بجٹ عملدرآمد میں تبدیلی کیلئے تجاویز آئندہ ماہ آئی ایم ایف کو پیش کرنے کا فیصلہ، وزارت خزانہ
اشاعت کی تاریخ: 23rd, November 2025 GMT
اسلام آباد:ذرائع کے مطابق وزارتِ خزانہ آئندہ ماہ تک آئی ایم ایف کو بجٹ عملدرآمد کے نظام میں اصلاحات سے متعلق حتمی تجاویز تیار کرکے پیش کرے گی۔
بجٹ عملدرآمد کے طریقہ کار میں بہتری کیلئے آئی ایم ایف کے ٹیکنیکل وفد کے ساتھ مختلف اصلاحاتی تجاویز پر مشاورت جاری ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان بجٹ کے عملدرآمد میں بہتری کیلئے مجموعی طور پر 15 تجاویز زیرِ غور رہیں، جن میں پبلک فنانس مینجمنٹ نظام کو مکمل طور پر ڈیجیٹائز کرنے کا پلان بھی شامل ہے۔
اس مقصد کیلئے پی ایف ایم ڈیجیٹائزڈ پلان کی نگرانی کیلئے ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دینے کی تجویز بھی زیرِ غور ہے۔
اصلاحاتی تجاویز میں بجٹ تیاری کے پورے عمل کو ای-آفس اور ای-پیڈز کے ذریعے مکمل طور پر ڈیجیٹائز کرنا، مالی ڈیٹا میں تضادات ختم کرنا اور نئے ڈیٹا کی بنیاد پر بجٹ سازی شامل ہے۔
بجٹ تیاری میں تمام وزارتوں کے ساتھ مشاورت کے عمل کو مزید مؤثر بنانے پر بھی زور دیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق ٹیکنیکل مشن نے آئندہ بجٹ کیلئے ٹیکس پالیسی میں اہم تبدیلیوں سے متعلق تجاویز پر بھی پاکستان کے معاشی حکام کے ساتھ تفصیلی گفتگو کی ہے۔
وزارتِ خزانہ کا کہنا ہے کہ اصلاحات کا مقصد بجٹ عملدرآمد کے نظام کو شفاف، موثر اور ڈیجیٹائزڈ بنانا ہے تاکہ مالی نظم و ضبط بہتر ہو اور پالیسی فیصلوں میں ڈیٹا بیسڈ اپروچ کو فروغ دیا جاسکے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: آئی ایم ایف
پڑھیں:
اسلام آباد میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری
دارالحکومت اسلام آباد میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری دے دی گئی۔
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈارکی زیر صدارت کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی و عملدرآمد کمیٹی کا اجلاس ہوا، جس میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری دی گئی۔
اعلامیہ کے مطابق دکانیں، مارکیٹیں، شاپنگ مالز اور جنرل ریٹیل رات 9 بجے تک کھلے رہ سکیں گے جبکہ ریسٹورنٹس رات 11 بجے تک کھلے رہیں گے، ٹیک اوے اور ڈلیوری سروسز مستثنیٰ ہوں گی۔
اعلامیہ کے مطابق شادی ہالز اور تقریباتی مقامات کے اوقات رات 10 بجے تک برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
اعلامیہ کے مطابق فارمیسی، اسپتال، پیٹرول پمپس، آئی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلق ضروری خدمات اوقات کار کی پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی۔
صوبائی حکومتوں کو وفاقی اداروں کے تعاون سے نئے اوقات کار پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔