کوئٹہ میں پی ٹی آئی کا جلسہ، شہر کے راستے بند، انٹرنیٹ سروس معطل، دفعہ 144 نافذ
اشاعت کی تاریخ: 7th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کوئٹہ: بلوچستان کے دارالحکومت میں موسم سرما ہے، تاہم سیاسی درجہ حرارت گرم ہے، جہاں پاکستان تحریک انصاف اور تحریک تحفظِ آئینِ پاکستان کے جلسے کے پیش نظر ضلعی انتظامیہ نے شہر بھر میں ہنگامی اقدامات کیے ہیں۔
نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ضلعی انتظامیہ نے سیکورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے جلسے کی اجازت مسترد کر دی ہے اور شہر کے تمام مرکزی راستوں کو ٹرکوں اور کنٹینروں سے بند کر دیا گیا ہے۔ دوسری جانب اس فیصلے کے باعث شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے جبکہ شہر میں موبائل انٹرنیٹ سروس بھی مکمل طور پر معطل کر دی گئی ہے۔
ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ شہر میں امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے کے لیے یہ اقدامات ناگزیر ہیں۔ انتظامیہ کے مطابق صوبے بھر میں ایک ماہ کے لیے دفعہ 144 نافذ کر دی گئی ہے، جس کے تحت کسی بھی قسم کے عوامی اجتماع یا سیاسی جلسے پر مکمل پابندی عائد ہے۔
اس سلسلے میں شہر کے داخلی اور خارجی راستوں پر پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بھاری نفری تعینات کی گئی ہے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے نمٹا جا سکے۔
دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف نے حکومت کے اس فیصلے کو غیر آئینی اور غیر جمہوری قرار دیتے ہوئے جلسہ ہر صورت کرنے کا اعلان کیا ہے۔ پارٹی کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ہاکی گراؤنڈ میں ہونے والا یہ جلسہ آئین کی بالادستی، بنیادی حقوق کی بحالی اور سیاسی آزادی کے تحفظ کے لیے منعقد کیا جا رہا ہے۔ حکومت کی جانب سے راستوں کی بندش اور انٹرنیٹ سروس کی معطلی عوامی آزادیوں پر حملہ ہے، جو جمہوری اقدار کے منافی ہے۔
اس کشمکش کی وجہ سے شہریوں کی مشکلات میں بھی شدید اضافہ ہو گیا ہے۔ کوئٹہ کی مرکزی شاہراہیں، چوراہے اور تجارتی مراکز مکمل طور پر بند ہونے کے باعث ٹریفک جام کی صورتحال نے عوام کو پریشان کر دیا ہے۔ خاص طور پر اسکول، کالج اور یونیورسٹی جانے والے طلبہ شدید متاثر ہوئے ہیں۔
دریں اثنا شہر میں سیکورٹی فورسز کو ہائی الرٹ پر رکھا گیا ہے اور شہر کے حساس مقامات پر خصوصی نگرانی جاری ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: شہر کے
پڑھیں:
کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) بلوچستان نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔
انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لیے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے کا کہنا تھا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔
بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لیے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔