وفاقی وزیر قیصر احمد شیخ نے اداروں کی نجکاری میں پیپلزپارٹی کو رکاوٹ قرار دیدیا
اشاعت کی تاریخ: 23rd, November 2025 GMT
وفاقی وزیر قیصر احمد شیخ نے اداروں کی نجکاری میں پیپلزپارٹی کو رکاوٹ قرار دیدیا WhatsAppFacebookTwitter 0 23 November, 2025 سب نیوز
کراچی(سب نیوز) وفاقی وزیر اور رہنما مسلم لیگ ن قیصر احمد شیخ نے ارادوں کی نجکاری کے عمل میں اتحادی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کو رکاوٹ قرار دیدیا۔ قیصر احمد شیخ نے کہا پیپلز پارٹی سے نجکاری کے معاملے پر مذاکرات ہوتے رہتے ہیں، اس کو ناراض کرنے سے ہماری حکومت نہیں رہ پائے گی۔
وفاقی وزیر برائے سرمایہ کاری قیصر احمد شیخ نے تقریب سے خطاب میں کہا کہ پیپلز پارٹی ملک میں سرکاری اداروں کی نجکاری کے خلاف ہے، اس کی وجہ سے نجکاری کا عمل آگے نہیں بڑھ پا رہا ہے۔قیصر احمد شیخ نے کہا کہ پیپلز پارٹی کا نجکاری کے خلاف منشور ہے، یہ کوئی نئی بات نہیں لیکن مسلم لیگ ن کی ہمیشہ سے پرائیویٹائزشن کی پالیسی رہی ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرملک میں گاڑیوں کے پارٹس کی درآمدات میں123فیصد اضافہ ملک میں گاڑیوں کے پارٹس کی درآمدات میں123فیصد اضافہ دفتر خارجہ میں مینا بازار کا افتتاح ، مختلف ممالک کے ثقافتی رنگ نمایاں ہو گئے ٹیرف اور سرمایہ کاری کے ذریعے غیر ملکی زمینوں سے کھربوں ڈالر لے رہے ہیں، ٹرمپ پارٹی انفارمیشن ونگ کا پی ٹی آئی آفیشل ایکس اکاونٹ سے کوئی تعلق نہیں،سیکرٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم مانچسٹر: پاکستانی کمیونٹی کے لیے خوشخبری، نادرا اور پی آئی اے میں سہولیات میں اضافہ ہم غزہ منصوبے کو نہیں مانتے، پاکستان آزاد خارجہ پالیسی اپنائے، حافظ نعیم الرحمانCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: وفاقی وزیر کی نجکاری
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔