اسلام آباد، سیکیورٹی گارڈ نے بیوی کو کلہاڑی کے وار سے قتل کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 7th, November 2025 GMT
وفاقی دارالحکومت کے نواحی علاقے میں پیش آنے والے افسوسناک واقعے میں سیکیورٹی گارڈ نے گھریلو جھگڑے کے دوران اپنی بیوی کو بہیمانہ تشدد کے بعد قتل کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں:اسلام آباد پولیس کی کارروائی، دہرے قتل کا مجرم گرفتار
میڈیا رپورٹ کے مطابق پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم جس کی شناخت ندیم کے نام سے ہوئی ہے، نے اشتعال میں آ کر کلہاڑی سے بیوی پر حملہ کیا، جس کے نتیجے میں اس کی دونوں ٹانگیں کٹ گئیں۔ شدید خون بہنے کے باعث خاتون، جس کا نام رانی بتایا گیا ہے، موقع پر ہی دم توڑ گئی۔
واقعے کی اطلاع ملنے پر پولیس فوری طور پر جائے وقوعہ پہنچی اور ملزم کو گرفتار کر لیا۔
تحقیقات کے مطابق میاں بیوی کے درمیان طویل عرصے سے جھگڑے چل رہے تھے اور ملزم اکثر اہلیہ پر تشدد کرتا تھا۔ ابتدائی تفتیش میں معلوم ہوا ہے کہ معمولی گھریلو تنازع نے شدید شکل اختیار کی جس کے بعد یہ افسوسناک واقعہ پیش آیا۔
پولیس حکام نے بتایا کہ مقتولہ کے بھائی کی مدعیت میں ملزم کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:اسلام آباد پولیس کے سینیئر افسر نے گولی مار کر اپنی جان لے لی
اہلِ محلہ کے مطابق واقعے کے وقت گھر میں میاں بیوی کے علاوہ کوئی موجود نہیں تھا۔ خاتون کی چیخ و پکار سن کر اہلِ علاقہ نے پولیس کو اطلاع دی۔ زخمی حالت میں رانی کو اسپتال منتقل کیا گیا، تاہم خون زیادہ بہہ جانے کی وجہ سے وہ جانبر نہ ہو سکیں۔
پولیس نے لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے اسپتال منتقل کر دیا ہے جبکہ مزید تفتیش جاری ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسلام آباد پولیس سیکیورٹی گارڈ قتل کلہاڑی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسلام ا باد پولیس سیکیورٹی گارڈ قتل کلہاڑی
پڑھیں:
میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔(جاری ہے)
تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔