مشہور ایڈ فلم ڈائریکٹر پرہلاد ککڑ نے حال ہی میں بالی ووڈ کی معروف اداکارہ ایشوریہ رائے کے ساتھ کام کے تجربات شیئر کیے ہیں کہ کیسے ایک اشتہار کے لیے ایشوریہ کو منتخب کرنے میں 4 مہینے لگے کیونکہ وہ نا تجربہ کار تھیں۔

1993 میں ایشوریہ رائے ایک پیپسی کے اشتہار میں نظر آئیں جو وائرل ہو گیا اور اُن کی پہلی بڑی شہرت کا سبب بنا۔ اس اشتہار میں عامر خان، ماہیما چوہدری اور ایک اس وقت نامعلوم ایشوریا رائے شامل تھیں۔ فلم ساز پرہلاد ککڑ نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ اس شتہار میں کام کرنے والے اداکاروں کو انہوں نے کس طرح منتخب کیا، جو بعد میں بڑے ستارے بن گئے۔

یہ بھی پڑھیں: “ایشوریہ رائے سے شادی کر کے نیک بچے نہیں پیدا ہوں گے” سابق کرکٹر عبدالرزاق نے ایسا کیوں کہا؟

پرہلاد ککڑ نے بتایا کہ میں نے سب کو منتخب کیا سوائے ماہیما چوہدری کے۔ اسے ایجنسی نے منتخب کیا تھا۔ عامر خان کو منتخب کرنے کی وجہ بیان کرتے ہوئے ککڑ نے کہا کہ میں نے عامر کی فلم ’قیامت سے قیامت تک‘ (1988) دیکھی اور وہ اس کردار کے لیے بالکل موزوں تھے۔ ان کا کردار پہلے سے ایک صاف اور اچھے آدمی کا تھا جس کے دل میں کوئی برائی نہیں تھی اور یہ ناظرین نے قبول کیا۔ ایک 30،60 سیکنڈ کے اشتہار میں آپ کردار کو نئی بنیاد پر قائم نہیں کر سکتے اور عامر خان موزوں شخصیت تھی جس پر کام کیا جا سکتا تھا۔

پرہلاد ککڑ نے انکشاف کیا کہ اُن کے پاس کردار کے لیے شاہ رخ خان اور عامر خان کے درمیان انتخاب کا موقع تھا مگر اس کردار کے لیے عامر زیادہ موزوں تھے۔

ایشوریہ کو منتخب کرنے کے بارے میں ککڑ نے کہا کہ مجھے ان پر محنت کرنا پڑی کیونکہ انہوں نے پہلے کبھی کوئی کام نہیں کیا تھا۔ جب پوچھا گیا کہ ایک نئے شخص کے ساتھ کام کرنا کٹھن تھا یا نہیں، انہوں نے جواب دیا، ’نہیں تھا۔ ایک ڈائریکٹر کے طور پر، آپ مایوس نہیں ہو سکتے۔ یہ آپ کا کام ہے‘۔

ڈائریکٹر نے بتایا کہ اشتہار کے لیے ایشوریہ کو منتخب کرنے میں 4 مہینے لگے۔ اس وقت وہ بالکل نوجوان اور اداکاری میں غیر تجربہ کار تھیں۔ ککر کے مطابق ’انہیں کام کرنے کے لیے تربیت دینا پڑی، اس کے لیے تقریباً 18 شاٹس لگے کیونکہ انہوں نے پہلے کبھی اس طرح کی پرفارمنس نہیں دی تھی‘۔ ان کا کہنا تھا کہ کیمرے کے سامنے اپنے پہلے تجربے کے دوران ایشوریا کو خود اعتمادی میں کمی محسوس ہوئی۔

یہ بھی پڑھیں: کیا ایشوریہ رائے کی بیٹی ارادھیا بچن بالی ووڈ میں ڈیبیو کرنے جارہی ہیں؟

ککڑ کے مطابق شوٹ کے دوران وہ مجھ سے بولیں، ’میں نہیں کر سکتی۔ یہ نہیں ہو رہا۔ میں نے انہیں الگ لے جا کر کوشش کرنے میں مدد کی۔ انہوں نے کہا، ’میں نہیں کر سکتی کیونکہ میں نے یہ تجربہ نہیں کیا۔ میرا کبھی بوائے فرینڈ نہیں رہا۔ میں ایک مرد کے سامنے کیسے جاؤں اور عورت کی طرح برتاؤ کروں؟‘

انہوں نے مزید کہا کہ ایشوریا کی معصومیت نے اشتہار میں خاص کشش پیدا کی۔ اُن کی پرفارمنس نے نہ صرف ناظرین کو متاثر کیا بلکہ عامر خان کے کردار کو بھی ردعمل دینے پر مجبور کیا۔ یہ اشتہار ایشوریہ رائے کے کیریئر کا آغاز ثابت ہوا اور انہیں ’پیپسی گرل‘ کے نام سے شہرت حاصل ہوئی اور آج تین دہائیوں بعد بھی ایشوریہ بھارتی فلم انڈسٹری کی مقبول ترین اداکاراؤں میں شمار ہوتی ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

ایشوریہ رائے بالی ووڈ عامر خان.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ایشوریہ رائے بالی ووڈ کو منتخب کرنے ایشوریہ رائے اشتہار میں انہوں نے کے لیے

پڑھیں:

بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال

ایکس پر سنجے سنگھ کی پوسٹ کا اشتراک کرتے ہوئے اروند کیجریوال نے بی جے پی کو نشانہ بنایا اور الزام لگایا کہ وہ (مودی حکومت) پیپر لیک جیسے مسائل کو حل کرنے میں کم کارروائی کرتے ہیں لیکن اس پر بحث کو روکنے کیلئے سرگرم عمل ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو تیزی سے وائرل ہو رہا ہے۔ اترپردیش کے پریاگ راج کے ایک کانفرنس ہال میں عام آدمی پارٹی کے راجیہ سبھا رکن سنجے سنگھ طلبہ کے ساتھ حالیہ پیپر لیک معاملے پر تبادلہ خیال کررہے ہیں۔ اچانک وہاں یوپی پولیس اور سرکاری افسران آجاتے ہیں اور انھیں اس ایشو پر بات کرنے سے منع کرتے ہیں۔ سنجے سنگھ اور سرکاری افسران میں گرما گرم بحث ہوتی ہے۔ اس معاملے پر اب عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال کا رد عمل سامنے آیا ہے۔ عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال نے بی جے پی حکومت پر تنقید کی ہے۔ ایکس پر سنجے سنگھ کی پوسٹ کا اشتراک کرتے ہوئے اروند کیجریوال نے بی جے پی کو نشانہ بنایا، اور الزام لگایا کہ وہ (مودی حکومت) پیپر لیک جیسے مسائل کو حل کرنے میں کم کارروائی کرتے ہیں لیکن اس پر بحث کو روکنے کے لئے سرگرم عمل ہے۔

اروند کیجریوال نے کہا کہ بی جے پی کو پیپر لیک سے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ مسئلہ پیپر لیک پر ہونے والی بحث سے ہے۔ یہ پیر کے روز سنجے سنگھ کے الزام کے بعد سامنے آیا ہے کہ یوپی پولیس اور سرکاری اہلکاروں نے پریاگ راج میں پیپر لیک ہونے پر طلباء کے ساتھ ان کی بات چیت کو روکنے کی کوشش کی۔ سنجے سنگھ نے کہا کہ آمریت اپنے عروج پر پہنچ گئی ہے۔ ایکس پر ویڈیو شیئر کرتے ہوئے سنجے سنگھ نے کہا کہ پریاگ راج، یوپی میں آمریت عروج پر پہنچ گئی ہے، بند کمروں میں بھی، لاکھوں طلباء کے مستقبل پر بات کرنے کی اجازت نہیں دی گئی، انتظامیہ پیپر لیک ہونے کی بات کو بھی روکنے کے لئے پہنچ گئی ہے۔ مودی-یوگی کی ڈبل انجن والی حکومت مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے اور اپوزیشن کو کچلنا چاہتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایکس نے ’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ فیچر متعارف کرا دیا، یہ کام کیسے کرتا ہے؟
  • محکمہ موسمیات نے تیزہواؤں اور گرج چمک کیساتھ بارش کی پیش گوئی کردی
  • کے پی اسمبلی میں حکومتی ناراض ارکان کا مذاکرات سے انکار
  • خیبرپختونخوا میں تیز ہواؤں کے ساتھ بارش، مختلف واقعات میں 20 سے زیادہ افراد زخمی
  • فرانس: نفسیاتی مریضوں کے علاج کی ذمہ داری گدھوں کے سپرد
  • بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
  • 3 جون: جب حضرت امامؒ نے آخری سانس لی
  • بانی پی ٹی آئی نے مجھے وزیر اعلی نامزد کیا کوئی طاقت مجھے نہیں ہٹا سکتی;سہیل آفریدی