کراچی کینٹ اسٹیشن پر کھڑی کارگو ٹرین کی دو بوگیوں میں آتشزدگی، بوگی میں موجود سامان جل کر خاکستر
اشاعت کی تاریخ: 23rd, November 2025 GMT
کراچی کینٹ اسٹیشن پر کھڑی کارگو ٹرین کی دو بوگیوں میں لگنے والی آگ پر قابو پاکر کولنگ کا عمل مکمل کرلیا گیا، آتشزدگی کے واقعہ میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ۔
ریسیکو ادارے 1122 کے ترجمان کے مطابق کینٹ اسٹیشن میں کارگو کی بوگی میں آتشزدگی کی اطلاع موصول ہوئی، سینٹرل کمانڈ اینڈ کنٹرول ریسکیو 1122 کو اطلاع موصول ہوتے ہی فائر اینڈ ریسکیو ٹیم بمعہ ایمبولینس اور فائر ٹینڈر جائے وقوعہ پر روانہ کی گئی۔
فائر ٹینڈر موقع پر پہنچا تو ریسیکو ٹیم کو معلوم ہوا کہ مال بردار ٹرین کی دو بوگیوں میں آگ لگی ہے۔ریسیکو ٹیم نے فوری امدادی عمل شروع کرکے دونوں مال برادر بوگیوں میں لگی آگ پر قابو پالیا اور کولنگ کا عمل مکمل کرلیا گیا۔
ترجمان ریسیکو ادارے 1122 نے بتایا کہ یہ کارگو ٹرین ہے۔آتشزدگی کے واقعہ میں دو بوگیاں متاثر ہوئیں۔ایک بوگی میں موجود سامان جل کرخاکستر ہوگیا۔ایک بوگی میں رکھے ہوئے سامان کو جزوی نقصان پہنچا، تاہم ریسیکو ٹیم نےباقی سامان کو نکال کر اس کو جلنے سے بچالیا۔
انہوں نے بتایا کہ دو کارگو بوگیوں میں کپڑا اور دیگر سامان موجود تھا۔آتشزدگی کے واقعہ میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔آگ لگنے کی وجہ معلوم نہیں ہوسکی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: بوگیوں میں بوگی میں
پڑھیں:
کراچی: کیماڑی میں 6 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث مرکزی ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
کراچی کے ساحلی علاقے کیماڑی میں پولیس نے ایک 6 سالہ بچی کے اغوا اور سفاکانہ قتل میں ملوث مرکزی ملزم کو مبینہ پولیس مقابلے کے دوران ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
پولیس ترجمان کے مطابق یہ پیش رفت جیرکسن تھانے کی حدود میں پیش آئی، جہاں مبینہ ملزم کی موجودگی کی اطلاع پر پولیس پارٹی نے مبارک مسجد کے قریب چھاپہ مارا۔ پولیس کو دیکھتے ہی ملزم نے اہلکاروں پر براہِ راست فائرنگ شروع کر دی، جس پر پولیس نے بھی جوابی فائرنگ کی۔ اس تبادلے میں ملزم گولی لگنے سے شدید زخمی ہوا اور بعد میں دم توڑ گیا۔
یہ بھی پڑھیں: کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ ملزم تک رسائی مختلف علاقوں کی سی سی ٹی وی فوٹیج کی تفصیلی جانچ پڑتال اور دیگر تکنیکی و جغرافیائی شواہد کی مدد سے ممکن ہوئی۔ اس سے قبل، معصوم بچی کی لاش منوہرہ کے قریب جھاڑیوں سے برآمد ہوئی تھی۔
پولیس سرجن ڈاکٹر سمیہ سید نے میڈیکو لیگل کا جائزہ لینے کے بعد تصدیق کی کہ بچی کو بدترین جنسی تشدد اور جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے، جبکہ اس کے پورے جسم پر تشدد کے واضح نشانات موجود ہیں۔ بچی کی موت کی حتمی وجہ کا تعین فارنسک لیبارٹری کو بھیجے گئے نمونوں کی رپورٹ آنے کے بعد کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: پشاور: 8 سالہ بچی مبینہ زیادتی کے بعد قتل، لاش ہمسائے کے صندوق سے برآمد
پولیس کے مطابق جیرکسن تھانے میں پہلے ہی بچی کے اغوا اور قتل کے حوالے سے پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 364-A اور 302 کے تحت مقدمہ (FIR No. 265/2026) درج تھا۔ اب پولیس مقابلے کا ایک الگ کیس بھی اسی تھانے میں درج کیا جا رہا ہے اور کرائم سین کو سیل کر کے تمام سائنسی و فارنسک ثبوت تحویل میں لے لیے گئے ہیں۔
اس واقعے سے چند ہی دن قبل بھی کراچی میں 6 سالہ بچے کے اغوا، زیادتی اور قتل کے الزام میں ایک 20 سالہ نوجوان کو گرفتار کیا گیا تھا، جس کی لاش بوری میں بند کر کے ویران پلاٹ پر پھینکی گئی تھی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news پولیس مقابلہ زیادتی قتل کراچی کمسن بچی ملزم ہلاک