وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی کا حیات میڈیکل کمپلیکس پشاور کا ہنگامی دورہ
اشاعت کی تاریخ: 15th, November 2025 GMT
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے رات گئے حیات میڈیکل کمپلیکس پشاور کا اچانک دورہ کیا، جہاں انہوں نے ضلع خیبر کی تحصیل تیراہ میں گزشتہ روز پیش آنے والے افسوسناک واقعے میں زخمی ہونے والے افراد کی عیادت کی۔
یہ بھی پڑھیے ایک حوالدار 3 ججوں کے احکامات ردی کی ٹوکری میں پھینک دیتا ہے، سہیل آفریدی
وزیراعلیٰ نے زخمیوں کی خیریت دریافت کی اور اسپتال میں فراہم کی جانے والی طبی سہولیات کا جائزہ لیا۔ انہوں نے مریضوں کے تیمارداروں سے گفتگو کرتے ہوئے ان کی شکایات سنیں اور متعلقہ حکام کو فوری حل کی ہدایات جاری کیں۔
اس موقع پر وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے متاثرین کے لیے فی کس 25 لاکھ روپے مالی امداد کا اعلان کیا۔ انہوں نے ہدایت کی کہ جن زخمیوں کا علاج تکنیکی وجوہات کے باعث صحت کارڈ کے تحت ممکن نہیں، ان کا بھی مکمل علاج مفت کیا جائے۔
یہ بھی پڑھیے کور کمانڈر پشاور سے کیا گفتگو ہوئی؟ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے تفصیل بتادی
وزیراعلیٰ نے کہا کہ حکومت مشکل کی اس گھڑی میں متاثرین کو ہرگز تنہا نہیں چھوڑے گی۔ انہوں نے اسپتال انتظامیہ کو ہدایت کی کہ کولیٹرل ڈیمیج کا شکار زخمیوں کے فوری اور مؤثر علاج کو یقینی بنایا جائے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پشاور حیات آباد میڈیکل کمپلیکس وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پشاور حیات ا باد میڈیکل کمپلیکس وزیراعلی خیبر پختونخوا سہیل ا فریدی انہوں نے
پڑھیں:
سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
فائل فوٹوسپریم کورٹ نے اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا۔
کیس کی سماعت جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی، جسٹس عرفان سعادت نے کہا کہ درخواست 25 دن تاخیر سے دائر کی گئی۔
پشاور ہائیکورٹ فیصلے پر توہین عدالت کی درخواست شہداء کےلواحقین کی جانب سے دائر کی گئی تھی، پشاور ہائیکورٹ نے توہین عدالت کی درخواست خارج کردی تھی۔
درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ شہداء کے لواحقین کو اعلان کردہ پیکیج نہیں ملا۔
جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ اگر کوئی پیکیج ملا ہے تو سب کو دیں، وفاقی حکومت بتائے کہ پشاور ہائیکورٹ فیصلے پر عملدرآمد ہوا یا نہیں۔
کیس کی مزید سماعت غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کردی گئی۔