غزہ کا المیہ پوری امت اور انسانیت کا امتحان ہے، حکمران فیل ہو چکے ہیں،علامہ جواد نقوی
اشاعت کی تاریخ: 5th, November 2025 GMT
جوہر آباد خوشاب میں وحدت امت کانفرنس سے خطاب میں تحریک بیداری امت مصطفیٰ کے سربراہ سمیت دیگر مقررین کا کہنا تھا کہ پاکستانی قوم مظلوم کے حق میں آواز اٹھائے تو نتیجہ بدل سکتا ہے، غزہ کے مظلوم بچے اور خواتین اس امتحان کے کامیاب ترین کردار ہیں، قرآن کو نصابِ حیات نہ بنانے کی سزا امت بھگت رہی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ تحریکِ بیداریِ اُمتِ مصطفیٰ ﷺ کے زیراہتمام سالانہ وحدتِ اُمت کانفرنس بعنوان "غزہ کے میدان میں اُمت کا امتحان" العزیز میرج ہال، جوہرآباد خوشاب میں منعقد ہوئی، جس کی صدارت سربراہ تحریکِ بیداریِ اُمتِ مصطفیٰ ﷺ علامہ سید جواد نقوی نے کی۔ اس موقع پر مختلف مذہبی و سیاسی جماعتوں کے قائدین، جید علمائے کرام، مشائخ، ماہرینِ تعلیم، وکلا، صحافیوں اور دیگر طبقات نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔
کانفرنس سے خطاب کرنے والوں میں صدر اتحاد المدارس العربیہ پاکستان مفتی محمد زبیر فہیم، مرکزی ڈپٹی جنرل سیکرٹری جمعیت علمائے پاکستان (نورانی)علامہ حیدر علوی، امیر جماعتِ اسلامی ضلع خوشاب علامہ فداالرحمن، صدر منہاج القرآن ضلع خوشاب حافظ محمد بلال اعوان، مہتمم جامعہ کنزالایمان خوشاب پروفیسر ڈاکٹر مفتی وحید حیدر قادری، مدرس جامعہ دارالعلوم جعفریہ خوشاب مولانا زکی الحسین خان، امام جمعہ و جماعت ماہپور خوشاب مولانا سید عمار شاہ نقوی اور امام جمعہ مسجد امیر حمزہ خوشاب مولانا مفتی عزیزالرحمن نمایاں تھے۔
مرکزی خطاب میں علامہ سید جواد نقوی نے کہا کہ غزہ کا سانحہ پوری امت اور انسانیت کے ایمان و ضمیر کا امتحان ہے، جس میں عالمی ادارے، انسانی حقوق کی تنظیمیں اور بیشتر مسلم حکمران ناکام ہو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دو ارب مسلمانوں کی موجودگی کے باوجود امت نے وہ کردار ادا نہیں کیا جو قرآن و شریعت کا تقاضا تھا، اور یہی امت کی مجموعی ناکامی کا ثبوت ہے۔ انہوں نے غزہ کے بچوں، خواتین اور عوام کی قربانیوں کو ایمان و استقامت کی روشن مثال قرار دیتے ہوئے کہا کہ مسلمانوں کے تعلیمی و فکری ادارے قرآن سے دور ہیں اور یہی انحراف امت کی کمزوری کی اصل وجہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر قرآن کو فرد، معاشرے اور ریاست کا حقیقی نصاب بنایا جاتا تو امت آج ذلت و انتشار کا شکار نہ ہوتی۔
علامہ جواد نقوی نے حماس، حزب اللہ، یمن کے مجاہدین اور ایران کی قیادت کو مزاحمت و غیرتِ ایمانی کا عملی نمونہ قرار دیا۔ علامہ جواد نقوی نے اسرائیل و امریکہ نواز پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جو حکمران اپنے عوام اور مظلوم فلسطینیوں کا سودا عالمی مفادات کیلئے کرتے ہیں، وہ امت کے امتحان میں بدترین درجے میں فیل ہو چکے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستانی قوم ایک باحمیت ملت ہے، جسے صالح قیادت اور قرآنی نصاب کی رہنمائی کی ضرورت ہے اور اگر پاکستانی قوم اور دینی قیادت بیدار ہو کر مظلوموں کے حق میں آواز اٹھائے تو تاریخ کا نتیجہ بدلا جا سکتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: جواد نقوی نے انہوں نے کہا کہ
پڑھیں:
بلاول بھٹو زرداری کی فیلڈ مارشل کی امن کوششوں کیلئے دعا
گلگت: بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ وہ دعا گو ہیں کہ جنگ کے خاتمے کے لیے فیلڈ مارشل کی کوششیں کامیاب ہوں کیونکہ خطے اور دنیا میں امن کا قیام وقت کی اہم ضرورت ہے۔
گلگت بلتستان میں انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ایران میں ایک اسکول پر میزائل حملے کے نتیجے میں معصوم بچوں کی شہادت افسوسناک ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جنگ کا بوجھ صرف متاثرہ ممالک ہی نہیں بلکہ دنیا بھر کے عوام اٹھا رہے ہیں، اس لیے امن کی تمام کوششوں کا کامیاب ہونا ضروری ہے۔
پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے کہا کہ ملک میں کوئی ایسا سیاستدان نہیں جس نے ان کی طرح ملک کے مختلف علاقوں کا دورہ کیا ہو۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ وہ گلگت بلتستان کی ہر تحصیل تک پہنچے ہیں اور عوام کے مسائل سے بخوبی آگاہ ہیں۔
انہوں نے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ ملک کا واحد ایسا فلاحی پروگرام ہے جو براہِ راست غریب عوام تک پہنچتا ہے۔ ان کے مطابق اس پروگرام کے خلاف کی جانے والی تمام سیاسی سازشیں ناکام ہوں گی۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ پاکستان کے دفاع کو مضبوط بنانے میں ذوالفقار علی بھٹو اور شہید بینظیر بھٹو کا تاریخی کردار رہا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ملک کو دفاعی اور معاشی دونوں لحاظ سے مضبوط ہونا چاہیے اور ایسی معاشی پالیسی اختیار کی جانی چاہیے جس سے عام آدمی کو فائدہ پہنچے۔
انہوں نے گلگت بلتستان کے عوام کو یقین دلایا کہ پیپلز پارٹی مقامی لوگوں کو ان کے وسائل پر حق ملکیت دلانے کے لیے کام کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ترقیاتی منصوبوں میں مقامی آبادی کو حصہ دار بنایا جانا چاہیے تاکہ ترقی کے ثمرات سب سے پہلے مقامی لوگوں تک پہنچ سکیں۔
چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ اگر عوام نے انتخابات میں ان کی جماعت پر اعتماد کیا تو گلگت بلتستان میں صحت، تعلیم اور دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی کو مزید بہتر بنایا جائے گا۔