چین کا جاپان کو دوٹوک پیغام: تائیوان پر مداخلت برداشت نہیں
اشاعت کی تاریخ: 23rd, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
بیجنگ:چین نے جاپان کی جانب سے تائیوان کے معاملے پر دیے گئے حالیہ بیانات کو سرخ لکیر کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ بیجنگ کسی بھی صورت جاپانی عسکریت پسندی کی دوبارہ ابھرتی شکل کو برداشت نہیں کرے گا۔
چین کے وزیر خارجہ وانگ یی نے کہا کہ ٹوکیو کو تاریخ سے سبق سیکھتے ہوئے محتاط رویہ اختیار کرنا چاہیے، کیونکہ دوسری جنگ عظیم کے بعد قائم عالمی اصولوں کو چیلنج کرنا خطرناک نتائج کا باعث بن سکتا ہے۔
تاجکستان کے دارالحکومت دوشنبے میں اپنے تاجک ہم منصب سروج الدین مہرالدین کے ساتھ اولین اسٹریٹجک مذاکرات کے دوران وانگ یی نے کہا کہ جاپان کی دائیں بازو قوتیں تاریخ کا رخ دوبارہ موڑنے کی کوشش کر رہی ہیں اور چین نہ تو اس مہم جوئی کی اجازت دے گا اور نہ ہی کسی بیرونی طاقت کو تائیوان کے معاملے میں مداخلت کرنے دے گا۔
انہوں نے زور دیا کہ چین تمام ممالک کے ساتھ مل کر ون چائنا پالیسی پر قائم بین الاقوامی اتفاق” کا تحفظ کرے گا کیونکہ یہ دوسری جنگ عظیم کے بعد عالمی نظام کا بنیادی ستون ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔