data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی میں ای چالان نظام کے نفاذ کے بعد شہریوں کی جانب سے یہ سوال زور پکڑ گیا کہ صوبے کے دیگر شہروں میں یہ سہولت کب تک فعال ہوگی۔

نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے ڈی آئی جی ٹریفک کراچی سید پیر محمد شاہ نے واضح کیا کہ اس وقت ای چالان سسٹم عملی طور پر صرف کراچی میں چل رہا ہے، تاہم سندھ کے دیگر شہروں میں گزشتہ چند ہفتوں سے ڈمی چالان کے ذریعے سسٹم کی تیاری اور جانچ پڑتال جاری ہے۔

ڈی آئی جی ٹریفک کراچی سید پیر محمد شاہ کا کہنا تھا کہ کراچی میں اس نظام کی شروعات محکمہ پولیس کے اعلیٰ سطحی فیصلوں کا نتیجہ ہیں اور یہ وضاحت آئی جی سندھ ہی بہتر طور پر کر سکتے ہیں کہ آغاز کراچی سے کیوں کیا گیا۔

سید پیر محمد شاہ نے مزید کہا کہ میں کراچی کا ڈی آئی جی ہوں، اسی ذمہ داری کے تحت یہاں کے نظام کی نگرانی کرتا ہوں۔

انہوں نے بتایا کہ سندھ بھر میں ٹریفک قوانین سے متعلق جو ترمیم لاگو کی گئی ہے، اس کے تحت ای چالان سسٹم کو پورے صوبے میں مرحلہ وار نافذ کیا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ ڈمی چالان کا تجرباتی مرحلہ مکمل ہونے کے بعد دیگر شہروں میں بھی مکمل ای چالان سسٹم بہت جلد شروع کر دیا جائے گا۔

یاد رہے کہ پنجاب کے شہر راولپنڈی میں ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیوں پر قابو پانے کے لیے جدید قدم اٹھایا گیا ہے، جس کے تحت ای چالان سسٹم کو باضابطہ طور پر فعال کر دیا گیا ہے۔

ویب ڈیسک دانیال عدنان.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: دیگر شہروں میں چالان سسٹم

پڑھیں:

سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان

مزمل حسین ہالیپوٹو کی نااہلی کے باعث کراچی کا بنیادی ڈھانچہ شدید دباؤ کا شکار
پی ای سی ایچ ایس بلاک 2میں رہائشی پلاٹ پر کمرشل یونٹس تعمیر، آصف شیخ ملوث

شہر قائد میں رہائشی علاقوں میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے ، جس کے باعث شہر کا بنیادی ڈھانچہ شدید متاثر ہو رہا ہے ۔ شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل مزمل حسین ہالیپوٹو کی ناقص نگرانی اور انتظامی کمزوریوں کے سبب رہائشی پلاٹوں پر کمرشل پورشن اور یونٹس کی تعمیرات میں مسلسل دن بہ دن اضافہ ہو رہا ہے ۔تازہ معاملہ پی ای سی ایچ ایس بلاک 2کے پلاٹ نمبر 40-K/40Mکا سامنے آیا ہے ، جہاں مقامی ذرائع کے مطابق رہائشی حیثیت رکھنے والی اراضی پر کمرشل سرگرمیوں اور یونٹس کے قیام کے ذریعے مبینہ طور پر قبضے کیے گئے ہیں۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ یہ تمام سرگرمیاں آصف شیخ کی سربراہی میں انجام دی جا رہی ہیں، جبکہ متعلقہ ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔شہریوں اور سماجی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ غیر قانونی تعمیرات اور کمرشلائزیشن کے خلاف فوری کارروائی کی جائے ، ذمہ دار افسران کا احتساب کیا جائے اور کراچی کے متاثرہ انفراسٹرکچر کو مزید نقصان سے بچانے کے لیے مؤثر اقدامات اٹھائے جائیں۔

متعلقہ مضامین

  • سندھ، پنجاب اور کے پی کے مختلف شہروں میں بارش اور مٹی کا طوفان
  • شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
  • کراچی میں شہریوں کی رہنمائی کیلیے روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ قائم کرنے کرنا کا فیصلہ
  • فلاحی ریاست کا درس دینے والے غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں؟ سعدیہ جاوید
  • سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
  • سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
  •  یکم جون سے فیس لیس چالان سسٹم کا آغاز،پہلے دن کتنے چالان جاری ہوئے؟ تفصیلات سامنے آگئی
  • رکشہ ڈرائیور نے چالان ہونے پر رکشے کو آگ لگا دی
  • کراچی: شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی پر پہلے روز کتنے چالان ہوئے؟
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟