ممبئی(شوبز ڈیسک)بھارتی اداکار منوج باجپائی نے کانو بیہل کی نئی فلم ’آگرہ‘ کی بھرپور حمایت کی ہے، جو ریلیز کے باوجود سینما اسکرینز حاصل کرنے میں مسلسل مشکلات کا سامنا کر رہی ہے۔ اداکار کا کہنا ہے کہ انڈی فلم میکرز کو ملٹی پلیکسز میں جگہ پانے کے لیے ہمیشہ طویل جدوجہد کرنا پڑتی ہے۔

’آگرہ‘، جو 2023 کے کانز فلم فیسٹیول کے ڈائریکٹرز فورٹ نائٹ سیکشن میں نمائش کے لیے منتخب ہوئی تھی، شہر کے اس رخ کی کہانی بیان کرتی ہے جسے کبھی نہیں دیکھا گیا—خواہشات، جنون اور ایک ایسے گھر کی تلاش جس میں جی کر سانس گھٹنے لگے۔

فلم کے ڈائریکٹر کانو بیہل نے حال ہی میں ایکس پر اپنی مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ فلم کو بڑے بجٹ کی ریلیزز کی وجہ سے شوز نہیں مل رہے۔ ان کے مطابق چھوٹی فلمیں ملٹی پلیکس پروگرامنگ میں “فٹ نہیں بیٹھتیں”۔ انہوں نے شائقین سے کہا کہ آواز اٹھائیں اور سینما چینز کو کہیں کہ وہ اس فلم کو دکھانا چاہتے ہیں۔

منوج باجپائی نے جواب میں لکھا، “یہ جدوجہد بہت پرانی ہے، انڈی فلم سازوں اور ان کی محنت کو بڑے سینما اسپیس میں اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ ہمت مت ہارو، کانو۔ تمہاری کوشش اہم ہے۔ شائقین کو چاہیے کہ وہ ایسی معنی خیز فلموں کو سپورٹ کریں اور اپنے سینما گھروں سے کہیں کہ انہیں مناسب موقع دیا جائے۔”

کانو بیہل نے شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا، “یہ حیران کن ہے کہ یہ لڑائی ختم ہی نہیں ہوتی۔ آپ برسوں سے لڑ رہے ہیں اور اب یہ سلسلہ ہمارے لیے بھی جاری ہے۔ جیسے کچھ بدلتا ہی نہیں۔”

اداکارہ سایامی کھیر نے بھی اس معاملے پر افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ اچھا سینما دیکھنے کی بات کرنے والے اکثر لوگ چھوٹی فلموں کے ساتھ ہونے والی ناانصافی کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔

’آگرہ‘ کی ریلیز آج طے تھی، لیکن اجے دیوگن اور آر مادھون کی بڑی فلم ’ڈے ڈے پیار ڈے 2‘ کے سامنے اسے اسکرینز کم ملے۔ منوج باجپائی کی حمایت کا مقصد یہی ہے کہ ناظرین چھوٹی فلموں کا ساتھ دیں اور انڈی سینما کو وہ جگہ ملے جس کا وہ حق دار ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: منوج باجپائی

پڑھیں:

میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت

لندن کے میئر سر صادق خان(sadiq khan) نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو آن لائن دنیا میں درپیش خطرات اور نقصانات سے بچانے کے لیے یہ ایک ضروری اقدام ہے۔

منگل کو لندن میں انجینئرز، کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں سے خطاب کے دوران صادق خان نے کہا کہ جس طرح خوراک اور ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی حفاظت ثابت کرنا پڑتی ہے، اسی طرح سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی اپنے پلیٹ فارمز کے بچوں کے لیے محفوظ ہونے کا ثبوت دینا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ جب تک سوشل میڈیا کمپنیاں اپنے پلیٹ فارمز کی حفاظت ثابت نہیں کرتیں، اس وقت تک کم عمر بچوں کے لیے ان پر پابندی عائد کرنا ہی نقصانات کو روکنے کا مؤثر طریقہ ہے۔

میئر نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ آن لائن مینوسفیئر نامی رجحان نوجوان لڑکوں اور مردوں پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے، جس سے ایک کھوئی ہوئی نسل پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔

یہ مؤقف برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر کے مؤقف سے زیادہ سخت سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ وزیر اعظم نے بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے اہم اقدامات کا وعدہ کیا ہے، تاہم انہوں نے ابھی تک سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی حمایت نہیں کی۔

برطانوی حکومت نے حال ہی میں بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق ایک مشاورتی عمل مکمل کیا ہے، جس میں سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر مقرر کرنے، ایپس کے استعمال کے اوقات محدود کرنے، لا محدود اسکرولنگ اور آٹو پلے جیسی عادت ساز خصوصیات پر پابندی لگانے اور عمر کی تصدیق کے سخت نظام متعارف کرانے جیسے اقدامات پر رائے طلب کی گئی تھی۔

مزید پڑھیں:نیشنل ہیلتھ سروسز کیلئے 22 ارب روپے کا بجٹ مختص، اہم تفصیلات سامنے آگئیں

مشاورت کے نتائج کی بنیاد پر حکومت بچوں کے تحفظ کے لیے آئندہ پالیسی اور قانون سازی کے حوالے سے فیصلے کرے گی۔

متعلقہ مضامین

  • بابوسر ٹاپ 8 جون تک ہر قسم کی ٹریفک کیلئے بند
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا نے پاکستان کو جیت کیلئے 232 رنز کا ہدف دے دیا
  • حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا کا پاکستان کو جیت کیلئے 232 رنز کا ہدف
  • کراچی ایئرپورٹ پر جعلی یو اے ای ورک ویزا فراڈ بے نقاب، مسافر آف لوڈ
  • آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
  • پاکستان اور اٹلی کے سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کیلئے ویزا ختم کرنے کا معاہدہ
  • دعا گو ہیں جنگ کے خاتمے کیلئے فیلڈ مارشل کی کوششیں کامیاب ہوں، بلاول بھٹو
  • اسمبلی کارروائی پیپر لیس کرنے کیلئے پنجاب اسمبلی میں جدید ٹیبلٹس کی تنصیب
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت