قطر کا افغان امن عمل میں اہم کردار، مذاکرات کی راہ ہموار ہوئی: صدر
اشاعت کی تاریخ: 7th, November 2025 GMT
اسلام آباد(نمائندہ خصوصی) صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ قطر نے خطے میں امن کے لیے اہم ثالث کا کردار ادا کیا، قطر کی سہولت کاری سے افغان امن عمل کی راہ ہموار ہوئی۔صدر آصف علی زرداری نے قطر کے اخبار‘‘دی پیننسولا ’’کو خصوصی انٹرویو میں بتایا کہ خطے میں امن اور مکالمے کے فروغ کے لئے قطر کے تعمیری کردار کو سراہتے ہیں، قطر نے خطے میں امن کے لیے اہم ثالث کا کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور قطر کے درمیان شراکت علاقائی امن، توانائی کے تحفظ اور سماجی ترقی کے لیے سٹریٹجک اہمیت کی حامل ہے ، پاکستان اور خلیجی ممالک افرادی قوت کی دستیابی ، مہارت کے فروغ اور پائیدار سرمایہ کاری میں تعاون بڑھا سکتے ہیں۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ قطر نے خصوصاً حماس اور بین الاقوامی فریقوں کے درمیان مذاکرات میں سہولت فراہم کرنے اور امریکہ اورطالبان کے درمیان مذاکرات کی میزبانی کی، قطر کی سہولت کاری سے افغان امن عمل کی راہ ہموار اور پاکستان کے علاقائی تحفظات سے متعلق اہم پیش رفت ہوئی۔صدر مملکت نے کہا کہ دوحہ عالمی عمل کا مقصد علاقائی اور عالمی سطح پر اشتراکی امکانات پیدا کرنا ہے ، ہم غربت، تعلیم اور صحت کے مسائل سے کوسماجی تحفظ اور انسانی وسیلے میں سرمایہ کاری کے ذریعے حل کر رہے ہیں، موسمیاتی تبدیلی براہ راست روزگار اور زندگی کو متاثر کرتی ہے ، دوحہ اعلامیہ میں سماجی تحفظ اور موسمیاتی موافقت کو تسلیم کیا گیا۔انہوں نے بتایا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت 90 لاکھ سے زائد خاندانوں کو براہِ راست مالی امداد فراہم کی جا رہی ہے ، وسیلہ تعلیم اور نشوونما جیسے پروگرام بچوں کی تعلیم اور غذائی معیار کو بہتر بنا رہے ہیں، پاکستان کی سماجی پالیسی دوحہ اعلامیے کے اس اصول کے مطابق ہے جس میں یونیورسل سوشل پروٹیکشن اور جامع معاشی بحالی پر زور دیا گیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ سیلاب متاثرین کیلئے نقد امداد نے تیز بحالی میں اہم کردار ادا کیا، پاکستان سماجی تحفظ نظام کو موسمیاتی استحکام کیلئے مزید مضبوط بنا رہا ہے ۔علاوہ ازیں صدر آصف علی زرداری سے الجزیرہ کے ڈائریکٹر جنرل ناصر بن فیصل بن خلیفہ الثانی کی دوحہ میں ملاقات کی ۔ صدر نے قطر کی میزبانی اور قطری قیادت سے ہونے والی مفید ملاقاتوں پر اطمینان کا اظہار کیا۔ فلسطینی عوام کے حق میں قطر کے اصولی مؤقف اور امنِ غزہ کیلئے قیادت کو سراہا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: انہوں نے نے کہا قطر کے کہا کہ
پڑھیں:
سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
پاکستان نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی آئل ٹینکر پر حملے اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی کو درپیش خطرات کی پرزور الفاظ میں مذمت کی ہے اور سعودی عرب کی سلامتی و خودمختاری کے لیے اپنی مکمل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے جمعرات کو سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ٹیلی فونک رابطہ کر کے بحرِ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حوثی ملیشیا کے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔وزیراعظم نے حملے کو بزدلانہ اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ ”ایسے اقدامات قطعی ناقابلِ قبول ہیں. یہ بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں، جہاز رانی اور تجارتی نقل و حمل کی آزادی کے لیے خطرہ ہیں اور علاقائی امن، سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچاتے ہیں“۔وزیراعظم نے سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں خود، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور پوری پاکستانی قوم اس نازک وقت میں سعودی قیادت اور مملکت کے برادر عوام کے ساتھ مضبوطی اور عزم کے ساتھ کھڑے ہیں۔انہوں نے مزید یقین دہانی کرائی کہ پاکستان مملکت سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت کرتا ہے اور بحرِ احمر، آبنائے ہرمز اور خطے میں سمندری تجارت کی روانی کو یقینی بنانے کے لیے عالمی برادری اور سعودی عرب کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا۔گفتگو کے دوران سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے پاکستان کی اس مستقل حمایت اور دونوں ممالک کے درمیان قائم قریبی برادرانہ تعلقات کی تعریف کی۔ اس موقع پر وزیراعظم پاکستان نے خادمِ حرمین شریفین، شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے لیے بھی نیک خواہشات اور خیر سگالی کے جذبات کا اظہار کیا۔
دوسری جانب، دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”گزشتہ ہفتے بھی حوثیوں کی جانب سے حملہ کیا گیا تھا. جس کی وزیراعظم پاکستان نے فوری مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا تھا“۔طاہر اندرابی نے کہا کہ ہمارے بحری جہازوں پر حملہ ریڈلائن ہوگی. ہم سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور سعودی عرب کے ساتھ تمام معاہدوں کی پاسداری کریں گے۔انہوں نے خبردار کیا کہ یمن کے مسلح گروہوں کی جانب سے سعودی عرب پر ایسے حملے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں، اس لیے پاکستان تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور مسائل کا پرامن حل سفارتی راستے سے نکالنے کی اپیل کرتا ہے۔خطے میں امن قائم کرنے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان نے اپنی سفارتی رفت و آمد میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔ترجمان کے مطابق حال ہی میں ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے پاکستان کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے وزیراعظم، فیلڈ مارشل اور وفاقی وزیر داخلہ سمیت اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کیں تاکہ علاقائی سیکیورٹی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔اس کے علاوہ پاکستان اور کویت کے وزرائے خارجہ کے درمیان رابطہ ہوا، جبکہ منیلا میں آسیان ریجنل فورم کے موقع پر نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے مصر، عمان، فلپائن، روس اور بنگلہ دیش کے وزرائے خارجہ سے الگ الگ اہم ملاقاتیں کیں۔ان ملاقاتوں کی تفصیل بتاتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ ”مصر کے وزیر خارجہ سے ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے تمام ممالک کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کے احترام پر زور دیا، جبکہ عمان کے وزیر خارجہ نے خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور امن و استحکام کے لیے پاکستان کے سفارتی کردار کو سراہا“۔اس کے ساتھ ساتھ روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ خلیل الرحمان سے بھی باہمی تعلقات اور تعاون کو آگے بڑھانے پر بات چیت کی گئی۔ترجمان دفترِ خارجہ نے مزید بتایا کہ پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اب شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے وزرائے خارجہ کونسل اجلاس میں شرکت کے لیے بشکیک پہنچیں گے. جہاں ان کی کرغزستان کے صدر اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں متوقع ہیں۔ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند نے بھی حال ہی میں پاکستان کا دورہ کیا ہے، جو گزشتہ بیس سالوں میں کسی کینیڈین وزیر خارجہ کا پہلا دورہ تھا اور اس دوران دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کی مضبوطی کے لیے اعلیٰ سطح پر بات چیت کی گئی۔