پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کا حکومت پنجاب میڈیکل کالجز میں اعلان کردہ داخلہ پالیسی کا نوٹس لینےکامطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 7th, November 2025 GMT
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن پنجاب کے عہدیداران کا کہنا ہے محکمہ صحت پنجاب کی طرف سے حال ہی میں صوبے بھر کے میڈیکل کالجز میں اعلان کردہ داخلہ پالیسی کے تحت اہل اور مستحق طلبا کے ساتھ ناانصافی کی جا رہی ہے۔
میڈیکل کالجز میں داخلہ 26-2025 پالیسی کے تحت 2023 اور 2024 میں ایف ایس سی پاس کرنے والے طلبا کو بھی داخلہ کا اہل قرار دیا گیا ہے ۔ پنجاب کے میڈیکل کالجز میں 3 سال کےلئے انٹری ٹیسٹ کی قبولیت نا قابل فہم اور بلاجواز ہے اور یہ فیصلہ فریش طلباء کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کے مترادف ہے، جس کی اجازت نہیں دی جاسکتی ۔ جو طلباء 2024 میرٹ پر داخلہ سے محروم رہ گئے ہیں ان کو کیونکر 2025 میں چور دروازے سے داخلہ دیا جاسکتا ہے۔
26 ویں ترمیم میں حکومت جن 35 شقوں سے دستبردار ہوئی اگر انہی میں سے کوئی چیز 27 ویں ترمیم میں پاس کی جاتی ہے تو ہم اسے پارلیمنٹ کی توہین سمجھتے ہیں،مولانا فضل الرحمان
پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کے عہدیداران نے حکومت پنجاب سے مطالبہ کیا ہے کہ سندھ، نسٹ اور آغاخان یونیورسٹی کی طرف پنجاب میں بھی 2025 کی سیٹوں کے لئے صرف 2025 انٹری ٹیسٹ کا اطلاق کیا جائے۔
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: میڈیکل کالجز میں
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔