وفاقی آئینی عدالت نے دھاندلی کے الزامات کے معاملے پر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی)کی درخواست سماعت کے لیے مقرر کردی ہے۔وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹس امین الدین نے 5 رکنی لارجر بینچ تشکیل دے دیا. لارجر بینچ 25 نومبر کو سماعت کرے گا۔جسٹس عامر فاروق 5 رکنی لارجر بینچ کی سربراہی کریں گے جب کہ بینچ میں جسٹس علی باقر نجفی، جسٹس کے کے آغا خان ، جسٹس روزی خان اور جسٹس ارشد حسین شاہ بھی شامل ہیں۔تحریک انصاف کے مرکزی سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے انتخابی دھاندلی کی انکوائری سے متعلق ٹربیونل تشکیل کے لیے رجوع کیا تھا۔پاکستان تحریک انصاف نے ٹربیونل تشکیل کے لیے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی تھی۔ درخواست گزار سلمان اکرم راجا کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا کہ شفاف انتخابات کے لیے آزاد اور بااختیار ٹربیونل کی تشکیل ناگزیر ہے۔

بعد ازاں آئین میں 27ویں ترمیم کے نفاذ کے بعد انتخابی تنازعات سے متعلق درخواستوں کو آئینی عدالت منتقل کرنے کا طریقہ کار نافذ ہوا، جس کے تحت تحریک انصاف کی درخواست بھی آئینی عدالت میں ٹرانسفر کر دی گئی۔ آئینی عدالت 25 نومبر کو معاملے کی پہلی باقاعدہ سماعت کرے گی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: آئینی عدالت تحریک انصاف کے لیے

پڑھیں:

گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست

فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔

انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔

گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • مانچسٹر، پاکستانی قونصل خانہ کے اوقات میں اضافہ
  • سابق گورنر چودھری سرور کے بیٹے انس برطانیہ کے وزیر تجارت نامزد
  • نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
  • چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس
  • پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • یو اے ای ویزا آن ارائیول کی نئی شرائط اور فیس جاری