تجاویز پیش کیں۔
شاہ عبد الحق قادری نے اس موقع پر کہا کہ حکومتی ادارے مساجد، مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان کریں۔ انہوں نے محکمہ اوقاف کی کارکردگی کو مزید مؤثر بنانے، انتظامی مسائل کے حل اور مسلسل رابطہ رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔ صوبائی وزیر مذہبی امور و اوقاف سید ریاض شاہ شیرازی نے وفد کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ حکومت سندھ دینی اداروں، مساجد، مدارس اور مزارات کے مسائل کے حل کو اہمیت دیتی ہے اور اس حوالے سے تمام ممکنہ اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے وفد کی جانب سے پیش کی گئی تجاویز کو قابلِ قدر قرار دیتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ ترجیحی بنیادوں پر مسائل کے حل کیلئے کام کیا جائے گا۔