کراچی:

پاکستان کے معروف خواتین فیشن اور فٹ ویئر برانڈ اسٹائلو نے صارفین کے لیے 11.11 آن لائن سیل کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے جس میں مختلف کیٹیگریز پر فلیٹ 21 فیصد اور 51 فیصد تک رعایت دی جارہی ہے۔

کئی دہائیوں پر مشتمل کامیاب سفر کے ساتھ اسٹائلو ملک کے سب سے قابلِ اعتماد فیشن برانڈز میں سے ایک بن چکا ہے۔ اپنی اسٹائلش جوتیوں، جدید بیگز اور خوبصورت ملبوسات کے باعث مشہور یہ برانڈ ہمیشہ سے معیار اور معقول قیمتوں کا امتزاج پیش کرتا آیا ہے تاکہ پاکستان بھر کی خواتین کے لیے فیشن کو آسان اور قابلِ رسائی بنایا جا سکے۔

آن لائن خریداروں کے لیے خصوصی سیل

اس سال کی 11.

11 سیل صرف اسٹائلو کے آن لائن اسٹور کے لیے مخصوص ہے جو ملک بھر کے صارفین کو گھر بیٹھے خریداری کا آسان اور آرام دہ تجربہ فراہم کرتی ہے۔ مزید دلچسپی کی بات یہ ہے کہ اسٹائلو 13 نومبر تک تمام آرڈرز پر مفت ڈلیوری پیش کر رہا ہے، یعنی سیل کے دوران کسی بھی قسم کے ڈلیوری چارجز لاگو نہیں ہوں گے۔

اس سیل کی ایک اور نمایاں بات ’’آن لائن ایکسکلوسِو کلیکشن‘‘ کا آغاز ہے، جس میں مردوں کے سینڈلز، سوفٹیز، خواتین کے لیے شالز اور دیگر محدود اشیاء شامل ہیں جو اسٹورز پر دستیاب نہیں ہوں گی بلکہ یہ اُن خریداروں کے لیے بہترین موقع ہے جو گھر بیٹھے خریداری کو ترجیح دیتے ہیں۔

11.11 سیل میں شامل کیٹیگریز

خواتین کے جوتے

اسٹائلو کی سب سے بڑی کیٹیگری لیڈیز شوز 11.11 سیل کا مرکزی حصہ ہے۔ اس کلیکشن میں ہر طرح کے جوتے شامل ہیں۔ کورٹ شوز اور پمپس جو رسمی تقریبات کے لیے موزوں ہیں، سے لے کر سلیپرز، سوفٹیز، ویجز، موکاسنز اور چپلیں جو روزمرہ کے آرام کے لیے بہترین ہیں۔ ہر ڈیزائن میں معیار اور باریکی پر اسٹائلو کی خاص توجہ جھلکتی ہے، جس سے ہر موقع اور مزاج کے لیے موزوں جوڑا تلاش کرنا آسان ہو جاتا ہے۔

اسنیکرز

جو افراد آرام دہ انداز کو ترجیح دیتے ہیں ان کے لیے خواتین کے اسنیکرز بہترین انتخاب ہیں جو سہولت اور روزمرہ فیشن کو ایک ساتھ لاتے ہیں۔ سفر یا عمومی آؤٹنگ کے لیے یہ جوتے نہایت موزوں ہیں اور جینز یا نیم رسمی لباس کے ساتھ پہننے پر ایک جدید اور دلکش انداز پیش کرتے ہیں۔

ہیلس

اسٹائلو کی ہیلس کلیکشن اس طرح ڈیزائن کی گئی ہے کہ پہننے والی کو خوبصورتی اور قد میں نرمی کے ساتھ اضافہ ملے وہ بھی بغیر کسی تکلیف کے۔ چاہے بات بلاک، ویج یا اسٹیلیٹو اسٹائل کی ہو، یہ وسیع کلیکشن اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ خواتین کو ایسے ڈیزائن ملیں جو جشن کے مواقع اور دفتر دونوں کے لیے موزوں ہوں۔

بیگز

اسٹائلو کی بیگز کلیکشن ہمیشہ سے صارفین کی پسندیدہ رہی ہے، جو ہر ضرورت کے لیے اسٹائل اور سہولت کا بہترین امتزاج پیش کرتی ہے۔

ہینڈ بیگز

روزمرہ استعمال کے لیے نہایت موزوں، اسٹائلو کے ہینڈ بیگز کشادگی، دلکش ڈیزائن اور مضبوطی کا خوبصورت امتزاج ہیں جو دفتر، آؤٹنگ یا سفر کے لیے بہترین انتخاب ہیں۔

کلاچز

شام کی تقریبات یا خاص مواقع کے لیے اسٹائلو کے کلاچز بہترین ہیں۔ ان کے جدید اور خوبصورت ڈیزائن پارٹیوں اور تقریبات کے انداز میں نرمی سے نکھار پیدا کرتے ہیں۔

شولڈر بیگز

اسٹائلو کے شولڈر بیگز میں آرام اور سہولت کا حسین امتزاج ہے یہ ان خواتین کے لیے بنائے گئے ہیں جو عملی مگر اسٹائلش بیگز پسند کرتی ہیں۔

مشہور ہینڈ بیگز، کلاچز اور شولڈر بیگز کے ساتھ ساتھ، خریداروں کو پاؤچز اور بیک پیکس بھی ملیں گے جو روزمرہ کے استعمال یا سفر کے لیے نہایت موزوں ہیں۔ ہر ڈیزائن بڑی باریکی سے تیار کیا گیا ہے تاکہ جدید خواتین کی ضروریات پوری کی جا سکیں، چاہے وہ کسی تقریب کے لیے چھوٹے بیگز ہوں یا کام اور یونیورسٹی کے لیے کشادہ اسٹائلز۔

ملبوسات

اسٹائلو کا اپیرل سیکشن اس موسمِ سرما کے لیے آرام دہ اور خوشنما نئے انداز پیش کر رہا ہے۔ ریڈی ٹو وئیر ونٹر پریٹ کلیکشن میں نرم کپڑوں اور پُرسکون رنگوں میں تیار شدہ تھری پیس، ٹو پیس اور سنگل شرٹس شامل ہیں جو روزمرہ اور نیم رسمی پہننے کے لیے موزوں ہیں۔

جو خواتین اپنی پسند کے مطابق لباس تیار کروانا چاہتی ہیں ان کے لیے ونٹر انسٹیچڈ کلیکشن دستیاب ہے، جس میں دلکش پرنٹس والے تھری پیس، ٹو پیس اور سنگل سوٹس شامل ہیں تاکہ وہ اپنی مرضی کا انداز تشکیل دے سکیں۔

اس سال اسٹائلو نے فیشن کے مطابق پینٹس، شلوار، شالز اور اسٹولز بھی متعارف کرائے ہیں، جو سردیوں کے ملبوسات کو مکمل بناتے ہیں اور مختلف انداز میں اسٹائل کیے جا سکتے ہیں۔

لڑکیوں کے جوتے

چمک دار سینڈلز سے لے کر آرام دہ سردیوں کے جوتوں تک، اسٹائلو کے گرلز شوز کو آرام اور خوشی کے امتزاج کے ساتھ تیار کیا گیا ہے۔ ہر جوڑا نرم، پہننے میں آسان اور روشن، دلکش رنگوں میں دستیاب ہے، جو چھوٹی بچیوں کے انداز میں مزید پیار بھرا لمس شامل کرتا ہے۔

لڑکوں کے جوتے

مضبوط اور بہترین فٹنگ کے ساتھ اسٹائلو کے بوائز شوز اسکول، آؤٹنگز اور روزمرہ کھیل کود کے لیے نہایت موزوں ہیں۔ ان کے ڈیزائن میں سپورٹ اور آرام پر خاص توجہ دی گئی ہے جبکہ ان کا جدید انداز بچوں کے فعال اور پُرجوش مزاج کے عین مطابق ہے۔

ایسیسریز

اسٹائلو کا ایسیسریز سیکشن خریداری کے تجربے کو خوبصورتی کے ساتھ مکمل کرتا ہے۔ اس کلیکشن میں جیولری، بالیاں، ہار، گھڑیاں، انگوٹھیاں اور دیگر دلکش اشیاء شامل ہیں، جو ہر لباس چاہے کیژوئل ہو یا تہوار کے موقع کا اس کے ساتھ خوبصورتی سے میل کھاتی ہیں۔ یہ نفیس مگر اسٹائلش آئٹمز ہر انداز میں دلکشی کا اضافہ کرتی ہیں۔

یہ سیل کیوں اہم ہے؟

اسٹائلو 11.11 آن لائن اونلی سیل صرف زبردست ڈسکاؤنٹس کی وجہ سے ہی نہیں بلکہ اپنی آن لائن ویرائٹی کے باعث بھی نمایاں ہے۔ فلیٹ 51% اور 21% رعایت، 13 نومبر تک مفت ڈیلیوری اور آن لائن ایکسکلیوژیو لانچز کے ساتھ، یہ گاہکوں کے لیے ایک نایاب موقع ہے کہ وہ اپنے پسندیدہ آئٹمز گھر بیٹھے خرید سکیں۔

یہ سیل اب اسٹائلو کی آفیشل ویب سائٹ پر لائیو ہے جہاں مکمل کلیکشن، بشمول نئی آن لائن اونلی اشیاء اسٹاک ختم ہونے تک دستیاب ہے۔

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کے لیے موزوں نہایت موزوں اسٹائلو کے اسٹائلو کی خواتین کے موزوں ہیں شامل ہیں کے ساتھ کے جوتے آن لائن پیش کر ہیں جو

پڑھیں:

سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ٹرمپ کا نیا حربہ، عالمی درآمدات پر نئے ٹیرف کا نفاذ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ جمعہ سے پاکستان، یورپی یونین اور دنیا کے دیگر 60 تجارتی شراکت داروں سے درآمد ہونے والی متعدد اشیا پر 10 اور 12.5 فیصد کے نئے درآمدی محصولات (ٹیرف) نافذ کر رہی ہے۔

امریکی حکومت کا مؤقف ہے کہ متعلقہ ممالک اپنی سپلائی چینز میں جبری مشقت کے خاتمے کے قوانین پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنانے میں ناکام رہے ہیں۔

نئے ٹیرف کا اعلان امریکی فیڈرل رجسٹر میں جاری نوٹس کے ذریعے کیا گیا۔ یہ محصولات اس عارضی 10 فیصد عالمی ٹیرف کی جگہ لیں گے جو امریکی سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد 150 روز کے لیے نافذ کیا گیا تھا اور جس کی مدت جمعہ کو ختم ہو رہی ہے۔

امریکی سپریم کورٹ نے رواں برس فروری میں ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے گزشتہ سال قومی ہنگامی اختیارات کے تحت عائد کیے گئے 10 سے 50 فیصد تک کے  باہمی  ٹیرف غیر مؤثر قرار دے دیے تھے۔ ان ٹیرف کا مقصد امریکا کے تجارتی خسارے کو کم کرنا تھا، تاہم عدالت کے فیصلے کے بعد انتظامیہ نے اب 1974ء کے ٹریڈ ایکٹ کی سیکشن 301 کے تحت نئے محصولات نافذ کرنے کا راستہ اختیار کیا ہے، جسے قانونی طور پر زیادہ مضبوط تصور کیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیے ٹرمپ ٹیرف: عالمی مارکیٹ میں کس ملک کو کتنا نقصان ہوا؟

امریکی حکام کے مطابق نئے محصولات امریکا کی تقریباً 99.4 فیصد درآمدات پر لاگو ہوں گے، تاہم متعدد اہم اشیا کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔ ان میں خام تیل، قدرتی گیس، کھاد، بعض غذائی اجناس، جبکہ قومی سلامتی کے تحت پہلے سے سیکشن 232 کے محصولات کی زد میں آنے والی گاڑیاں، اسٹیل، ایلومینیم اور تانبا شامل ہیں۔ اسی طرح امریکا، کینیڈا اور میکسیکو کے آزاد تجارتی معاہدے (USMCA) کے تحت آنے والی متعدد مصنوعات بھی ان نئے محصولات سے مستثنیٰ ہوں گی۔

امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر نے ایک بیان میں کہا کہ امریکا تقریباً ایک صدی سے جبری مشقت سے تیار کردہ مصنوعات کی درآمد پر پابندی عائد کیے ہوئے ہے اور ان قوانین پر سختی سے عمل کرتا ہے۔ ان کے بقول اب وقت آ گیا ہے کہ امریکا کے تجارتی شراکت دار بھی اسی معیار پر عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا خاتمہ ہو اور عالمی تجارت میں غیر منصفانہ مقابلے کا سدباب کیا جا سکے۔

انہوں نے واضح کیا کہ جن ممالک نے امریکا کے ساتھ پہلے ہی تجارتی معاہدے کر رکھے ہیں اور جن کے لیے زیادہ سے زیادہ ٹیرف کی حد مقرر ہے، ان پر نئے محصولات اس حد سے تجاوز نہیں کریں گے۔

پاکستان سمیت کن ممالک پر 10 فیصد ٹیرف؟

حتمی فیصلے کے مطابق پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، برطانیہ، کینیڈا، میکسیکو، ملائیشیا، انڈونیشیا، کمبوڈیا، سری لنکا، ارجنٹینا، ایکواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، اردن، ایل سلواڈور، ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو اور دیگر کئی ممالک سے آنے والی متعلقہ مصنوعات پر 10 فیصد کا نیا ٹیرف عائد کیا جائے گا، جبکہ بعض دیگر تجارتی شراکت داروں پر 12.5 فیصد شرح بھی نافذ ہوگی۔

عالمی ردعمل

آسٹریلیا اور برازیل نے امریکی اقدام کو غیر ضروری اور غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں کریں گے۔

کینیڈا نے، جس پر چند روز قبل ہی تقریباً 20 ارب ڈالر مالیت کی مصنوعات پر نئے امریکی ٹیرف عائد کیے گئے تھے، محتاط ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس معاملے پر امریکا کے ساتھ تعمیری مذاکرات جاری رکھے گا۔

کینیڈا کے وزیر برائے امریکا تجارت ڈومینک لی بلانک نے کہا کہ دونوں ممالک آنے والے ہفتوں میں اس مسئلے سمیت دیگر تجارتی معاملات پر بات چیت جاری رکھیں گے تاکہ دونوں ملکوں کے شہریوں کے مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

ادھر امریکی ریاست میساچوسٹس کی ڈیموکریٹک گورنر مورا ہیلی نے نئے محصولات کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے سے اشیا مہنگی ہوں گی، کاروباری اداروں پر منفی اثرات مرتب ہوں گے اور امریکی معیشت کی مسابقتی صلاحیت بھی متاثر ہوگی۔

قانونی ماہرین کی رائے

تجارتی قانون کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ نئے محصولات کی شرح بڑی حد تک ان عارضی ٹیرف سے ملتی جلتی ہے جو اب ختم ہو رہے ہیں، تاہم چونکہ انہیں سیکشن 301 کے تحت نافذ کیا جا رہا ہے، اس لیے عدالت میں ان کے خلاف قانونی چیلنج پہلے کے مقابلے میں زیادہ مشکل ہوگا۔

یہ بھی پڑھیے ٹرمپ ٹیرف اسٹاک مارکیٹ لے بیٹھا، کملا ہیرس کی پیشگوئی سچ ثابت

ماہرین کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ اس قانونی راستے کے ذریعے نہ صرف تقریباً تمام درآمدات پر کم از کم 10 فیصد ٹیرف برقرار رکھنا چاہتی ہے بلکہ مستقبل میں ضرورت پڑنے پر ان کی شرح میں ردوبدل کرنے کا اختیار بھی اپنے پاس رکھنا چاہتی ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق یہ اقدام ٹرمپ انتظامیہ کی اس وسیع تجارتی حکمت عملی کا حصہ ہے جس کا مقصد امریکی صنعت کو تحفظ فراہم کرنا، سپلائی چینز میں جبری مشقت کے خاتمے کے لیے دباؤ بڑھانا اور درآمدی تجارت پر سخت نگرانی برقرار رکھنا ہے، تاہم ناقدین خبردار کر رہے ہیں کہ اس سے عالمی تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ اور امریکی صارفین کے لیے درآمدی اشیا مہنگی ہونے کا خدشہ بھی بڑھ سکتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

ٹرمپ ٹیرف

متعلقہ مضامین

  • امریکا نے پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
  • ’میمز‘ سے انقلاب؟ سی جے پی احتجاج میں جین زی کا نیا انداز
  • مشرقِ وسطیٰ کشیدگی کے اثرات، اسٹاک ایکسچینج میں 1,200 سے زائد پوائنٹس کی کمی
  • امریکہ کا پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان
  • ویژن 2030 نے سعودی معاشرے کو نئی سمت دے دی، خواتین، صحت اور ثقافت کے شعبوں میں نمایاں کامیابیاں
  • سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ٹرمپ کا نیا حربہ، عالمی درآمدات پر نئے ٹیرف کا نفاذ
  • سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے بعد پنشن میں بھی اضافہ
  • جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
  • کیا فواد خان نے بھی سرجری کروالی؟ نئی تصاویر پر سوشل میڈیا پر بحث
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ