لاہور ہائیکورٹ: عمران خان کی 9 مئی کے ایک ہی مقدمے کی سماعت کی درخواست بحال
اشاعت کی تاریخ: 24th, November 2025 GMT
لاہور ہائیکورٹ نے گزشتہ سماعت پر عدم پیروی کی بنیاد پر خارج ہونے والی بانی پی ٹی آئی عمران خان کی درخواست بحال کرتے ہوئے اسے 25 نومبر کو دوبارہ سماعت کے لیے مقرر کرنے کا حکم دے دیا۔
یہ بھی پڑھیں: ڈاکٹر یاسمین راشد 9 مئی مقدمے میں بعد از گرفتاری ضمانت منظور
سماعت چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ عالیہ نیلم نے کی۔ کارروائی کے آغاز میں چیف جسٹس نے وکلاء کی جانب سے عدالت سے متعلق میڈیا میں شائع ہونے والی خبروں پر برہمی کا اظہار کیا۔
انہوں نے ریمارکس دیے کہ آپ لوگ خود عدالت کے بارے میں غلط خبریں دیتے ہیں اور پھر کہتے ہیں کہ کیس کاز لسٹ میں نہیں آیا۔
اس موقعے پر عمران خان کے وکیل سردار لطیف کھوسہ نے مؤقف اختیار کیا کہ رجسٹرار آفس بلا وجہ ان کا نام کاز لسٹ میں شامل نہیں کرتا۔ تاہم چیف جسٹس نے ان کے مؤقف پر اعتراض اٹھایا اور کہا کہ پچھلی سماعت پر کیس کال ہونے کے باوجود وکیل موجود نہیں تھے اور باہر جا کر یہ مؤقف اپنایا گیا کہ کیس کا علم نہیں تھا۔
چیف جسٹس نے واضح کیا کہ عدالت چہرہ دیکھ کر کیس نہیں سنتی اور عمران خان کو جتنا ریلیف اس عدالت سے ملا ہے شاید کہیں اور سے نہیں ملا۔
مزید پڑھیے: وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا ریڈیو پاکستان پر 9 مئی حملے کی تحقیقات کے لیے انکوائری کمیشن قائم کرنے کا اعلان
چیف جسٹس عالیہ نیلم نے مزید کہا کہ عدالت میں ہڑتال کے باوجود تمام کیس لگے تھے اور ابھی ایسا کوئی طریقہ موجود نہیں جس سے کسی وکیل کا نام خودکار طور پر لسٹ سے نکالا جا سکے۔
انہوں نے مشورہ دیا کہ عدالت میں غیر ضروری طور پر زیادہ وکلا پیش نہ ہوں، ایک ہی وکیل کافی ہوتا ہے۔
لطیف کھوسہ نے مؤقف دیا کہ وکلا ہڑتال ذاتی مفاد میں نہیں بلکہ عدالت کی عزت کے لیے کرتے ہیں۔
مزید پڑھیں: عمران خان کے خلاف 9 مئی جی ایچ کیو حملہ کیس کا جیل ٹرائل بحال
عدالت نے تمام فریقین کے مؤقف سننے کے بعد عمران خان کی درخواست بحال کرتے ہوئے مرکزی کیس کی باقاعدہ سماعت کے لیے نئی تاریخ مقرر کر دی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
9 مئی مقدمات 9 مئی واقعات عمران خان.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: 9 مئی مقدمات 9 مئی واقعات چیف جسٹس کہ عدالت کے لیے کیس کا
پڑھیں:
کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ اسلام ٹائمز۔ پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔ پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔ فیصلے کے مطابق نیب خیبر پختونخوا اپر کوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔ احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔