نئی گج ڈیم کیس: آئینی عدالت کی واپڈا اور کنٹریکٹر کو مذاکرات کی ہدایت
اشاعت کی تاریخ: 24th, November 2025 GMT
وفاقی آئینی عدالت نے نئی گج ڈیم کی تعمیر سے متعلق اہم کیس کی سماعت کے دوران واپڈا اور کنٹریکٹر کو مل بیٹھ کر معاملہ حل کرنے کی ہدایت کر دی۔
چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں آئینی عدالت کے 3 رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی، جس میں جسٹس ارشد حسین بھی شامل تھے۔
یہ بھی پڑھیں: سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے نئی گچ ڈیم منصوبے کی لاگت پر رپورٹ طلب کرلی
سماعت کے دوران واپڈا کی جانب سے سلمان منصور نے عدالت میں پیش ہوکر مؤقف اختیار کیا کہ کنٹریکٹر معاہدے کے مطابق کام نہیں کر رہا، جس کے باعث منصوبے میں تاخیر ہو رہی ہے۔
واپڈا کے وکیل کا مؤقف تھا کی اس صورتحال میں لاگت میں بھی مسلسل اضافہ پو رہا ہے۔
جسٹس ارشد حسین نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ دونوں فریقین بیٹھ کر باہمی مشاورت سے مسئلے کا حل نکالیں۔
مزید پڑھیں:آئینی عدالتیں شاہی دربار نہیں، جو ججز کیسز نہیں سن سکتے گھر چلے جائیں: اعظم نذیر تارڑ
جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ اگر بات چیت کے ذریعے تنازعہ حل نہ ہوا تو عدالت فیصلہ سنائے گی۔
عدالت نے کیس کی سماعت 3 ہفتوں کے لیے ملتوی کر دی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
جسٹس ارشد حسین چیف جسٹس امین الدین خان سلمان منصور نئی گج ڈیم واپڈا وفاقی آئینی عدالت.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: چیف جسٹس امین الدین خان نئی گج ڈیم واپڈا وفاقی آئینی عدالت آئینی عدالت
پڑھیں:
سرکاری دفاتر میں حاضری اور وقت کی پابندی سے متعلق نئی ہدایات جاری
بابر شہزاد ترک :اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے دفتری نظم و ضبط سے متعلق نیا سرکلر جاری کرتے ہوئے تمام افسران اور اہلکاروں کو مقررہ دفتری اوقات کی سختی سے پابندی کرنے کی ہدایت کر دی ۔
سرکلر کے مطابق صبح 8 بجے سے شام 4 بجے تک کے اوقاتِ کار پر عمل درآمد لازم ہوگا۔
سرکلرکے مطابق اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نےبائیومیٹرک حاضری یقینی بنانے کی بھی ہدایت کی ہے جبکہ افسران و اہلکاروں کو لاؤنج سوٹ یا شلوار قمیض کے ساتھ ویسٹ کوٹ پہننے کی ہدایت کی گئی ہے۔
سرکلرکے مطابق دفتری راہداریوں میں شور اور بلند آواز میں گفتگو سے گریز کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی
اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے احکامات پر عملدرآمد کیلئے باضابطہ سرکلر جاری کر دیاہے۔