’میرا بوائے فرینڈ نہیں رہا، یہ کام کیسے کر سکتی ہوں‘، ایشوریہ رائے کا عامر خان کے ساتھ اشتہار سے انکار
اشاعت کی تاریخ: 24th, November 2025 GMT
مشہور ایڈ فلم ڈائریکٹر پرہلاد ککڑ نے حال ہی میں بالی ووڈ کی معروف اداکارہ ایشوریہ رائے کے ساتھ کام کے تجربات شیئر کیے ہیں کہ کیسے ایک اشتہار کے لیے ایشوریہ کو منتخب کرنے میں 4 مہینے لگے کیونکہ وہ نا تجربہ کار تھیں۔
1993 میں ایشوریہ رائے ایک پیپسی کے اشتہار میں نظر آئیں جو وائرل ہو گیا اور اُن کی پہلی بڑی شہرت کا سبب بنا۔ اس اشتہار میں عامر خان، ماہیما چوہدری اور ایک اس وقت نامعلوم ایشوریا رائے شامل تھیں۔ فلم ساز پرہلاد ککڑ نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ اس شتہار میں کام کرنے والے اداکاروں کو انہوں نے کس طرح منتخب کیا، جو بعد میں بڑے ستارے بن گئے۔
یہ بھی پڑھیں: “ایشوریہ رائے سے شادی کر کے نیک بچے نہیں پیدا ہوں گے” سابق کرکٹر عبدالرزاق نے ایسا کیوں کہا؟
پرہلاد ککڑ نے بتایا کہ میں نے سب کو منتخب کیا سوائے ماہیما چوہدری کے۔ اسے ایجنسی نے منتخب کیا تھا۔ عامر خان کو منتخب کرنے کی وجہ بیان کرتے ہوئے ککڑ نے کہا کہ میں نے عامر کی فلم ’قیامت سے قیامت تک‘ (1988) دیکھی اور وہ اس کردار کے لیے بالکل موزوں تھے۔ ان کا کردار پہلے سے ایک صاف اور اچھے آدمی کا تھا جس کے دل میں کوئی برائی نہیں تھی اور یہ ناظرین نے قبول کیا۔ ایک 30،60 سیکنڈ کے اشتہار میں آپ کردار کو نئی بنیاد پر قائم نہیں کر سکتے اور عامر خان موزوں شخصیت تھی جس پر کام کیا جا سکتا تھا۔
پرہلاد ککڑ نے انکشاف کیا کہ اُن کے پاس کردار کے لیے شاہ رخ خان اور عامر خان کے درمیان انتخاب کا موقع تھا مگر اس کردار کے لیے عامر زیادہ موزوں تھے۔
ایشوریہ کو منتخب کرنے کے بارے میں ککڑ نے کہا کہ مجھے ان پر محنت کرنا پڑی کیونکہ انہوں نے پہلے کبھی کوئی کام نہیں کیا تھا۔ جب پوچھا گیا کہ ایک نئے شخص کے ساتھ کام کرنا کٹھن تھا یا نہیں، انہوں نے جواب دیا، ’نہیں تھا۔ ایک ڈائریکٹر کے طور پر، آپ مایوس نہیں ہو سکتے۔ یہ آپ کا کام ہے‘۔
ڈائریکٹر نے بتایا کہ اشتہار کے لیے ایشوریہ کو منتخب کرنے میں 4 مہینے لگے۔ اس وقت وہ بالکل نوجوان اور اداکاری میں غیر تجربہ کار تھیں۔ ککر کے مطابق ’انہیں کام کرنے کے لیے تربیت دینا پڑی، اس کے لیے تقریباً 18 شاٹس لگے کیونکہ انہوں نے پہلے کبھی اس طرح کی پرفارمنس نہیں دی تھی‘۔ ان کا کہنا تھا کہ کیمرے کے سامنے اپنے پہلے تجربے کے دوران ایشوریا کو خود اعتمادی میں کمی محسوس ہوئی۔
یہ بھی پڑھیں: کیا ایشوریہ رائے کی بیٹی ارادھیا بچن بالی ووڈ میں ڈیبیو کرنے جارہی ہیں؟
ککڑ کے مطابق شوٹ کے دوران وہ مجھ سے بولیں، ’میں نہیں کر سکتی۔ یہ نہیں ہو رہا۔ میں نے انہیں الگ لے جا کر کوشش کرنے میں مدد کی۔ انہوں نے کہا، ’میں نہیں کر سکتی کیونکہ میں نے یہ تجربہ نہیں کیا۔ میرا کبھی بوائے فرینڈ نہیں رہا۔ میں ایک مرد کے سامنے کیسے جاؤں اور عورت کی طرح برتاؤ کروں؟‘
انہوں نے مزید کہا کہ ایشوریا کی معصومیت نے اشتہار میں خاص کشش پیدا کی۔ اُن کی پرفارمنس نے نہ صرف ناظرین کو متاثر کیا بلکہ عامر خان کے کردار کو بھی ردعمل دینے پر مجبور کیا۔ یہ اشتہار ایشوریہ رائے کے کیریئر کا آغاز ثابت ہوا اور انہیں ’پیپسی گرل‘ کے نام سے شہرت حاصل ہوئی اور آج تین دہائیوں بعد بھی ایشوریہ بھارتی فلم انڈسٹری کی مقبول ترین اداکاراؤں میں شمار ہوتی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ایشوریہ رائے بالی ووڈ عامر خان.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ایشوریہ رائے بالی ووڈ کو منتخب کرنے ایشوریہ رائے اشتہار میں انہوں نے کے لیے
پڑھیں:
’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
پاکستان کے معروف ریپر اور گلوکار طلحہ انجم نے نئی دہلی میں تعلیمی نظام کے خلاف احتجاج کرنے والے بھارتی طلبا سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے ان کے حوصلے اور ثابت قدمی کو سراہا ہے۔ انہوں نے طلبا پر ہونے والی پولیس کارروائی کے بعد ایک پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کے غصے اور احساسات کو بخوبی سمجھتے ہیں۔
طلحہ انجم نے اپنی انسٹاگرام اسٹوری پر بھارتی طلبا کے احتجاج کی ایک ویڈیو شیئر کی، جس میں مظاہرین پر آنسو گیس اور لاٹھی چارج ہوتے دکھایا گیا۔ ویڈیو کے ساتھ انہوں نے لکھا کہ ’بھارت کے طلبا مظاہرین کے نام، مجھے آپ کی ثابت قدمی کا بے حد احترام ہے، میں آپ کی مایوسی اور غصے کو سمجھ سکتا ہوں، اور یہ بھی جانتا ہوں کہ آپ کے ساتھ کیا کیا جا رہا ہے، مضبوط رہیں۔‘
طلحہ انجم پاکستان کے سب سے زیادہ سنے جانے والے موسیقاروں میں شمار ہوتے ہیں اور اسٹریمنگ پلیٹ فارم اسپاٹیفائی پر ان کی مقبولیت کئی ریکارڈ قائم کر چکی ہے۔ بھارت میں بھی ان کے مداحوں کی بڑی تعداد موجود ہے۔ گزشتہ برس نیپال میں ایک کنسرٹ کے دوران ایک مداح کی جانب سے بھارتی پرچم پیش کیے جانے پر وہ خبروں میں آئے تھے، بعد ازاں انہوں نے پاکستان میں اس معاملے پر وضاحت بھی کی تھی۔
سماجی اور انسانی مسائل پر کھل کر مؤقف اختیار کرنے والے طلحہ انجم اس سے قبل بھی کئی معاملات پر آواز بلند کر چکے ہیں۔ اپریل میں صومالیہ کے ساحل کے قریب قزاقوں کے قبضے میں جانے والے پاکستانی ملاحوں کی رہائی کے لیے انہوں نے حکومت سے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا تھا اور وزارتِ خارجہ سے متاثرہ خاندانوں کے لیے مستقل ہیلپ لائن قائم کرنے کی اپیل بھی کی تھی۔
دوسری جانب بھارت میں تعلیمی امتحانات کے مبینہ پیپر لیکس کے خلاف احتجاج کا سلسلہ گزشتہ ماہ سے جاری ہے۔ کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کے پلیٹ فارم سے ہونے والے اس دھرنے میں طلبہ وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے اور تعلیمی نظام میں اصلاحات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ حالیہ دنوں پارلیمنٹ کی جانب مارچ کی کوشش کے دوران پولیس نے مظاہرین کو روکنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا، جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے۔