آئر لینڈ فٹبال ایسوسی ایشن نے اسرائیلی ٹیم پر پابندی کی قرارداد منظور کرلی
اشاعت کی تاریخ: 9th, November 2025 GMT
آئر لینڈ فٹبال ایسوسی ایشن نے اسرائیلی ٹیم پر پابندی کی قرارداد کثرت رائے سے منظور کرلی۔
غیر ملکی خبررساں ادارے کے مطابق اسرائیل کی فٹبال ٹیم کے خلاف پابندی کی قرارداد کے حق میں 74 جبکہ مخالفت میں 7 ووٹ پڑے۔
آئرلینڈ فٹبال ایسوسی ایشن نے یوئیفا سے اسرائیلی فٹبال ٹیم پر پابندی کا مطالبہ کیا ہے۔
آئرلینڈ فٹبال ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے فیفا کی 2 شقوں کی سنگین خلاف ورزی کی ہے، فیفا کی نسلی تعصب برتنے سے متعلق پالیسی کی اسرائیل واضح خلاف ورزی کرتا رہا ہے۔
ایسوسی ایشن نے موقف اپنایا کہ اسرائیلی کلبوں نے فلسطین فٹ بال ایسوسی ایشن کی اجازت کے بغیر مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں فٹبال کھیلی۔
خیال رہے کہ آئرش قرارداد ستمبر میں ترکیے اور ناروے کے فٹ بال حکام کی اسرائیل کو بین الاقوامی مقابلوں سے معطل کرنے کی درخواست کے بعد سامنے آئی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: فٹبال ایسوسی ایشن ایسوسی ایشن نے
پڑھیں:
مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی
سوشل میڈیا پر یہ دعویٰ وائرل ہورہا تھا کہ پنجاب کے سیاحتی مقام مری میں 31 مئی تک غیر شادی شدہ مردوں (بیچلرز) کے داخلے پر سرکاری پابندی عائد کردی گئی ہے، تاہم فیکٹ چیک کے بعد یہ واضح ہوا ہے کہ یہ دعویٰ گمراہ کن ہے اور مکمل طور پر درست نہیں۔
فیس بک سمیت مختلف پلیٹ فارمز پر شیئر کی جانے والی پوسٹس میں کہا جا رہا تھا کہ عید سے قبل مری میں دفعہ 144 نافذ کرتے ہوئے بیچلرز کے داخلے پر پابندی لگا دی گئی ہے اور صرف فیملیز کو ہی شہر میں جانے کی اجازت ہوگی۔ ان دعوؤں میں یہ تاثر دیا گیا کہ مبینہ پابندی پورے مری شہر پر لاگو ہے۔
حقیقت اس کے برعکس ہے۔ حکام کے مطابق مری میں غیر شادی شدہ مردوں کے داخلے پر کوئی مکمل پابندی عائد نہیں کی گئی۔ صرف مخصوص ہدایت کے تحت مال روڈ پر ایک تبدیلی کی گئی ہے، جہاں اکیلے آنے والے مردوں یا بیچلرز گروپس کو داخلے کی اجازت نہیں ہوگی، جبکہ فیملیز بدستور وہاں جا سکتی ہیں۔
ضلع مری کے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) کامران صغیر کے مطابق 31 مئی تک دفعہ 144 نافذ تھی، جس کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا۔ ان کے مطابق مری شہر میں بیچلرز کے داخلے پر کوئی پابندی نہیں، البتہ مال روڈ پر صرف فیملیز کو جانے کی اجازت دی گئی ہے تاکہ سیاحتی نظم و ضبط بہتر بنایا جا سکے۔
انہوں نے مزید وضاحت کی کہ ’’مال روڈ کے اوپر اکیلے مردوں کو اجازت نہیں، صرف فیملیز جا سکتی ہیں، پورا مری بند نہیں ہے، بیچلرز کی انٹری پر مکمل پابندی نہیں ہے۔‘‘
ڈپٹی کمشنر مری کے سرکاری فیس بک اکاؤنٹ سے بھی 20 مئی کو جاری نوٹیفکیشن شیئر کیا گیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ پولیس کی سفارش پر مال روڈ پر صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ سیاحوں کو بہتر سہولت فراہم کی جا سکے۔
یہ دعویٰ کہ مری میں بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد ہے، غلط ثابت ہوا۔ حقیقت یہ ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود ہے، جبکہ مری شہر بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے۔