بلال بن ثاقب ورلڈ اکنامک فورم کی عالمی اسٹیئرنگ کمیٹی کے رکن منتخب
اشاعت کی تاریخ: 24th, November 2025 GMT
احمد منصور: پاکستان کی ورلڈ اکنامک فورم میں شمولیت,کرپٹو اور ڈیجیٹل معیشت میں اہم پیشرفت، پاکستان ڈیجیٹل اور کرپٹو کرنسی میں عالمی ترقی کی راہ ہموار کر رہا ہے۔
تفصیلات کے مطابق پاکستانی وزیر مملکت برائے کرپٹو اور بلاک چین بلال بن ثاقب ورلڈ اکنامک فورم کی عالمی اسٹیئرنگ کمیٹی کے رکن منتخب ہوگئے۔
ورلڈ اکنامک فورم کی ڈیجیٹل اثاثہ جات کمیٹی میں بلال بن ثاقب کی شمولیت پاکستان کے لیے اعزاز کا باعث ہے، یہ کمیٹی وہ عالمی فورم ہے جو کرپٹو اور بلاک چین ریگولیشن پر پالیسی اور قوانین تیار کرتاہے۔
پاکستان نےسنوکر ورلڈکپ کا ٹائٹل اپنے نام کرلیا
ڈیجیٹل اَیسِٹ گورننس کے عالمی مباحثے میں بلال بن ثاقب کی شمولیت پاکستان کیلئے اہم سنگِ میل ہے۔
پاکستان کی بڑھتی ہوئی عالمی ساکھ کا بین الاقوامی سطح پر اعتراف، عالمی فورمز پر پاکستان کی ڈیجیٹل فنانس پالیسی نمایاں ہے۔
پاکستان اب ڈیجیٹل اَیسِٹ ریگولیشن کے عالمی ڈائیلاگ کا فعال حصہ ہے، پاکستان عالمی ڈیجیٹل معیشت اور جدید ٹیکنالوجی میں ترقی کی راہ ہموار کر رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: ورلڈ اکنامک فورم بلال بن ثاقب پاکستان کی
پڑھیں:
سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔
ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔