تحریک انصاف رہنماؤں کے وارنٹ گرفتاری کا معاملہ، اسلام آباد پولیس کے پی ہاؤس پہنچ گئی
اشاعت کی تاریخ: 7th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں کے وارنٹ گرفتاری کے معاملے پر پولیس کی ایک ٹیم خیبر پختونخوا ہاؤس پہنچی اور وارنٹ کی تعمیل کرائی۔ ذرائع کے مطابق پولیس ٹیم نے کے پی ہاؤس کی سیکیورٹی سے رابطہ کیا اور پی ٹی آئی رہنماؤں سہیل آفریدی اور جنید اکبر کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔ تاہم دونوں رہنما وہاں موجود نہیں تھے، جس کے بعد پولیس وارنٹ کی تعمیل کے بعد واپس روانہ ہوگئی۔
پولیس ذرائع کے مطابق دونوں رہنماؤں کے خلاف تھانہ کوہسار میں 26 نومبر کے واقعے سے متعلق مقدمہ درج ہے، جس میں مختلف الزامات کے تحت قانونی کارروائی جاری ہے۔ انسدادِ دہشت گردی عدالت نے دونوں رہنماؤں کے ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے، جس پر عملدرآمد کے لیے اسلام آباد پولیس متحرک ہوئی۔
ذرائع کے مطابق کے پی ہاؤس انتظامیہ نے پولیس ٹیم کو مکمل تعاون فراہم کیا اور وارنٹ کی وصولی کی تصدیق کی۔ بعد ازاں پولیس نے اپنی رپورٹ تیار کرکے متعلقہ حکام کو آگاہ کر دیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔
تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔