میکسیکو میں جنریشن زی کا بڑے پیمانے پر احتجاج، کرپشن کے خلاف کارروائی کا مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 16th, November 2025 GMT
امریکی ریاست میکسیکو میں ہزاروں افراد نے کرائم، کرپشن اور عدم سزا پر بڑھتی تشویش کے خلاف سڑکوں پر نکل کر احتجاج کیا۔ یہ مظاہرے جنریشن زی کے نوجوانوں کی جانب سے منظم کیے گئے تھے جن میں مختلف عمر کے افراد، اپوزیشن جماعتوں سے وابستہ سینیئر کارکن اور حال ہی میں قتل ہونے والے مچواکان کے میئر کارلوس مانزو کے حامی بھی شریک تھے۔
یہ بھی پڑھیں: ’جنریشن زی‘ کی بغاوت، نیپال کا سبق جو ہمیں بھی سیکھنا چاہیے
میکسیکو سٹی میں کچھ نقاب پوش افراد نے نیشنل پیلس کے باہر لگائی گئی رکاوٹیں گرادیں، جس کے بعد پولیس اور مظاہرین میں جھڑپ ہوئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق پولیس نے آنسو گیس کا استعمال بھی کیا۔
پبلک سیفٹی سیکریٹری پابلو وازکیز کے مطابق احتجاج کے دوران جھڑپوں میں 100 پولیس اہلکار زخمی ہوئے جن میں سے 40 کو اسپتال لے جانا پڑا، اس دوران 20 عام شہری بھی زخمی ہوئے۔ حکام نے 40 افراد کو حراست میں لیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا میں احتجاج کا دائرہ بڑھ گیا، مظاہروں کو سختی سے کچلا جائیگا، صدر ٹرمپ
مقامی میڈیا کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے شیلڈز اور پتھروں سے نوجوان مظاہرین کو نشانہ بنایا، کئی افراد زخمی ہوئے جنہیں مارچ میں شریک ڈاکٹرز اور ریسکیو اہلکاروں نے طبی امداد فراہم کی۔ پولیس نے زوکالو پلازا میں مظاہرین کا تعاقب کرکے انہیں منتشر بھی کیا۔
یہ احتجاج جنریشن زی میکسیکو نامی گروپ نے منظم کیا تھا جس نے اپنے سوشل میڈیا پیغام میں کہا کہ وہ غیر سیاسی پلیٹ فارم ہے اور میکسیکو کے ان نوجوانوں کی نمائندگی کرتا ہے جو تشدد، کرپشن اور اختیارات کے ناجائز استعمال سے تنگ آچکے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
احتجاج امریکا پولیس جنریشن زی جھڑپیں زخمی کرپشن میکسیکو.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکا پولیس جھڑپیں میکسیکو
پڑھیں:
کوہستان کرپشن کیس، نیب نے 6 ارب کے ریکور اثاثے خیبر پختونخوا کے حوالے کردیے
فائل فوٹوکوہستان مالیاتی کرپشن کیس میں قومی احتساب بیورو (نیب) نے 6 ارب روپے کے اثاثے ریکور کرکے خیبر پختونخوا حکومت کے حوالے کردیے جبکہ مزید ریکوری کا عمل جاری ہے۔
چیئرمین نیب لیفٹیننٹ جنرل (ر) نذیر احمد نے پشاور میں اثاثے چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا شہاب علی شاہ کے حوالے کیے۔
نیب حکام کے مطابق پہلے مرحلے میں 6 ارب روپے سے زائد مالیت کے اثاثے صوبائی حکومت کے حوالے کیے گئے ہیں، جن میں نقد رقم، سونا، قیمتی جائیدادیں اور لگژری گاڑیاں شامل ہیں، اثاثوں کی واپسی منظم اور جامع تحقیقات کے نتیجے میں عمل میں آئی۔
نیب حکام کے مطابق کوہستان مالیاتی کرپشن میں سرکاری فنڈز سے 37 ارب روپے سے زائد کا غبن ہوا ہے، پیچیدہ مالیاتی غبن کو مؤثر تحقیقات کے ذریعے بے نقاب کیا گیا۔
چیئرمین نیب نے کہا کہ ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) نیب خیبر پختونخوا فرمان اللہ اور تحقیقاتی ٹیم کی کارکردگی قابل ستائش ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ کوہستان مالیاتی کرپشن میں مزید ریکوری کا عمل جاری ہے، قانونی کارروائی مکمل ہونے پر مزید اثاثے خیبر پختونخوا حکومت کو منتقل کیے جائیں گے، عوامی وسائل قومی امانت ہیں، ان کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کیا جائے گا۔