استنبول مذاکرات: افغان سرزمین سے دہشت گردی کسی صورت قبول نہیں، پاکستان
اشاعت کی تاریخ: 7th, November 2025 GMT
استنبول مذاکرات: افغان سرزمین سے دہشت گردی کسی صورت قبول نہیں، پاکستان WhatsAppFacebookTwitter 0 7 November, 2025 سب نیوز
استنبول، اسلام آباد: (آئی پی ایس) پاکستان نے استنبول مذاکرات میں اپنا مؤقف واضح کر دیا کہ افغان سرزمین سے دہشت گردی کسی صورت قبول نہیں کی جائے گی۔
ذرائع کے مطابق ترکیہ اور قطر کی میزبانی میں مذاکرات ہو رہے ہیں جن کا مقصد دہشت گردی کے خاتمے اور امن کو برقرار رکھنے کے لیے نگرانی اور تصدیق کا طریقہ کار وضح کرنا ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ پاکستان اور افغان طالبان رجیم کے درمیان آج پرنسپل سطح پر ملاقات ہو گی، ثالثوں کی موجودگی میں مذاکرات جاری رہیں گے۔
برطانوی نشریاتی ادارے نے رپورٹ دی ہے کہ افغان حکام کے مطابق مذاکرات کے دوران اچھا ماحول رہا، وفد میں طالبان حکومت کے انٹیلی جنس چیف عبدالحق واثق، نائب وزیر داخلہ رحمت اللہ نجیب، دوحہ میں طالبان حکومت کے سفیر سہیل شاہین، انس حقانی، وزارت خارجہ کے دوسرے شعبے کے سربراہ، عبدالقہار بلخی، ایک اور اہلکار ظہیر بلخی اور ایک اور سرکاری اہلکار شامل ہیں۔
ذرائع کے مطابق مذاکرات دو روز تک جاری رہیں گے تاہم اگر ضرورت پڑی تو ان میں مزید دنوں کی توسیع کی جا سکتی ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرسنی اتحاد کونسل کے مرکزی رہنما صاحبزادہ حامد رضا گرفتار، جیل منتقل سنی اتحاد کونسل کے مرکزی رہنما صاحبزادہ حامد رضا گرفتار، جیل منتقل ستائیسویں ترمیم پر مشاورت کیلئے آج طلب کیا گیا وفاقی کابینہ کا اجلاس ملتوی پنجاب اسمبلی میں 27 ویں آئینی ترمیم کے حق میں قرارداد جمع سینیٹ میں ستائیسویں آئینی ترمیم پیش ہونے کے دن سینیٹرز کے اعزاز میں خصوصی ناشتہ ہوگا قازقستان نے اسرائیل کے ساتھ ابراہیمی معاہدے میں شمولیت اختیار کرلی، ٹرمپ کا اعلان پی ٹی آئی رہنماؤں کے وارنٹ گرفتاری کا معاملہ، اسلام آباد پولیس کے پی ہاؤس پہنچ گئیCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
پڑھیں:
بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔
علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔
علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔