جرگے سے واپسی پر افراد کے لاپتہ ہونے پر اظہار برہمی، تحفظ دینا وزیراعلیٰ کی ذمہ داری: پشاور ہائیکورٹ
اشاعت کی تاریخ: 22nd, November 2025 GMT
پشاور (آئی این پی) پشاور ہائی کورٹ نے لاپتہ افراد کیسز میں ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہے کہ جرگے میں شرکت کرنیوالے افراد کو تحفظ فراہم کرنا وزیراعلی کی ذمہ داری ہے۔پشاور ہائی کورٹ میں لاپتہ افراد سے متعلق دائر مختلف درخواستوں پر سماعت ہوئی، کیسز پر سماعت جسٹس ایس ایم عتیق شاہ نے کی۔ سماعت کے دوران امن جرگہ میں شرکت کے بعد لاپتہ ہونے والے محمد ناظیف سمیت دیگر افراد کی درخواست پر بھی پیش رفت ہوئی، عدالت نے جرگہ سے واپسی پر افراد کے لاپتہ ہونے پر شدید برہمی کا اظہار کیا۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ جرگے میں شرکت کیلئے آنے والے افراد کو واپسی پر اٹھا لیا جائے؟۔عدالت نے مزید استفسار کیا کہ جب مہمانوں کی حفاظت نہیں کرسکتے تو پھر انہیں بلایا کیوں جاتا ہے؟ امن جرگے میں شرکت کرنے والے افراد کو تحفظ فراہم کرنا وزیراعلیٰ کی ذمہ داری ہے۔بعدازاں عدالت نے مجموعی طور پر 6 درخواستوں پر کارروائی کرتے ہوئے متعلقہ فریقین سے آئندہ سماعت پر جواب طلب کر لیا اور کیس پر پیش رفت کے لئے سی سی پی او پشاور سے رپورٹ طلب کر لی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: میں شرکت
پڑھیں:
کراچی: زیادتی کی شکار غیرملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا
کراچی کے علاقے ڈیفنس میں زیادتی کا شکار غیر ملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا۔ جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی ملزم کے جسمانی ریمانڈ میں چار روز کی توسیع کردی۔
کراچی میں درخشاں تھانے کی حدود میں امریکی خاتون سے زیادتی کے مقدمے کی سماعت جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت میں ہوئی پولیس نے گرفتار ملزم جیسپر عرف آدی محمود کو عدالت میں پیش کیا۔
متاثرہ خاتون نے عدالت میں زیر دفعہ 164 کا بیان ریکارڈ کروایا، متاثرہ خاتون نے ملزم کو معاف کرنے کا بیان دیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ مقدمہ میں ملوث ملزم آدی محمود کو گرفتار کرلیا ہے، ملزم تھانا درخشاں میں گزشتہ ڈیڑھ ماہ سے صفائی کا کام کر رہا تھا۔
خاتون نے بیان میں کہا کہ پولیس افسر نے اس کا دستخط شدہ بیان جلادیا، پولیس افسر نے کہا کہ مقدمہ درج کروائیں ورنہ ہمارے لیے مشکل ہوجائے گی۔
متاثرہ خاتون نے کہا کہ ملزم کی زندگی خراب نہیں کرنا چاہتی۔
عدالت نے متاثرہ خاتون کا بیان کیس کا حصہ بنادیا جبکہ عدالت نے ملزم جیسپر کے جسمانی ریمانڈ میں چار روز کی توسیع کردی۔
عدالت نے تفتیشی افسر کو ملزم کی عمر کے تعین سے متعلق رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی۔