وزیر اطلاعات عطا تارڑ : فائل فوٹو 

وزیر اطلاعات عطا تارڑ کا کہنا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی اتحادی ہے، ہر موقع پر بھرپور ساتھ دیا، قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہيں، ضمنی الیکشن میں مظفر گڑھ سے پیپلز پارٹی کے امیدوار کی کامیابی پر انہیں مبارکباد پیش کرتے ہیں۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عطا تارڑ نے کہا کہ سیاست میں دروازے کھلے رہتے ہیں، سیاست میں بات چیت اور مکالمے سے ہی معاملات آگے بڑھتے ہیں، سیاست میں سب سے بڑی غلطی بائیکاٹ کی ہوتی ہے، یہ غلط ہے جب آپ کسی عمل میں شریک ہی نہ ہوں اور دھاندلی کا الزام لگا دیں، مثبت رویے سے بہت سے مسائل حل ہو جاتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ دنیا میں پاکستان کی آئی ٹی ایکسپورٹس میں اضافہ ہوا ہے، ڈیجیٹل میڈیا نے معرکہ حق میں موثر کردار ادا کیا، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز وقت کی ضرورت ہیں، ڈیجیٹل میڈیا کے فروغ کیلئے حکومت اقدامات کر رہی ہے، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ارتقاء کا عمل جاری ہے۔

جس ادارے نے پی ٹی آئی کے لوگوں کو یہاں تک پہنچایا اسی پر حملے کرتے ہیں، عطا تارڑ

عطا تارڑ نے کہا کہ یہ آپس میں ایک دوسرے کے گریبان پکڑے ہوئے ہیں، انہوں نے کسی وزارت کو مسنگ پرسنز سے متعلق کوئی درخواست دی ہے؟

وزیر اطلاعات عطاء اللّٰہ تارڑ نے کہا کہ اخبارات اور ٹیلی ویژن نے جس طرح مثبت کردار ادا کیا، ڈیجیٹل میڈیا کا بھی موثر کردار رہا، ڈیجیٹل میڈیا کے ذریعے دشمن کو دشمن کی زبان میں جواب دینا ضروری ہے، ڈیجیٹل میڈیا پلیٹ فارم سے ملکی مثبت تشخص اجاگر کرنا ہوگا، ڈیجیٹل میڈیا کا فیک نیوز کی روک تھام میں اہم کردار ہونا چاہیے،  ہمارا خواب ہے کہ ہمارا ڈیجیٹل پلیٹ فارم مزید مضبوط ہو۔

علی امین گنڈاپور کو دہشت گردوں کی مکمل سہولت کاری نہ کرنے پر ہٹایا، عطا تارڑ

عطا تارڑ نے کہا کہ یہ اب ایسے شخص کو وزیر اعلیٰ بنا رہے ہیں جو دہشتگردوں کے لیے نرم گوشہ رکھتا ہے، ایسے شخص کو وزیر اعلیٰ بنائیں گے تو قوم کی قربانیاں کہاں جائیں گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ جنگ کے دوران پہلا ڈیجیٹل کمیونیکیشن ڈپارٹمنٹ قائم کیا، آذربائیجان کی حکومت نے پاکستان سے ڈیجیٹل میڈیا کے شعبہ میں تربیت لینے کی بات کی، ڈی ایٹ ممالک کے وزراء نے ہمارے موقف کو تسلیم کیا، سوشل میڈیا پر قومی سلامتی اور اداروں کے خلاف مذموم مہم چلائی جاتی ہے۔

وزیر اطلاعات نے کہا کہ اخبارات سے الیکٹرانک میڈیا میں منتقلی ایک نظام کے تحت ہوئی، الیکٹرانک میڈیا سے ڈیجیٹل میڈیا میں منتقلی یکدم ہوئی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا کہ ڈیجیٹل میڈیا عطا تارڑ

پڑھیں:

سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے

اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔

اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔

کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔

قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔

متعلقہ مضامین

  • پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • کیا فواد خان نے بھی سرجری کروالی؟ نئی تصاویر پر سوشل میڈیا پر بحث
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • 25 جولائی کو گریٹر اقبال پارک میں پیپلز پارٹی کے جلسہ ؛ بلاول بھٹو ویڈیو لنک سے خطاب کریں گے ؛فیصل میر
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • بلاول کے پنجاب کے شہروں کی صورتحال پر سوالات، مریم اورنگزیب نے ویڈیو جاری کرکے جواب دیدیا
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی