فلموں میں بار بار مار کھانے پر والد نے کہا گھر مت آنا، نواز الدین صدیقی
اشاعت کی تاریخ: 14th, November 2025 GMT
بھارتی اداکار نوازالدین صدیقی نے انکشاف کیا ہے کہ کیریئر کے آغاز میں فلموں میں بار بار مار کھانے والے کرداروں کی وجہ سے ان کے والد نے انہیں گھر آنے سے روک دیا تھا۔
ایک تازہ انٹرویو میں نوازالدین نے بتایا کہ سرفروش اور منا بھائی ایم بی بی ایس جیسی فلموں میں ان کی پٹائی والے مناظر والد کے لیے باعث شرمندگی بن جاتے تھے، جب کہ گاؤں والے بھی انہیں طعنے دیتے تھے کہ ان کا بیٹا فلموں میں ہمیشہ مار کھاتا نظر آتا ہے۔
اداکار نے کہا کہ اس دور میں انہیں چور، جیب کترے اور کمزور کردار ہی ملتے تھے اور وہ اچھے رول کے لیے جدوجہد کر رہے تھے مگر والد نے واضح کہہ دیا تھا کہ جب تک بہتر کردار نہ ملیں، گھر نہ آئیں۔ اسی وجہ سے وہ تین سال تک گاؤں نہیں گئے۔
نوازالدین نے بتایا کہ گینگز آف واسع پور ان کے کیریئر کا ٹرننگ پوائنٹ ثابت ہوئی۔ اس فلم کی کامیابی کے بعد جب وہ واپس گاؤں پہنچے تو والد نے پہلی بار ان کے کردار کی تعریف کی اور کہا کہ انہوں نے واقعی اچھا کام کیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
راولپنڈی میں 14 سالہ فیکٹری ملازم کے ساتھ ’استاد‘ کی بدفعلی، لڑکا اسپتال میں داخل
راولپنڈی کے تھانہ سول لائن کے علاقے گلستان کالونی میں فیکٹری کے استاد کی 14 سالہ شاگرد سے مبینہ زیادتی و انسانیت سوز سلوک کا کیس سامنے آنے پر پولیس نے مقدمہ درج کرکے ملزم کو گرفتار کرلیا۔
پولیس کے مطابق بچے کے والد نے بتایا 14 سالہ بیٹا پلاسٹک کے دروازے کھڑکیاں بنانے والی فیکٹری میں کام سیکھ رہا ہے، جہاں اسد جہانگیر نامی شخص نے اُسے مبینہ بدفعلی کا نشانہ بنایا۔
والد کے مطابق اسد جہانگیر نے آج فون پر بتایا کہ آپکے بیٹے کی طبیعت اچانک خراب ہوگی اسکو اسپتال لے کر آئے ہیں اور ڈاکٹر بچے کے والد کو بلوا رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ اسپتال پہنچا تو بیٹے نے گلے لگ کر سہمے ہوئے انداز بتایا کہ اسکے فیکٹری کے استاد اسد جہانگیر نے مبینہ زیادتی کا نشانہ بنایا اور مزید بتایا فیکٹری استاد اسد جہانگیر نے مبینہ بربریت کا مظاہرہ کرتے ہوئے پرائیویٹ پارٹ میں پائپ بھی ڈالتا رہا۔
پولیس نے والد کی درخواست پر مقدمہ درج کرکے ملزم کو گرفتار کرلیا۔ ایس پی پوٹھوہار سردار بابر ممتاز کا نے کہا کہ متاثرہ لڑکے کا میڈیکل کروایا جارہا ہے جس کی رپورٹ آنے کے بعد مزید کارروائی کی جائے گی۔
انہوں نے متاثرہ خاندان کو یقین دہانی کرائی کہ زیر حراست شخص کو ٹھوس شواہد کے ساتھ چالان کیا جائے گا،خواتین ، بچوں سے ہراسمنٹ یا زیادتی ناقابل برداشت ہیں۔