اختلاف رائے کو جابرانہ ہتھکنڈوں سے دبانا جمہوری اقدار کی سنگین پامالی ہے، میرواعظ
اشاعت کی تاریخ: 22nd, November 2025 GMT
ذرائع کے مطابق میر واعظ نے سری نگر کی تاریخی جامع مسجد میں نماز جمعہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کشمیریوں کو صرف اور صرف ان کی شناخت کی وجہ سے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر رہنما میر واعظ عمر فاروق نے بھارت میں کشمیریوں کے ساتھ روا رکھنے جانے والے بہیمانہ سلوک کی شدید مذمت کی ہے۔ ذرائع کے مطابق میر واعظ نے سری نگر کی تاریخی جامع مسجد میں نماز جمعہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کشمیریوں کو صرف اور صرف ان کی شناخت کی وجہ سے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر بھارتی شہر سے کشمیریوں کو ہراساں کرنے کی خبریں آ رہی ہیں جو انتہائی افسوسناک ہے۔میر واعظ نے بھارتی حکام پر زور دیا کہ وہ کشمیریوں کی حفاظت اور سلامتی کو یقینی بنائیں۔ انہوں نے جموں میں کشمیر ٹائمز کے دفتر پر بھی چھاپے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اختلاف رائے کو جابرانہ ہتھکنڈوں سے دبانا جمہوری اقدار کی سنگین پامالی ہے۔ میرواعظ نے بجلی کے نرخوں میں 20فیصد سر چارج عائد کرنے کی کشمیر پاور ڈیولپمنٹ کارپوریشن لمیٹڈ کی تجویز پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اسے لوگوں کے ساتھ ایک سنگین ناانصافی قرار دیا۔ میرواعظ نے کہا کہ لوگ پہلے ہی سخت معاشی بحران کا شکار ہیں، ان کا کاروبار تباہی سے دوچار ہے، اس صورتحال میں بجلی کی قیمتوں میں اضافہ حکومتی بے حسی کے سوا کچھ نہیں۔ میر واعظ نے کہا کہ حکومت لوگوں کے مسائل میں کمی کرنے کے بجائے ان میں اضافہ کر رہی ہے اور غریبوں کو 200 یونٹ مفت بجلی فراہم کرنے کا وعدہ پورا کرنے کے بجائے ان پر نیا بوجھ ڈال رہی ہے۔ انہوں نے حکام پر زور دیا کہ وہ اس عوام دشمن تجویز کو فوری طور پر واپس لیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: میر واعظ نے کرتے ہوئے کہا کہ
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔