استنبول میں مذاکرات کا تیسرا دور، افغانستان کی طرف سے فائرنگ: ذمہ دارانہ جواب دیا، سیز فائر برقرار: پاکستان
اشاعت کی تاریخ: 7th, November 2025 GMT
اسلام آباد (اپنے سٹاف رپورٹر سے) وزارتِ اطلاعات و نشریات نے جمعرات کو جاری بیان میں کہا ہے کہ ہم پاک افغان چمن بارڈر کے واقعہ پرافغانستان کی جانب سے گردش کرنے والی اطلاعات کو سختی سے مسترد کرتے ہیں وزارت اطلاعات و نشریات نے کہا کہ فائرنگ افغانستان کی طرف سے شروع ہوئی جس کا سیکورٹی فورسز نے فوری اور ذمہ دارانہ انداز میں جواب دیا وزارتِ اطلاعات و نشریات نے کہا کہ پاکستانی فورسز کی ذمہ دارانہ کارروائی سے صورتحال پر قابو پالیا گیاجنگ بندی بدستور برقرار ہے، وزارت اطلاعات و نشریات نے کہا کہ پاکستان جاری مذاکرات کیلئے پرعزم ہے اور افغان حکام سے باہمی تعاون کی توقع رکھتا ہے۔
اسلا م آباد (نوائے وقت رپورٹ)پاکستان اور افغانستان کے درمیان مذاکرات کا تیسرا دور استنبول میں ہوا۔ترکیہ اور قطر کے میز بانوں کی وفود سے ملاقاتیں،مصالحت کاروں کی الگ ملاقات کے بعد دونوں وفود آمنے سامنے بیٹھے ۔ترکیہ کی وزارت خارجہ کے مطابق اجلاس میں دونوں ممالک جنگ بندی کے نفاذکے طریقہ کار کو حتمی شکل دینگے اور نگرانی و تصدیقی نظام قائم کرنے پر اتفاق ہو ا ہے۔جو جنگ بندی کی خلاف ورزی پر کارروائی کو یقینی بنائے گا۔وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ ہمارا مطالبہ ہے کہ افغان سر زمین سے دہشتگردی نہ ہو۔مذاکرات میں پیش رفت کا امکان ہوتا ہے تبھی بات کی جاتی ہے۔اگر پیش رفت کا امکان نہ ہو تو پھر وقت کا ضیاع ہوتا ہے۔مذاکرات کامیاب نہیں ہوتے تو قومی سلامتی یقینی بنائی جائیگی۔امید ہے خطے میں قیام امن کیلئے افغان طالبان دانش مندی سے کام لیں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: اطلاعات و نشریات نے
پڑھیں:
وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے
افغانستان کے صوبے بدخشاں میں سونے کی کانوں، غیر قانونی دولت، مسلح گروہوں کے باہمی مفادات اور قدرتی وسائل پر کنٹرول کے تنازع نے طالبان حکومت کے اندر بڑھتے ہوئے اختلافات کو نمایاں کردیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق بدخشاں کی صورتحال طالبان کے سرکاری بیانیے سے مختلف تصویر پیش کرتی ہے، جہاں مختلف دھڑے عوامی فلاح یا حکمرانی کے بجائے سونے کے ذخائر، منشیات سے حاصل ہونے والی آمدنی، غیر قانونی مالی فوائد اور طاقت کے حصول کے لیے ایک دوسرے کے مدمقابل دکھائی دیتے ہیں۔
سونے کے ذخائر پر کشمکش، قندھاری قیادت پر الزاماتبدخشاں میں سونے کی کانوں پر جاری تنازع نے طالبان کے اندر موجود گہرے اختلافات کو نمایاں کر دیا ہے۔
مقامی سطح پر اس بات پر ناراضی پائی جاتی ہے کہ قندھاری طالبان قیادت مبینہ طور پر کانوں، آمدنی کے ذرائع، ریاستی اختیارات اور معاشی فوائد پر اپنا کنٹرول مضبوط کرنے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ مقامی طالبان عناصر کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔
10 ہزار جنگجوؤں کا دعویٰ، انتظامی بیان یا طاقت کا مظاہرہ؟صوبہ زابل کے طالبان نائب گورنر ملا جمعہ خان فتح کی جانب سے 10 ہزار جنگجوؤں پر کمانڈ رکھنے کا دعویٰ بھی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ بیان ایک فعال انتظامیہ کے نمائندے کے بجائے ایسے مسلح دھڑے کے رہنما کا تاثر دیتا ہے جو دولت، اثر و رسوخ اور اختیار کی اندرونی کشمکش میں اپنی طاقت دکھانے کے لیے تیار ہے۔
تحقیقات کا حکم، بدعنوانی کے اعتراف کے مترادف قرارطالبان رہنما کی جانب سے غیر قانونی کان کنی، منشیات کی تجارت اور شہریوں پر مظالم کے الزامات کی تحقیقات کا حکم اس بات کا اعتراف سمجھا جا رہا ہے کہ طالبان نظامِ حکومت کے اندر مجرمانہ مالی مفادات، وسائل کے استحصالی استعمال اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے مسائل موجود ہیں۔
اسلامی انصاف کا دعویٰ سوالات کی زد میںرپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان اقتدار سنبھالنے کے بعد بعض عہدیداروں کی اچانک بڑھتی ہوئی دولت، کانوں پر کنٹرول کے لیے دھڑوں کی کشمکش اور ہزاروں جنگجوؤں تک رسائی کے دعوے طالبان کے ’اسلامی انصاف‘ کے بیانیے کو کمزور کرتے ہیں۔ اس صورتحال کو وسائل کی لوٹ مار، عسکری بدعنوانی اور جنگجو سرداروں کی طرز کی سیاست سے تشبیہ دی گئی ہے۔
بدخشاں طالبان طرز حکمرانی کی عکاس تصویررپورٹ کے مطابق بدخشاں میں سونے کے مافیا، منشیات پر مبنی معیشت، مسلح سرپرستی کے نظام، شہریوں کو دباؤ میں رکھنے کے حربے اور مختلف جنگجو گروہوں کے درمیان مسابقت طالبان حکمرانی کی ایک واضح تصویر پیش کرتی ہے۔
اس صورتحال میں مقامی آبادی استحصال کا سامنا کررہی ہے جبکہ طالبان کے مختلف حلقے وسائل اور اثر و رسوخ کے حصول کی دوڑ میں مصروف ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق طالبان نے اقتدار میں آنے سے قبل نظم و ضبط، احتساب اور بدعنوانی کے خاتمے کے وعدے کیے تھے، تاہم بدخشاں کی صورتحال قندھاری قیادت کے مبینہ اختیارات پر قبضے، اندرونی اختلافات، معدنی وسائل کی لوٹ مار، منشیات سے جڑی بدعنوانی اور مسلح گروہی طرز عمل کو نمایاں کرتی ہے، جس سے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ طالبان حکومت ایک مرکزی ریاستی نظام کے بجائے مختلف مسلح نیٹ ورکس کے اتحاد کی صورت اختیار کر چکی ہے جو اقتدار اور وسائل کی تقسیم پر باہمی کشمکش میں مبتلا ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews اختلافات افغان طالبان وسائل پر قبضے کی جنگ وی نیوز