عوام ڈینگی وائرس کے پھیلائو کے خاتمے کیلیے تعاون کریں
اشاعت کی تاریخ: 7th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
حیدرآباد(اسٹاف رپورٹر)وزیر اعلیٰ سندھ کے مشیر برائے بحالی عبدالجبار خان نے کہا ہے کہ ڈینگی وائرس کے پھیلاؤ کے خاتمے کیلئے حیدرآباد کے شہری ، ضلعی انتظامیہ ، بلدیہ انتظامیہ اور محکمہ صحت سمیت دیگر متعلقہ اداروں سے تعاون کریں ، ڈینگی وائرس بداحتیاطی کے باعث گھروں میں پرورش پارہا ہے جس سے بڑی تعداد میں لوگ متاثر ہورہے ہیں، شہریوں کو چاہئے کہ وہ گھروں میں جمع ہونے والے پانی کو صاف رکھیں کیونکہ ڈینگی مچھر گھروں میں موجود صاف پانی میں پیدا ہوتا ہے اور وہیں پرورش پاتا ہے اس کے علاوہ ڈینگی کے متاثرہ شخص کو الگ رکھیں اور گھروں کے اندر مچھر مار اسپرے کریں ، انہوں نے کہاکہ بلدیہ انتظامیہ خاص طورپر میئر حیدرآباد نے بڑے پیمانے پر مچھر مار اسپرے کی مہم چلائی ہوئی ہے اور یوسی کی سطح پر یہ مہم چلائی جارہی ہے۔ انہوںنے کہاکہ بدقسمتی سے ڈینگی کے پھیلاؤ میں اضافہ ہوا ہے جبکہ صوبائی حکومت کی خصوصی ہدایت ہے کہ اس وباء سے بچاؤ کیلئے ہر ممکن اقدامات کئے جائیں۔ اس سلسلے میں خود بھی مکمل آگاہی حاصل کریں اور اپنے عزیز واقارب و دوست واحباب اور اہل محلہ کو ڈینگی سے بچاؤ اور احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کے حوالے سے مکمل آگاہی دیں ، جلد ہی ڈینگی ختم ہوجائیگا حکومت نے تمام سرکاری اور نیم سرکاری اسپتالوں میں ڈینگی وارڈ قائم کئے ہوئے ہیں اس کے علاوہ او پی ڈی اور دیگر شعبے میں ڈینگی کے مریضوں کا مفت علاج کیا جارہا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
علماء کا سرویکل کینسر سے بچاؤ کی مہم میں محکمہ صحت کے ساتھ تعاون کا اعلان
پشاور (بیورو رپورٹ) خیبر پی کے کے علماء کرام نے سرویکل کینسر سے بچاؤ کی مہم میں محکمہ صحت کے ساتھ بھرپور تعاون کا اعلان کر دیا۔ اس ضمن میں محکمہ صحت خیبر پی کے نے یونیسیف کے تعاون سے متحدہ علماء بورڈ خیبر پی کے اور تنظیمات المدارس خیبر پی کے کے اشتراک سے سرویکل کینسر سے بچاؤ کے موضوع پر ایک اہم مشاورتی ورکشاپ کا انعقاد کیا۔ ورکشاپ میں مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے ممتاز علماء کرام نے شرکت کی۔ ورکشاپ کا مقصد علماء کرام اور محکمہ صحت کے درمیان اعتماد، تعاون اور مشترکہ کوششوں کو فروغ دینا تھا تاکہ خواتین اور بچیوں کو سروائیکل کینسر سے محفوظ رکھنے کے لیے مؤثر آگاہی پیدا کی جا سکے۔ اجلاس کے دوران علماء کرام نے اس اقدام کو سراہا اور کئی اہم سفارشات پیش کیں۔ انہوں نے ویکسین کے اجزاء، حفاظت اور تیاری کے بارے میں واضح معلومات فراہم کرنے، سوشل میڈیا، ٹی وی، ریڈیو، جمعہ کے خطبات، بل بورڈز، ہسپتالوں اور دیگر ذرائع سے بھرپور آگاہی مہم چلانے، علماء اور ماہر ڈاکٹروں کی مشاورت سے مشترکہ فتویٰ جاری کرنے، کینسر کے ماہرین اور علماء کے درمیان مسلسل رابطہ رکھنے، تمام مکاتب فکر کو ساتھ لے کر چلنے، بچیوں کی رازداری اور پردے کا مکمل خیال رکھنے اور محکمہ صحت کی قیادت میں آگاہی مہم کو آگے بڑھانے پر زور دیا۔